ہجرت کے سفر میں بڑھتی ہلاکتیں: سنہ 2025 میں تقریباً 7,900 افراد موت یا گمشدگی کا شکار
جنیوا:ایجنسیاں
مولانا مشہود خاں نیپالی
عالمی ادارہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سنہ 2025 کے دوران دنیا بھر میں ہجرت کے خطرناک راستوں پر تقریباً 7 ہزار 900 افراد یا تو جاں بحق ہو گئے یا لاپتہ ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق سنہ 2014 سے لے کر 2025 کے اختتام تک ہجرت کے دوران 80 ہزار سے زائد افراد کی موت یا گمشدگی ریکارڈ کی جا چکی ہے، جو ایک سنگین عالمی انسانی بحران کی عکاسی کرتی ہے۔
آئی او ایم نے واضح کیا ہے کہ محفوظ اور قانونی ہجرت کے راستوں تک محدود رسائی کے باعث مجبور افراد خطرناک اور غیر منظم سفر اختیار کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ ادارے نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مؤثر سیاسی عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہجرت کے
راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کرے۔آئی او ایم کے “گمشدہ مہاجرین منصوبہ” کے مطابق یہ اعداد و شمار حقیقی صورتحال کا مکمل احاطہ نہیں کرتے، کیونکہ بہت سے واقعات سرے سے ریکارڈ ہی نہیں ہو پاتے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ مہاجرین کی اموات کو روکنے اور متاثرہ خاندانوں کی پیچیدہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سنہ 2025 میں امدادی فنڈز میں کمی اور خطرناک ہجرتی راستوں سے متعلق معلومات تک محدود رسائی نے لاپتہ افراد کی درست تعداد کے تعین کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ماہرین کے مطابق اس انسانی المیے کے نتیجے میں کم از کم 3 لاکھ 40 ہزار خاندان براہ راست متاثر ہوئے ہیں، جو اپنے پیاروں کی گمشدگی کے بعد نفسیاتی، سماجی، قانونی اور معاشی مسائل سے دوچار ہیں۔ یہ مسئلہ تاحال حل طلب ہے اور متاثرہ خاندان اپنے عزیزوں کے بارے میں معلومات اور انصاف کے منتظر ہیں۔
بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ مئی 2026 میں منعقد ہونے والا بین الاقوامی ہجرتی جائزہ فورم ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے، جہاں عالمی سطح پر مؤثر حکمت عملی اختیار کر کے انسانی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ ہجرت کے راستوں پر انسانی جانوں کا تحفظ اور ان قابل تدارک سانحات کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب عالمی برادری مستقل، مضبوط اور مخلص سیاسی عزم کا مظاہرہ کرے۔
