جدہ میں سیکیورٹی امور پر اہم پیش رفت: صدر ولودیمیر زیلنسکی اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی بامعنی ملاقات
جدہ : نیوز ایجنسیاں
مولانا مشہود خاں نیپالی
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے جمعہ کے روز سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ جدہ میں ایک اہم اور نتیجہ خیز سیکیورٹی ملاقات کی، جسے خطے اور عالمی سیاست کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس نازک صورتحال کے پیش نظر صدر زیلنسکی نے خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے پر زور دیا۔ صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں اس ملاقات کو "انتہائی مفید اور تعمیری" قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تین اہم شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے، جن میں یوکرینی سیکیورٹی مہارت، فضائی دفاعی نظام کی برآمد، اور توانائی و غذائی تحفظ شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حالیہ ریاض کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان فضائی دفاع کے شعبے میں ایک اہم معاہدہ طے پایا، جس کے تحت آئندہ دس برسوں کے لیے سیکیورٹی تعاون کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ مشترکہ دفاعی پیداوار کے منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یوکرین نے اپنے درجنوں فوجی ماہرین اور جدید ڈرون روکنے والی ٹیکنالوجی خلیجی ممالک کو فراہم کی ہے، جس کے ذریعے آنے والے ڈرون خطرات کو مؤثر انداز میں ناکام بنایا جا رہا ہے۔ یوکرین اپنے ڈرون مخالف دفاعی نظام کو دنیا کے جدید ترین اور مؤثر نظاموں میں شمار کرتا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے نہایت متوازن اور دانشمندانہ سفارتی حکمت عملی اپناتے ہوئے یوکرین اور روس دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ سعودی قیادت نے روس-یوکرین تنازع کے حل کے لیے امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے، جسے عالمی امن کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اہم ملاقات نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت دے رہی ہے بلکہ خطے میں سیکیورٹی تعاون، سفارتی توازن اور عالمی استحکام کے لیے ایک نئے باب کا آغاز بھی ثابت ہو سکتی ہے۔مولانا مشہود خاں نیپالی
