Aug 30, 2026 12:11 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
بچوں کی حفاظت پر اب کوئی سمجھوتہ نہیں

بچوں کی حفاظت پر اب کوئی سمجھوتہ نہیں

27 Aug 2026
1 min read

بچوں کی حفاظت پر اب کوئی سمجھوتہ نہیں

ڈاکٹر سلیم انصاری

 جھاپا نیپال

گرِما چودھری کے ساتھ پیش آنے والا افسوسناک واقعہ پورے نیپال کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے۔ ایک معصوم اور کم عمر بچی کے ساتھ پیش آنے والے اس سانحے نے ہر حساس انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس واقعے پر غم اور غصہ فطری ہے، لیکن اب صرف غم یا احتجاج کافی نہیں۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ آخر ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں اور مستقبل میں کسی اور بچے کو ایسی تکلیف سے کیسے بچایا جا سکتا ہے۔

دستیاب ابتدائی اطلاعات کے مطابق، بارا ضلع کے جیت پور سمرا علاقے میں تین سالہ گرِما چودھری گھر سے لاپتا ہوگئی تھی۔ اہلِ خانہ نے اس کی تلاش شروع کی، جس کے بعد گھر کے قریب ایک سنسان مکان سے اس کی لاش ملنے کی اطلاع سامنے آئی۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں جنسی تشدد اور اس کے بعد قتل کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم مکمل تحقیقات اور عدالتی فیصلے سے پہلے واقعے کے تمام پہلوؤں کے بارے میں حتمی نتیجہ نکالنا مناسب نہیں ہوگا۔

اس واقعے کے بعد مقامی سطح سے لے کر دارالحکومت کھٹمنڈو تک احتجاج اور مظاہرے ہوئے۔ شہریوں، نوجوانوں، طلبہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے ذمہ دار شخص کے خلاف سخت قانونی کارروائی، متاثرہ خاندان کو انصاف اور بچوں کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبات صرف غصے کا اظہار نہیں بلکہ ہمارے پورے معاشرے کے لیے ایک اہم سوال ہیں: کیا ہمارے بچے واقعی محفوظ ہیں؟ ایسے واقعات کے بعد ہماری پہلی آواز یہی ہوتی ہے کہ مجرم کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ یہ مطالبہ اپنی جگہ بالکل درست ہے، لیکن اگر ہم صرف ایک مجرم کو سزا دے کر خاموش ہو جائیں تو مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوگا۔ ہمیں اس پورے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا جس کے ذریعے ایک بچہ محفوظ رہ سکے، خطرے کی بروقت نشاندہی ہو سکے اور کسی بچے کے لاپتا ہونے کی صورت میں فوراً کارروائی کی جا سکے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ بچے گھر سے باہر نکلتے وقت کتنے محفوظ ہیں۔ کیا ان کے راستے محفوظ ہیں؟ کیا سنسان علاقوںمیں مناسب روشنی ہے؟ کیا ضروری مقامات پر CCTV کیمرے موجود ہیں؟ کیا پولیس کو اطلاع ملتے ہی فوری کارروائی کا واضح نظام موجود ہے؟ کیا والدین اور بچوں کو معلوم ہے کہ خطرے کی صورت میں کیا کرنا ہے؟ یہ سوال صرف گرِما کے واقعے کے لیے نہیں بلکہ نیپال کے ہر بچے کے مستقبل کے لیے اہم ہیں۔

بچوں کے خلاف جرائم کی کوئی ایک وجہ نہیں ہوتی۔ کسی خاص واقعے کی اصل وجہ مکمل تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ غیر محفوظ ماحول مجرم کو موقع فراہم کر سکتا ہے۔ سنسان گھر، خالی عمارتیں، اندھیری سڑکیں، غیر محفوظ راستے اور ایسے مقامات جہاں لوگوں کی آمدورفت کم ہو، بچوں کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ مقامی حکومتوں کو ایسے تمام مقامات کی نشاندہی کرنی چاہیے اور انہیں محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔

