May 6, 2026 05:13 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
دارالعلوم اہلسنت قطبیہ روشن العلوم امرڈوبھا میں عرس شیر ملت کا انعقاد

دارالعلوم اہلسنت قطبیہ روشن العلوم امرڈوبھا میں عرس شیر ملت کا انعقاد

06 May 2026
1 min read

دارالعلوم اہلسنت قطبیہ روشن العلوم امرڈوبھا میں عرس شیر ملت کا انعقاد

شیر ملت مولانا الحاج عبد القدوس کشمیری علیہ الرحمہ کی شخصیت جلال و جمال کا حسین امتزاج تھی۔ قاری نثار احمد نظامی

مہنداول ، سنت کبیر نگر 

(اخلاق احمد نظامی)نیپال اردو ٹائمز 

 ملک کے مختلف مدارس، مکاتب، خانقاہ دینی،علمی اور روحانی  مراکز میں شیرِ ملت، قوم و ملت کے بے باک ترجمان، مجاہدِ سنیت، مردِ آہن، محسنِ قوم و ملت، ناشرِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، عاشقِ اعلیٰ حضرت، خلیفۂ حضور مفتیِ اعظم ہند و حضور مجاہدِ ملت، حضرت علامہ الحاج عبد القدوس کشمیری نور اللہ مرقدہ سابق خطیب و امام ہانڈی والی مسجد و سابق صدر آل انڈیا تبلیغِ سیرت ممبئی، مہاراشٹر کا بیسواں سالانہ عرسِ مقدس نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا  گیا۔ اس موقع پر قرآن خوانی ایصالِ ثواب، فاتحہ خوانی، دعائیہ تقریبات اور  سیرت و خدمات پر خطابات اور خصوصی مجالس کا انعقاد ہوگا، جہاں علماء، ائمہ، طلبہ اور محبانِ اہلِ سنت بڑی تعداد میں عقیدت مندوں نے شریک بزم ہو کر خراجِ عقیدت پیش کی دارالعلوم قطبیہ اہلسنت روشن العلوم  لیڈوامہوا امرڈوبھا شہر پنچایت بکھرا بازار میں عرس شیرملت علیہ الرحمہ پوری عقیدت کے ساتھ منایا گیا بعد نمازِ فجر قرآن خوانی ہوئی اس کے بعد معمولات اہلسنت والجماعت کے مطابق قل شریف اور فاتحہ خوانی کی گئی تاہم عرس شیر ملت کی مناسبت سے منعقد پروگرام کو خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم ہذا کے رئیس الاساتذہ و معروف خطیب قاری نثار احمد نظامی نے کہا کہ دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے وصال کے بعد بھی دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔ وقت ان کے اجسام کو خاک کے سپرد کر دیتا ہے مگر ان کے افکار، خدمات، قربانیاں اور نقوش تاریخ کے صفحات پر ثبت رہتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی میں چراغ جلاتی ہیں اور رخصت ہونے کے بعد بھی ان کی روشنی راستہ دکھاتی رہتی ہے۔ شیرِ ملت، قوم و ملت کے بے باک ترجمان، مجاہدِ سنیت، مردِ آہن، محسنِ قوم و ملت، ناشرِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، عاشقِ اعلیٰ حضرت، خلیفۂ حضور مفتیِ اعظم ہند و حضور مجاہدِ ملت، حضرت علامہ الحاج عبد القدوس کشمیری رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی درخشاں اور بافیض ہستیوں میں سے تھے۔

قاری نظامی نے کہا کہ شیر ملت علیہ الرحمہ تاحیات ہانڈی والی مسجد  ممبئی کے خطیب و امام تھے، مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ کا منبر صرف ایک مسجد تک محدود نہیں تھا بلکہ آپ پوری قوم کے احساسات کے ترجمان اور اہلِ سنت کی آواز تھے۔ آپ کی زبان میں تاثیر، لہجے میں وقار، فکر میں گہرائی اور کردار میں ایسی مضبوطی تھی کہ مخالفین بھی آپ کے عزم کے معترف تھے۔ جب آپ حق بات کہتے تو باطل کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو جاتا، اور جب آپ ملت کے درد کی بات کرتے تو مجمع پر رقت طاری ہو جاتی۔

آ قاری نظامی نے کہا کہ شیر ملت علیہ الرحمہ کا ایک سنہرا ارشاد آج بھی اہلِ درد کے لیے مشعلِ راہ ہے نصیحت کرتے ہیں کہ ''بیٹا! ہمیشہ  یاد رکھنا کہ ایسا کوئی کام نہ کرنا کہ قوم کا جنازہ

تمہارے کندھوں پر جائے، بلکہ تمہارا جنازہ قوم کے کندھوں پر اٹھے۔”

