Aug 30, 2026 11:19 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
نیبال میں تباہ کن سیلاب، کم از کم ۱۵۷ افراد جاں بحق، غیر ملکی شہریوں سمیت تقريباً ۷۰۰/ افراد لاپتہ

نیبال میں تباہ کن سیلاب، کم از کم ۱۵۷ افراد جاں بحق، غیر ملکی شہریوں سمیت تقريباً ۷۰۰/ افراد لاپتہ

29 Aug 2026
1 min read

نیبال میں تباہ کن سیلاب، کم از کم ۱۵۷ افراد جاں بحق، غیر ملکی شہریوں سمیت تقريباً ۷۰۰/ افراد لاپتہ

احمد رضا ابن عبدالقادر اویسی

نمائندہ نیپال اردو ٹائمز

کاٹھمانڈو

 نیپال کے رسوا اور آس پاس کے علاقوں میں بھوٹے کوشی ندی میں بدھ کی صبح اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب میں اب تک کم از کم ۱۵۷ افراد کی موت ہو گئی اور تقریباً ۷۰۰ لوگ لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد میں غیر ملکی شہری اور سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ سیلاب نے تین اضلاع میں زبردست تباہی مچائی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس تباہ کن سیلاب کی نذر لوگ مکانات، گاڑیاں اور ضروری بنیادی ڈھانچہ وغیرہ ہو گئے۔ اسے حالیہ برسوں میں نیپال کی سب سے مہلک آبی آفت کہا جا رہا ہے۔ نیپال پولیس کی ایکس پوسٹ میں دیر رات کیے گئے رسوا ضلع کے سیلاب آپ ڈیٹ میں ہلاک شدگان کی تعداد ۱۵۷ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔اس سیلاب میں لقمہ اجل بننے والے افراد کی لاشیں نیپال کے چین کے سرحدی اضلاع سے لے کر ہندوستانی سرحد سے متصل علاقوں تک میں ملی ہیں۔ 

حکومت کی جانب سے نیپال پولیس کے آپ ڈیٹ جاری کرنے سے قبل دیے گئے بیان کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ رسوا ضلع میں صرف ایک لاش اور ہندوستانی سرحد سے متصل چتون کی نارائنی ندی سے ٦٤ لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ گورکھا ضلع سے ١٩، دهادنگ ضلع سے ١٨، نواکوٹ سے ١١ تنہو سے نو نیز نول پراسی ضلع سے ایک لاش برآمد ہوئی ہے۔ اب تک ٢٤٥ مقامی افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع متعلقہ ضلع انتظامیہ کے دفاتر سے موصول ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ نیپال پولیس کے ٢٦ جوان نیپالی فوج کے ٢٢ جوان اور مسلح پولیس فورس کے ١٣ جوان لاپتہ ہو  گئے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کل ٣٨٤ سیاحوں سے بھی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ نیپال ٹورزم بورڈ کے مطابق، لاپتہ سیاحوں میں ١٣٩ بندوستانی شامل ہیں۔ ٣٧ بندوستانی نژاد این آر آئی بھی لاپتہ بتائے گئے ہیں۔نیپال پولیس کے مطابق، اب تک ٨١ زخمیوں کو اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ ان تمام کا کاٹھمانڈو اور آس پاس کے اضلاع کے اسپتالوں میں علاج کیا جا رہا ہے۔

بچاو مہم کے دوران اب تک ٢١٦ لوگوں کو زندہ بچایا گیا ہے۔ ان میں ١٢٣ افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اور ٩٣ افراد کو زمینی راستے سے بحفاظت نکالا گیا۔سیلاب کی وجہ سے کئی علاقوں کا ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ٣٥ پل اور ٤٥ سسپنشن برج بہہ گئے ہیں۔ اس سے کئی علاقوں کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ اسی طرح ٤٠ کلومیٹر تک کی ہائی وے بھی سیلاب کی زد میں آ گئی ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق صورتحال اب بھی سنگین ہے

دریائے لانگٹانگ اور اپر ترشولی خطے میں قیامت خیز سیلاب: ۱۵۷ ہلاک، ہائیڈرو پروجیکٹ کے درجنوں مزدوروں سمیت ۳۸٤ سے زائد لاپتہ

