ہر ہار کا ذمہ دار اویسی کیوں؟
محمد وسیم اکرم مصباحی
کشن گنج بہار
ہر انتخاب کے بعد ایک مخصوص طبقہ پوری شکست کا بوجھ صرف اسدالدین اویسی صاحب پر ڈالنے لگتا ہے، گویا میدان میں صرف وہی ایک جماعت لے کر اترے تھے۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب کانگریس پارٹی سمیت متعدد علاقائی اور قومی پارٹیاں بھی انتخاب لڑتی ہیں، تو ووٹ تقسیم ہونے کا الزام صرف ایک فرد یا جماعت تک کیوں محدود کر دیا جاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ نام نہاد سیکولر حلقے اپنی ناکامیوں، تنظیمی کمزوریوں اور عوامی اعتماد میں کمی کا جائزہ لینے کے بجائے ایک آسان ہدف تلاش کرتے ہیں، اور اویسی ان کے لیے سب سے موزوں نام بن جاتے ہیں۔ ویسٹ بنگال ہو یا دیگر ریاستیں، انتخابی نتائج صرف ایک پارٹی کی موجودگی یا عدم موجودگی سے طے نہیں ہوتے؛ وہاں مقامی قیادت، زمینی تنظیم، امیدواروں کی ساکھ، اتحاد کی حکمت عملی اور عوامی مسائل بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ مگر جب سنجیدہ خود احتسابی کی جگہ جذباتی پروپیگنڈا لے لے، تو پھر پورا سیاسی بیانیہ ایک ہی نام کے گرد گھومنے لگتا ہے۔ مسئلہ اویسی نہیں، بلکہ وہ سیاسی ذہنیت ہے جو اپنی ناکامیوں کا تجزیہ کرنے کے بجائے ہر بار ایک سہل قربانی کا بکرا تلاش کر لیتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ملک میں بی جے پی کو شکست دینے کی مکمل ذمہ داری بھی گویا ایک مخصوص جماعت ہی کے کندھوں پر ڈال دی گئی ہے۔ محمد وسیم اکرم مصباحی کشن گنج بہار
