ملک عزیز نیپال میں قدرتی آفت یا بڑھتا ہوا ماحولیاتی خطرہ؟
محمد حسن علیمی
لہرولی نول پراسی نیپال
نیپال کے شمالی ضلع رسووا میں میتی دن بدھ کو آنے والے اچانک اور انتہائی تباہ کن سیلاب نے ایک بار پھر دنیا کو ہمالیائی خطے کی قدرتی آفات کی شدت کا احساس دلایا ہے۔ بھوٹے کوشی اور لَہینڈے دریا کے اطراف اچانک آنے والے پانی کے ریلے نے آبادیوں، سڑکوں، بازاروں اور بجلی کے منصوبوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس سانحے میں درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں افراد لاپتا ہیں، جبکہ تلاش اور امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔
رسووا کا علاقہ نیپال اور چین کی سرحد کے قریب واقع ایک پہاڑی ضلع ہے۔ یہاں بلند پہاڑ، گہری وادیاں، تیز بہنے والے دریا اور برفیلے خطے موجود ہیں۔ یہی جغرافیہ اسعلاقے کو قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور برفیلی جھیلوں کے پھٹنے جیسے خطرات سے بھی دوچار رکھتا ہے۔ اس واقعے نے چند ہی لمحوں میں معمول کی زندگی کو ایک بڑے انسانی بحران میں تبدیل کر دیا۔
اچانک آنے والے سیلاب نے سب کچھ بدل دیاہے۔رپورٹس کے مطابق سیلاب نے خاص طور پر ٹیمورے اور سیابرو بیسی کے علاقوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ پانی کے ساتھ کیچڑ، چٹانیں بھی تیزی سے نیچے آیا، جس سے دریا کے کنارے موجودہ عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اس اچانک سیلاب میں لوگوں کو سنبھلنے یا محفوظ مقام تک پہنچنے کے لیے بہت کم وقت ملا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسووا میں بہت سے لوگ اپنے گھروں، کام کی جگہوں یا سڑکوں پر پھنس گئے۔لاپتہ افراد میں مقامی شہریوں کے علاوہ غیر ملکی سیاح اور زائرین بھی شامل ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق سیکڑوں غیر ملکی شہریوں
کے بارے میں بھی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔ اس صورت حال نے امدادی اداروں کے لیے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں، کیونکہ متاثرہ علاقے میں سڑکیں اور پل بھی تباہ ہوئے ہیں۔
یہ صرف اعداد و شمار کا المیہ نہیں۔ ہر لاپتا شخص کے پیچھے ایک خاندان ہے جو اپنے عزیز کی واپسی کا انتظار کر رہا ہے۔ کسی کا بیٹا، کسی کا باپ، کسی کی ماں، کسی کا بھائی یا کسی کی بہن اس سیلاب کے بعد رابطے سے باہر ہے۔ ایسے حالات میں ہر گزرتا ہوا لمحہ متاثرہ خاندانوں کے لیے بے یقینی اور خوف میں اضافہ کررہا ہے۔
سیلاب کے بعد نیپالی فوج، پولیس اور دیگر امدادی اداروں نے تلاش اور بچاؤ کا کام شروع کر دیا۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فوج کے مطابق
سیابرو بیسی، میلنگ اور دھونچے سے متعدد افراد کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا ہے۔ اس طرح کے حالات میں صرف زخمیوں کو بچانا ہی کافی نہیں ہوتا۔ متاثرہ افراد کو فوری طور پر کھانے پینے کا بند وبست، صاف پانی، ادویات، عارضی رہائش،کی مدد بھی درکار ہوتی ہے۔اس تباہی کے پس منظر میں ماہرین کے لیے ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ ایسے انتہائی خطرناک سیلاب بار بار کیوں سامنے آ رہے ہیں۔ ہمالیائی خطہ موسمیاتی تبدیلی، برف پگھلاؤ، غیر معمولی بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور برفیلی جھیلوں سے متعلق خطرات کے حوالے سے انتہائی حساس مسئلہ ہے۔ آئیے، انسانیت کے لیے اپنا حصہ ڈالیں رسووا اور دیگر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہمارے بھائی بہن اس وقت ایک انتہائی مشکل اور آزمائش کی گھڑی سے گزر رہے ہیں۔ نیپال حکومت نے متاثرین کی امداد اور بحالی کے لیے باقاعدہ امدادی اقدامات شروع کر دیے ہیں، اور عوام سے بھی تعاون کی اپیل کی جا رہی ہے۔میں آپ سب سے مؤدبانہ گزارش کرتا ہوں کہ حکومتِ نیپال کی جانب سے جاریکردہ مستند QR کوڈ کے ذریعے اپنی استطاعت کے مطابق ضرور تعاون کریں۔ آپ کی طرف سے دیا گیا چھوٹا سا عطیہ بھی کسی ضرورت مند خاندان کے لیے کھانے، پانی، دوا یا عارضی پناہ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
یہ وقت ایک دوسرے کا سہارا بننے، انسانیت کا ساتھ دینے اور اپنے دلوں کو وسیع کرنے کا ہے۔ رقم کم یا زیادہ نہیں، نیت اور اخلاص اہم ہے۔ جو شخص جتنا آسانی سے دے سکتا ہے، وہ اتنا ضرور دے۔
اور اس نیک عمل کے ساتھ اللہ تعالی کے حضور عاجزی سے دعا بھی کریں:
یا اللہ! اس آزمائش میں مبتلا تمام لوگوں کی حفاظت فرما، جو لوگ جاں بحق ہوئےان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرما، زخمیوں کو صحت عطا فرما، لاپتا افراد کو خیریت سے ان کے خاندانوں تک پہنچا دے، اور تمام متاثرین کے لیے آسانیاں پیدا فرما ملک عزیز نیپال کی حفاظت عطاء فرما۔
آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