احمد رضا ابن عبدالقادر اویسی

نمائندہ نیپال اردو ٹائمز

کاٹھمانڈو نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں مون سون کی شدید بارشوں کے دوران ہمالیہ کے بلند پہاڑوں پر ایک شدید زلزلہ آیا۔ اس زلزلے کے نتیجے میں ایک بہت بڑا برفانی اور چٹانی تودہ ٹوٹ کر نیچے موجود دریائے بھوٹے کوشی اور دریائے ترشولی کے نظام میں جا گرا۔ پگھلی ہوئی برف، کیچڑ اور پانی کے اس مہیب ریلے نے دیکھتے ہی دیکھتے وادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ڈیم، بجلی کے منصوبے اور پل تنکوں کی طرح بہہ گئے۔اس آفت کا سب سے بڑا نشانہ زیرِ تعمیر ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹس کے مزدور بنے ہیں:ضلع راسووا میں واقع ۲۰ میگاواٹ کے اس زیرِ تعمیر منصوبے پر کام کرنے والے کم از کم ٦٠ ملازمین اور انجینئرز لاپتہ ہیں۔ سیلاب کے وقت یہ مزدور پروجیکٹ کی سرنگ کے اندر کنکریٹ لائننگ کا کام کررہے تھے کہ اچانک پانی کا تیز ریلا سرنگ میں داخل ہو گیا۔ اس کے علاوہ پروجیکٹ کا پاور ہاؤس بھی مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ترشولی ندی اور راسووا گڑھی ہائیڈرو پاور سینٹر کے اطراف سے مزید درجنوں ملازمین، جن میں انجینئرز، اوورسیئرز، ڈرائیور اور باورچی شامل ہیں، لاپتہ رپورٹ ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر بجلی کے مختلف منصوبوں سے لاپتہ ہونے والے ملازمین اور مزدوروں کی تعداد۱۳۳ سے تجاوز کر چکی ہے۔نیپال اور تبت دونوں اطراف میں اب تک  سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔حکام کے مطابق ۳۸٤ سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ ان میں نیپال پولیس کے ٢٨ اہلکار، پروجیکٹ مزدور اور غیر ملکی سیاح شامل ہیں۔لاپتہ افراد میں تقریباً ٢٦٥ غیر ملکی سیاح اور ٹریکرز بھی شامل ہیں، جن میں ١١٥ سے زائد بھارتی اور ٣٥ برطانوی شہری ہیں

بھوٹیکوشی، تریشولی سیلابکی تباہ کاری:۱۹ موٹر ایبل پل بہہ گئے، نظامِ زندگی درہم برہم

احمد رضا ابن عبدالقادر اویسی نمائندہ نیپال اردو ٹائمز

کاٹھمانڈو نیپال کے شمالی پہاڑی خطے میں تبت کی سرحد کے قریب آنے والے قیامت خیز سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں بھوٹیکوشی اور تریشولی دریا کے نظام میں کم از کم ١٩ موٹر ایبل پل اور ٤٠ کلومیٹر طویل سڑکیں مکمل طور پر تباہ یا شدید متاثر ہوئی ہیں۔ نیپال کے محکمہ سڑک کے ترجمان شبھ راج نیوپانے کے مطابق یہ نقصانات ابتدائی رپورٹوں پر مبنی ہیں اور تباہی کا حجم اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔سائنسدانوں اور حکام کے مطابق یہ روایتی مون سون کی بارشوں کا سیلاب نہیں تھا۔ تبت (چین) کی طرف بھوٹیکوشی ندی کے بالائی حصے میں گلیشیئر گرنے، زمین کھسکنے اور مٹی کے بڑے ریلے کے باعث ندی کا بہاؤ عارضی طور پر رک گیا تھا۔ جب یہ قدرتی بند اچانک ٹوٹا تو تقریباً ٢٠ ملین کیوبک میٹر پانی کا خوفناک ریلا نیچے کی طرف ہائیڈرو پاور اور رہائشی علاقوں پر آ گرا۔ ایک مانیٹرنگ پوائنٹ پر تریشولی ندی کی سطح محض ٣٠ منٹ کے اندر ٩ میٹر (قریباً ٣٠ فٹ) تک بلند ہو گئی۔سڑکیں اور پل ٹوٹنے کی وجہ سے سرحدی ضلع رسوا کا دارالحکومت کاٹھمنڈو اور دیگر پڑوسی اضلاع (نوواکوٹ اور دھادنگ) سے زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا ہے۔تباہی کے وقت گوسائیں کنڈ جھیل کے علاقے میں 'جنائی پورنیما' تہوار کی وجہ سے سینکڑوں مقامی اور غیر ملکی ٹریکرز موجود تھے۔ رپورٹ کے مطابق قریباً ٣٩١ غیر ملکی سیاح (جن میں ١٣٣ سے زائد بھارتی شہری شامل ہیں) اور ٩٣ مقامی سیاح آؤٹ آف کنٹیکٹ (لاپتہ) ہیں۔سرکاری و حفاظتی اہلکار: ندی کے کنارے قائم چوکیوں سے کم از کم ٢٨ پولیس اہلکار، ٤٤ نیپالی فوج کے جوان اور رسوا گڑھی کسٹمز و امیگریشن کے کئی ملازمین لاپتہ ہیں۔نیپالی کابینہ نے سیلاب سے زخمی ہونے والے تمام شہریوں کا تمام سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)