شیر ملت علیہ الرحمہ کے یہ مختصر الفاظ نہیں بلکہ حیاتِ انسانی کا مکمل دستور ہیں۔ اس میں خدمتِ قوم کا پیغام بھی ہے، ایثار کی روح بھی، غیرتِ ملی کا سبق بھی اور باوقار زندگی کا منشور بھی۔

قاری نظامی نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ برس 1993 کے ممبئی فسادات جب شہر کے افق پر خوف، آگ اور بے یقینی کے سائے منڈلا رہے تھے، ایسے وقت میں آپ نے خاموش تماشائی بننے کے بجائے مردِ میدان کا کردار ادا کیا۔ دیگر اکابر علماء کے ساتھ مختلف علاقوں کا دورہ کیا، مسلمانوں کو حوصلہ دیا، ان کے زخموں پر مرہم رکھا، مساجد و مدارس میں میٹنگیں کیں اور خوف زدہ دلوں کو سہارا دیا۔ جب حالات سمندر کی موجوں کی طرح بے قابو تھے، آپ ملت کے لیے مضبوط ساحل بن کر کھڑے رہے۔

قاری نظامی نے کہا کہ شیر ملت علیہ الرحمہ کی شخصیت جلال و جمال کا حسین امتزاج تھی۔ دشمنانِ حق کے سامنے فولاد، مگر غریبوں، مجبوروں اور پریشان حال لوگوں کے لیے سراپا شفقت تھے حق کے معاملے میں پہاڑ، مگر مظلوموں کے لیے سایہ دار درخت تھے جو آپ کے دروازے پر آیا، محروم واپس نہ گیا۔ جو پریشان آیا، تسلی لے کر گیا۔ جو ٹوٹا ہوا آیا، سنبھل کر گیا۔

قاری نظامی نے کہا کہ شیر ملت نے سینکڑوں مدارس،مکاتب اور دینی اداروں کی سرپرستی کی، مساجد کی آباد کاری کی، نوجوانوں میں دینی شعور بیدار کیا، مسلکِ اعلیٰ حضرت کے چراغ روشن کیے، اتحادِ ملت کا درس دیا اور قوم کو تنظیم و شعور کی راہ دکھائی۔ آپ صرف تقریر کے

مرد نہ تھے بلکہ تعمیر کے مرد تھے۔ آپ جانتے تھے کہ قومیں نعروں سے نہیں بلکہ علم، کردار اور قربانی سے بنتی ہیں۔

قاری نظامی نے کہا کہ اللہ والوں کی اشان یہ بھی رہتی ہے کہ ان کے جانے کے  بعد بھی ان کا مشن باقی رہتا ہے۔

قاری نظامی نے کہا کہ شیرِ ملت حضرت علامہ الحاج عبد القدوس کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے شہزادۂ شیرِ ملت، فخر العلماء، اعجازِ ملت حضرت علامہ اعجاز احمد کشمیری صاحب قبلہ خطیب و امام ہانڈی والی مسجد و نائب صدر جمعیت علمائے اہلِ سنت ممبئی آج اسی خانوادۂ خدمت کے امین ہیں اور اپنے والد ماجد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دینی، ملی اور سماجی میدان میں گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ کسی فرد کی نہیں بلکہ اعلیٰ تربیت اور پاکیزہ خانوادے کی کامیابی ہے۔

قاری نظامی نے کہا کہ شیر ملت علیہ الرحمہ کے وصال کو بیس برس گزر چکے ہیں، مگر آپ کا نام آج بھی زندہ ہے، آپ کی یاد آج بھی تازہ ہے، آپ کی خدمات آج بھی زبان زدِ عام ہیں اور آپ کا فیض آج بھی جاری ہے۔ ایسے رجالِ حق صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور زمانے ان پر فخر کرتے ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایسی شخصیات کو یاد رکھیں، ان کے مشن کو زندہ رکھیں، اتحادِ ملت کو مضبوط کریں، خدمتِ خلق کو اپنائیں، حق گوئی کو شعار بنائیں اور اپنی زندگیاں قوم و ملت کے فائدے کا ذریعہ بنائیں۔ اس سے قبل پروگرام کا آغاز قاری محمد اسامہ نے تلاوت کلام پاک سے کیا اس کے بعد دارالعلوم ہذا کے طلبہ نے حمد و نعت کے بعد شیر ملت علیہ الرحمہ کی شان میں منقبت کے اشعار نذر کئے پروگرام میں مولانا شہاب الدین قادری ،قاری شمشیر احمد، مولانا رحمت اللہ قادری کے علاوہ کثیر تعداد میں فرزندان توحید و رسالت موجود تھے پروگرام کا اختتام صلوۃ و سلام اور ملک و ملت کی خوشحالی کی دعا کے ساتھ ہوا

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383) weeklynepalurdutimes@gmail.com