جہاں ضرورت ہو وہاں اسٹریٹ لائٹس لگائی جائیں، CCTV کیمرے نصب کیے جائیں اور پولیس گشت بڑھایا جائے۔ خالی اور خطرناک عمارتوں کے مالکان سے بھی رابطہ کرکے ضروری حفاظتی اقدامات کرائے جائیں۔ بچوں کی حفاظت کے لیے صرف جرم کے بعد کارروائی کافی نہیں؛ خطرات کو پہلے سے کم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

ہم اپنے بچوں کو ہر وقت اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے۔ اس لیے انہیں عمر کے مطابق بنیادی حفاظتی تعلیم دینا ضروری ہے۔ بچوں کو سکھایا جائے کہ کسی شخص کے کہنے پر اس کے ساتھ کہیں جانے سے پہلے والدین یا کسی قابلِ اعتماد بڑے کو ضرور بتائیں۔ اگر کوئی انہیں ڈرائے، لالچ دے یا کوئی ایسا کام کرنے کو کہے جس سے وہ بے آرام محسوس کریں تو فوراً کسی قابلِ اعتماد شخص کو بتائیں اور ضرورت پڑنے پر مدد کے لیے آواز اٹھائیں۔

لیکن بچوں کو یہ تعلیم خوف پیدا کرکے نہیں دی جانی چاہیے۔ مقصد یہ نہیں

کہ بچے ہر اجنبی سے ڈرنے لگیں، بلکہ انہیں یہ سکھانا ہے کہ وہ ممکنہ خطرناک صورتحال کو پہچان سکیں، اپنی حدود کو

سمجھیں اور ضرورت پڑنے پر صحیح وقت پر مدد حاصل کرسکیں۔

بچوں کی حفاظت میں والدین کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ والدین کو بچوں کے ساتھ ایسا تعلق قائم کرنا چاہیے جس میں بچہ اپنی ہر پریشانی بلا خوف بیان کرسکے۔ اگر بچہ کسی شخص کے رویے سے پریشان ہے، کسی جگہ جانے سے ڈرتا ہے یا کسی واقعے کے بارے میں کچھ بتانا چاہتا ہے تو اس کی بات کو سنجیدگی سے سنا جائے۔ اسے ڈانٹنے یا خاموش کرانے کے بجائے اس کا اعتماد حاصل کرنا زیادہ ضروری ہے۔

والدین کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اگر بچہ اچانک لاپتا ہوجائے تو فوراً کیا اقدامات کرنے ہیں اور پولیس سے کس طرح رابطہ کرنا ہے۔ کم عمر بچہ لاپتا ہونے کے بعد خاندان کو گھنٹوں یا 24 گھنٹے انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ پولیس کو اطلاع ملتے ہی اسے انتہائی اہم اور ہنگامی معاملہ سمجھ کر کارروائی شروع کرنی چاہیے۔

ممکنہ مقامات کی فوری تلاش، CCTV فوٹیج کی جانچ، قریبی پولیس اسٹیشنوں کو اطلاع، مقامی لوگوں کے ساتھ رابطہ اور ضرورت پڑنے پر اہم راستوں اور نقل و حمل کے مقامات پر نگرانی جیسے اقدامات فوراً شروع کیے جانے چاہئیں۔ نیپال میں بچوں کے لاپتا ہونے کے لیے ایک واضح ایمرجنسی رسپانس پروٹوکول ہونا چاہیے، تاکہ پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو معلوم ہو کہ اطلاع ملنے کے پہلے گھنٹے میں کیا کرنا ہے اور اس کے بعد کس مرحلے پر کون سا قدم اٹھانا ہے۔

