علماء فاؤنڈیشن کا عید میلاد النبیﷺ کی عام تعطیل بحال کرنے کا مطالبہ
احمد رضا ابن عبدالقادر اویسی
خصوصی نامہ نگار نیپال اردو ٹائمز
علماء فاؤنڈیشن نیپال کے نائب صدر مولانا فاروق برکاتی کی قیادت میں مسلم رہنماؤں کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے صوبہ مدھیش پردیش کی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ماضی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے سرورِ کائنات، حضرت محمد مصطفیﷺ کے یومِ ولادت باسعادت (عید میلاد النبی) کے مبارک موقع پر پورے صوبے میں عام تعطیل کا اعلان کیا جائے۔ نائب صدر مولانا فاروق برکاتی نے صوبائی حکومت کے اس حالیہ متنازع فیصلے پر گہری تشویش اور شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس کے تحت اس مقدس دن کی تعطیل کو صرف مسلم برادری تک محدود کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسا فیصلہ ایک جامع، جمہوری اور سیکولر ریاست کے بنیادی اصولوں اور روح کے سراسر منافی ہے۔علماء فاؤنڈیشن نیپال کی جانب سے صوبہ مدھیش کی وزارتِ داخلہ مواصلات اور قانون کو وزیر داخلہ کے توسط سے ایک باضابطہ اور تفصیلی میمورنڈم جمع کرایا گیا ہے۔ اس یادداشت میں نائب صدر مولانا فاروق برکاتی اور دیگر قائدین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صوبہ مدھیش تاریخی طور پر سماجی ہم آہنگی، مساوات، رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں تمام مذاہب کے لوگ صدیوں سے مل جل کر رہ رہے ہیں۔ لہٰذا، صوبائی حکومت کے فیصلے اور پالیسیاں بھی اسی یکجہتی، باہمی احترام اور بھائی چارے کے جذبے کی عکاسیکرنے چاہئیں، نہ کہ معاشرے میں تفریق اور دوری پیدا کرنے کا سبب بنیں۔علماء فاؤنڈیشن نیپال کے نائب صدر مولانا فاروق برکاتی نے اپنے بیان میں حکومت کو یاد دلایا کہ ماضی میں اس مقدس اور بابرکت دن پر پورے صوبے میں بلا تفریقِ مذہب و ملت عام تعطیل دی جاتی رہی ہے، جس سے تمام شہریوں میں یکجہتی اور قومی ہم آہنگی کا مثبت پیغام جاتا تھا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ مسلم برادری کو الگ تھلگ کرنے والے اس فیصلے پر فوری طور پر نظرثانی کرے اور صوبے بھر میں عام تعطیل کے اسی پرانے اور مربوط نظام کو بحال رکھے جو سب کے لیے قابلِ قبول تھا۔صوبائی حکومت کو میمورنڈم جمع کرانے والے اس اہم وفد کی قیادت خود علماء فاؤنڈیشن کے نائب صدر مولانا فاروق برکاتی کر رہے تھے، جبکہ ان کے ہمراہ مسلم نوجوان رہنما عاشق علی، مولانا انصار الحق راعین ، محمد صابر راعین، ڈاکٹر عابد حسین سمیت دیگر معززین شامل تھے۔ نائب صدر مولانا فاروق برکاتی اور وفد میں شامل دیگر مسلم رہنماؤں نے موجودہ حکومتی پالیسی کو یکسر امتیازی، غیر منصفانہ اور ناقابلِ عمل قرار دیا۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ مذہبی بنیادوں پر تعطیلات کو محدود کرنا جمہوریت کی روح کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، اس لیے صوبائی حکومت عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے فوری طور پر اس فیصلے کی اصلاح کرے اور عام تعطیل کا نوٹیفیکیشن جاری کرے۔
