لمبنی میں تاریخی قانون سازی، مگر ادھورا احساسِ انصاف
دلت بل منظور، تھارو کے لیے منظوری، مسلم برادری امتیاز کا شکار؟
لمبنی: (مولانا مشہود خاں نیپالی)
لمبنی پردیش اسمبلی نے ایک تاریخ ساز پیش رفت کرتے ہوئے دلت برادری کے حقوق سے متعلق جامع بل کو متفقہ طور پر منظور کرلیا، جس کے ساتھ ہی یہ صوبہ ملک کے ساتوں صوبوں میں پہلا بن گیا ہے جہاں دلت حقوق کے تحفظ کے لیے باقاعدہ قانون سازی عمل میں آئی ہے۔ اس اقدام کو سماجی انصاف، مساوات اور شمولیتی ترقی کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بل اسمبلی کے ساتویں اجلاس کی چودھویں نشست میں مکمل اتفاق رائے سے منظور ہوا۔ سماجی ترقی کے وزیر جنم جئے تیمیلسینا کی جانب سے پیش کیے گئے اس بل میں دلت برادری کے انسانی حقوق، سماجی انصاف، معاشی بہتری اور سیاسی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے متعدد مؤثر اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ رہائش کی سہولت، اعلیٰ تعلیم کے لیے ہاسٹل، تعلیمی اداروں میں ترجیح، سنگین بیماریوں میں مفت علاج، اور روایتی پیشوں کے فروغ کے لیے سبسڈی و آسان قرض جیسے اقدامات اس قانون کا حصہ ہیں۔
بل میں ذات پات پر مبنی امتیازی سلوک اور چھوا چھوت جیسے غیر انسانی رویوں کے خاتمے کا واضح عزم بھی شامل ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق لمبنی پردیش کی کل آبادی 51 لاکھ 22 ہزار 78 ہے، جس میں دلت برادری کا حصہ تقریباً 14.30 فیصد یعنی 7 لاکھ 3 ہزار سے زائد افراد پر مشتمل ہے۔ اندازاً دو سے تین لاکھ دلت شہری غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، جس کے پیش نظر اس قانون کو نہایت اہمیت حاصل ہے۔
ادھر لمبنی پردیش کابینہ نے ایک اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے تھارو برادری کے روایتی رسوم و رواج کے تحفظ اور فروغ سے متعلق بل 2083 کو بھی صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم ان مثبت پیش رفتوں کے درمیان ایک اہم سوال شدت سے ابھر رہا ہے کہ جہاں دلت اور تھارو برادری کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے، وہیں مسلم برادری کے لیے تاحال کسی جامع بل کا نہ آنا تشویش کا باعث بن رہا ہے۔اس سلسلے میں جامعہ سراج العلوم السلفیہ کے ناظم
اعلیٰ اور راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کے سرپرست فضیلۃ الشیخ شمیم احمد ندوی حفظہ اللہ نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے کی اصل پہچان اس کے عدل و انصاف میں پوشیدہ ہوتی ہے، جہاں قانون سب کے لیے یکساں ہو اور کسی بھی طبقے کے دل میں محرومی کا احساس جگہ نہ پائے۔ ان کے مطابق لمبنی میں مختلف برادریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جو اقدامات سامنے آ رہے ہیں وہ یقیناً حوصلہ افزا ہیں، تاہم حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب ہر شہری، خواہ وہ کسی بھی طبقے یا پس منظر سے تعلق رکھتا ہو، خود کو ریاستی نظام کا برابر کا حصہ اور باوقار شہری محسوس کرے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مسلم برادری سمیت تمام محروم طبقات کے لیے مواقع کی برابری صرف ایک پالیسی نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے، جس کے بغیر نہ تو اعتماد قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی حقیقی سماجی توازن پیدا ہو سکتا ہے۔
اسی طرح جامعہ سراج العلوم السلفیہ کے موقر استاد اور راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کے صدر ڈاکٹر عبدالغنی القوفی نے کہا کہ ترقی کا سفر اس وقت تک مکمل نہیں سمجھا جا سکتا جب تک اس کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک یکساں نہ پہنچیں۔ ان کے مطابق مسلم برادری آج بھی تعلیم، معیشت اور سماجی شمولیت کے کئی اہم شعبوں میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، جن کا حل وقتی اقداماتسے نہیں بلکہ ایک مستقل، جامع اور منصفانہ ریاستی پالیسی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی شمولیتی ترقی کو ہدف بنایا گیا ہے تو پھر ہر اس طبقے کو مرکزی توجہ دینا ہوگی جو برسوں سے محرومی اور پسماندگی کا شکار چلا آ رہا ہے، تاکہ ترقی کا چراغ چند ہاتھوں تک محدود نہ رہے بلکہ پورے معاشرے کو روشن کرے۔
جبکہ جامعہ سراج العلوم السلفیہ کے ترجمان اور راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کے جنرل سیکریٹری مولانا مشہود خاں نیپالی نے کہا کہ ہم ہر اس قدم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو سماج میں عدل و انصاف اور حقوق کے تحفظ کی سمت میں اٹھایا جائے، لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج بھی بعض طبقات بنیادی حقوق اور مواقع کی فراہمی کے منتظر ہیں۔ ان کے مطابق مسلم برادری کی تعلیمی ترقی، معاشی استحکام اور سماجی شمولیت کے لیے فوری، عملی اور ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے نہایت جذباتی انداز میں کہا کہ حقیقی انصاف وہی ہے جو ہر دل کو اطمینان دے، ہر فرد کے احساس محرومی کو ختم کرے، اور ہر شہری کو یہ یقین دے کہ وہ اس ریاست کے فیصلوں اور ترقی کا برابر کا شریک ہے۔مولانا مشہود خاں نیپالی