ہر میونسپلٹی اور گاؤں کی حکومت میں بچوں کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط یونٹ قائم کیا جا سکتا ہے۔ اس میں پولیس، سماجی کارکن، صحت کے اہلکار، اسکول کے نمائندے اور ضرورت کے مطابق ماہرین شامل ہوسکتے ہیں۔ اس یونٹ کا کام صرف جرم کے بعد کارروائی کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اپنے علاقے میں بچوں کے لیے موجود خطرات کی نشاندہی، والدین اور اسکولوں میں آگاہی، خطرناک مقامات کی جانچ اور ضرورت پڑنے پر فوری مدد فراہم کرنا بھی ہونا چاہیے۔

اسکول بھی بچوں کے تحفظ میں بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اسکول کی تعلیم اور سرگرمیوں میں عمر کے مطابق بچوں کو بنیادی حفاظتی معلومات دی جانی چاہیے۔ بچوں کو بتایا جائے کہ ان کی ذاتی حدود کیا ہیں، غیر محفوظ رویے کو کیسے پہچاننا ہے، کسی مشکل صورتحال میں کس سے مدد لینی ہے اور ہنگامی حالت میں کیا کرنا ہے۔ اساتذہ کو بھی اس حوالے سے بنیادی تربیت دی جانی چاہیے تاکہ وہ بچوں کے رویے میں آنے والی غیر معمولی تبدیلیوں یا کسی ممکنہ خطرے کو سمجھ سکیں۔

بچوں کی حفاظت کے لیے ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال بھی ضروری ہے۔ اسکولوں، بازاروں، بس اسٹاپس، مرکزی سڑکوں اور دیگر حساس مقامات پر CCTV کیمروں کا مناسب انتظام کیا جاسکتا ہے۔ لیکن صرف کیمرے نصب کرنا کافی نہیں۔ ان کی نگرانی، ویڈیو کو محفوظ رکھنے اور ضرورت پڑنے پر پولیس کو قانونی طریقے سے فراہم کرنے کا مناسب نظام بھی ہونا چاہیے۔ اسی طرح مناسب اسٹریٹ لائٹنگ بھی ضروری ہے، کیونکہ روشن اور محفوظ راستے بچوں سمیت تمام شہریوں کے لیے زیادہ محفوظ ماحول پیدا کرتے ہیں۔

سنگین جرائم کی تحقیقات صرف بیانات اور اندازوں پر نہیں ہونی چاہئیں۔ DNA اور دیگر فرانزک شواہد، CCTV، ڈیجیٹل ثبوت، موبائل سے متعلق معلومات اور گواہوں کے بیانات کو سائنسی انداز میں جمع اور محفوظ کیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حساس شواہد میڈیا یا سوشل میڈیا پر غیر ضروری طور پر نشر نہ ہوں۔ کسی بچے کی تصویر، ویڈیو یا ذاتی معلومات پھیلانا خاندان کے لیے مزید تکلیف کا باعث بن سکتا ہے اور تحقیقات کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔

مجرم کے لیے سخت سزا ضروری ہوسکتی ہے، لیکن صرف قانون میں سخت سزا لکھ دینا کافی نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جرم کرنے والا شخص قانون سے بچ نہ سکے۔ اس کے لیےپولیس کی مؤثر تحقیقات، مضبوط ثبوت، قابلِ اعتماد استغاثہ، منصفانہ عدالتی کارروائی اور بروقت فیصلہ ضروری ہے۔ سادہ الفاظ میں، جرم کی فوری تحقیقات ہو، ثبوت محفوظ ہوں، مقدمہ مضبوط ہو اور انصاف وقت پر ملے۔ یہی مؤثر قانون کی اصل طاقت ہے۔

ایسے سانحے کے بعد متاثرہ خاندان پہلے ہی شدید صدمے سے گزر رہا ہوتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری صرف مالی امداد دینے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ متاثرہ خاندان کو قانونی مدد، طبی سہولت، نفسیاتی مشاورت، ضروری مالی تعاون اور عدالتی کارروائی میں رہنمائی فراہم کی جانی چاہیے۔ انہیں مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے ایک مربوط نظام کے ذریعے زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔

