Mar 16, 2026 01:45 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
(اعلانِ عام / دعوت نامہ )علم و ادب کے شائقین کے لیے ایک باوقار اور تاریخی موقع

(اعلانِ عام / دعوت نامہ )علم و ادب کے شائقین کے لیے ایک باوقار اور تاریخی موقع

15 Mar 2026
1 min read

(اعلانِ عام / دعوت نامہ )علم و ادب کے شائقین کے لیے ایک باوقار اور تاریخی موقع

نہایت خوشی اور فخر کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے کہ صوفی اکیڈمی خانقاہ سہروردیہ چشتیہ خلیل پور شریف کے زیرِ اہتمام بعنوان "ہندوستان کی سالمیت اور ترقی میں صوفیائے کرام کا حصہ" ایک روزہ قومی کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے. یہ عظیم الشان علمی و فکری اجتماع بروز ہفتہ 4 اپریل 2026ء کو چندرا شیکھر آزاد پارک (کمپنی باغ) واقع الہ آباد میوزیم کے پنڈت برج موہن ویاس آڈیٹوریم میں منعقد ہوگا.

یہ کانفرنس اپنے موضوع کے اعتبار سے نہایت اہم ہے کیونکہ صوفیائے کرام نے ہندوستان کی تہذیبی ہم آہنگی، قومی یکجہتی، مذہبی رواداری اور سماجی ترقی میں جو کردار ادا کیا ہے وہ ہماری تاریخ کا روشن باب ہے. اسی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ملک بھر کی ممتاز علمی شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے جو اپنی تحقیق، تجربے اور فکری بصیرت سے اس نشست کو یادگار بنائیں گی.

پروگرام کا آغاز استقبالیہ کلمات سے ہوگا جو ڈاکٹر فاضل احسن ہاشمی (شعبۂ اردو، لکھنؤ یونیورسٹی) پیش کریں گے. ڈاکٹر ہاشمی اردو ادب کے سنجیدہ محقق اور ناقد ہیں اور علمی حلقوں میں ایک معتبر نام کے طور پر جانے جاتے ہیں. ان کی قیادت میں شعبۂ اردو نے تحقیق و تنقید کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اس کے بعد تعارفی کلمات پروفیسر صالحہ رشید (سابق صدر شعبۂ عربی و فارسی، الہ آباد یونیورسٹی) پیش کریں گی. وہ فارسی و اردو علوم کی ممتاز دانشور، محقق اور ماہرِ تعلیم ہیں. کلاسیکی اور جدید ادب پر ان کی گہری نظر ہے اور ان کی علمی خدمات اہلِ علم میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں. افتتاحی تقریر سینیئر پروفیسر سید سراج الدین اجملی (شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) فرمائیں گے. وہ اردو تنقید و تحقیق کی 

دنیا کا معتبر حوالہ ہیں اور جدید تحقیقی رجحانات کے فروغ میں ان کا کردار نہایت اہم رہا ہے.کانفرنس کا کلیدی خطبہ سینیئر پروفیسر علیم اشرف خان (صدر شعبۂ فارسی، دہلی یونیورسٹی) پیش کریں گے. وہ فارسی اور اردو زبان و ادب کے ممتاز محقق ہیں اور بالخصوص صوفیانہ ادب، کلاسیکی متون اور قدیم علمی ورثے کی تحقیق میں ان کی خدمات نمایاں ہیں. ان کی تحقیق نے نئی نسل کو قدیم علمی ذخیرے سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے.

مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے سینیئر پروفیسر مسعود انور علوی شرکت فرمائیں گے جو سابق صدر شعبۂ عربی، سابق ڈین فیکلٹی آف آرٹس اور موجودہ پرنسپل ویمنس کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہیں۔ تحقیق، تنقید اور تعلیمی نظم و نسق کے میدان میں ان کا وسیع تجربہ اس کانفرنس کی وقعت میں اضافہ کرے گا. مہمانِ اعزازی پروفیسر عمر کمال الدین (سابق صدر شعبۂ فارسی، لکھنؤ یونیورسٹی) ہوں گے جو فارسی تحقیق و تدریس کا معتبر نام ہیں. انہوں نے طویل عرصے تک فارسی زبان و ادب کی خدمت کی اور بے شمار طلبہ کی علمی رہنمائی کی.اس باوقار علمی اجتماع کی صدارت پدم شری، امریطس پروفیسر اختر الواسع فرمائیں گے. وہ سابق صدر شعبۂ 

اسلامیات، سابق ڈین فیکلٹی برائے علومِ انسانی و لسانیات جامعہ ملیہ اسلامیہ اور سابق وائس چانسلر مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور رہ چکے ہیں. ان کا شمار ملک کی ممتاز علمی و فکری شخصیات میں ہوتا ہے. انہوں نے قومی یکجہتی، بقائے باہم، اعتدال پسندی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے. ان کی تحریریں اور تقاریر اتحاد ملت، حب الوطنی اور انسان دوستی کا روشن پیغام دیتی ہیں اور ان کی موجودگی کسی بھی علمی پروگرام کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی ہے. پروگرام کے اختتام پر اظہارِ تشکر ڈاکٹر شبیب انور علوی (شعبۂ فارسی، لکھنؤ یونیورسٹی) پیش کریں گے. وہ فارسی و اردو ادب کے فعال محقق اور نقاد ہیں اور ادبی تحقیق کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں.

اس کے علاوہ ملک کے معروف علماء، ادباء اور شعراء بھی اپنی علمی و ادبی گفتگو سے اس محفل کو رونق بخشیں گے. یہ کانفرنس مختلف زبانوں اور علمی حلقوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوگی اور صوفی تعلیمات کے سماجی و قومی اثرات کو نئی جہت دے گی.

تمام اہلِ علم، اساتذہ، طلبہ، محققین اور ادب دوست حضرات سے پرخلوص دعوت ہے کہ اس بابرکت اور باوقار علمی اجتماع میں شرکت فرما کر اسے کامیاب بنائیں. آپ کی موجودگی اس کانفرنس کی معنویت اور تاثیر میں اضافہ کرے گی.

کنوینر: سید انوار صفی

کو-کنوینر: ڈاکٹر ناظر حسین

کو-کنوینر: ڈاکٹر محمد ریحان

کو-کنوینر: سید اکرام صفی (صوفی اکیڈمی)

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383