ایسے ہولناک واقعات کے بعد عوام میں شدید غصہ پیدا ہونا فطری ہے اور بعض لوگ سزائے موت کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ متاثرہ خاندان کے دکھ اور عوامی جذبات کو سمجھنا ضروری ہے۔ لیکن سزائے موت جیسے اہم مسئلے پر فیصلہ صرف جذبات کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔ اس پر آئین، قانون، انسانی حقوق اور ملک کے قانونی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے سنجیدہ قومی بحث ہونی چاہیے۔

اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ واقعے کی مکمل اور غیر جانب دار تحقیقات ہوں، ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق عدالت کے سامنے لایا جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف ملے۔ عوامی غصے کو ایسے اقدامات میں تبدیل کرنا ضروری ہے جو مستقبل میں بچوں کو محفوظ بنا سکیں۔

بچوں کی حفاظت صرف حکومت اور پولیس کی ذمہ داری نہیں۔ خاندان، اسکول، مقامی کمیونٹی، مذہبی و سماجی ادارے، میڈیا اور عام شہری سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر کسی بچے کے بارے میں کوئی خطرناک یا مشکوک صورتحال نظر آئے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور متعلقہ ادارے کو اطلاع دینی چاہیے۔ تاہم

صرف شک کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم قرار دینا یا قانون اپنے ہاتھ میں لینا بھی درست نہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی ذمہ داری کا مظاہرہ ضروری ہے۔ درست معلومات کسی بچے کی تلاش میں مدد کرسکتی ہیں، لیکن غیر مصدقہ خبریں، افواہیں اور حساس تصاویر پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے۔ خاص طور پر بچوں کی شناخت اور ذاتی معلومات کے تحفظ کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا گرِما کے واقعے کے بعد ہمارے نظام میں کوئی حقیقی تبدیلی آئے گی؟ اگر چند دن احتجاج، بیانات اور سوشل میڈیا پر بحث کے بعد سب کچھ پہلے جیسا ہوجاتا ہے تو ہم نے اس سانحے سے کچھ نہیں سیکھا۔

گرِما کو ہم واپس نہیں لا سکتے۔ اس کے خاندان کے دکھ کو بھی کوئی لفظ ختم نہیں کرسکتا۔ لیکن ہم یہ ضرور کرسکتے ہیں کہ اس سانحے کو ایک ایسی تبدیلی کا آغاز بنائیں جس سے مستقبل میں کسی اور بچے کی جان اور عزت محفوظ ہوسکے۔

ہمیں ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں بچہ لاپتا ہوتے ہی پولیس حرکت میں آئے، خطرناک مقامات پہلے سے محفوظ کیے جائیں، اسکول بچوں کو حفاظتی تعلیم دیں، والدین باشعور ہوں، پولیس سائنسی طریقے سے تحقیقات کرے اور جرم ثابت ہونے پر ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق بروقت سزا ملے۔

ہماری آواز صرف ’’مجرم کو سزا دو‘‘ تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ہماری آواز یہ بھی ہونی چاہیے کہ ’’ہر بچے کو محفوظ ماحول دو، بچوں کے تحفظ کا مضبوط نظام بناؤ، انصاف میں تاخیر ختم کرو اور متاثرہ خاندان کو اکیلا نہ چھوڑو۔‘‘

گرِما چودھری کے لیے سب سے بڑی خراجِ عقیدت یہی ہوگی کہ ہم اس سانحے کو بھولیں نہیں بلکہ اس سے سبق لیں۔ ایسا مضبوط معاشرہ اور ایسا مؤثر نظام بنائیں جہاں کسی معصوم بچے کو دوبارہ ایسی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ڈاکٹر سلیم انصاری 

 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)