نیپال میں ہر 15 دن بعد تنخواہ کی ادائیگی کا تاریخی فیصلہ، جنوبی ایشیا میں پہلی مثال قائم
مولانا مشہود خاں نیپالی) لمبنی پردیش)
حکومت نیپال نے سرکاری ملازمین کے لیے ہر 15 دن بعد تنخواہ کی ادائیگی کا انقلابی فیصلہ کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔ اس اقدام کے تحت اب ملازمین کو ماہانہ کے بجائے نیم ماہانہ بنیادوں پر تنخواہ اور الاؤنسز فراہم کیے جائیں گے۔
وزارت خزانہ نے اتوار کے روز باضابطہ طور پر یہ فیصلہ کیا اور اسی دن محکمۂ محاسبہ عامہ (کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس) کو اس پر عمل درآمد کے لیے ہدایات جاری کر دی گئیں، تاکہ اس نظام کو جلد نافذ کیا جا سکے۔
انتظامی عدالت کے سابق رکن اور حکومت نیپال کے سابق سیکریٹری گووند کسم نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیپال جنوبی ایشیا کا پہلا ملک ہے جہاں سرکاری ملازمین کو ہر 15 دن بعد تنخواہ دی جائے گی۔ ان کے مطابق ایشیا کے دیگر ممالک میں اس نوعیت کا نظام رائج نہیں، تاہم امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں یہ طریقہ کار پہلے سے موجود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف ملازمین کو مالی سہولت میسر آئے گی بلکہ ملک میں معاشی
سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔ خاص طور پر نچلے درجے کے وہ ملازمین جو مکمل طور پر تنخواہ پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے یہ اقدام نہایت فائدہ مند ثابت ہوگا۔
گووند کسم نے تجویز دی کہ مستقبل میں اس نظام کو صرف سول ملازمین تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اساتذہ، فوج اور پولیس کے شعبوں تک بھی توسیع دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
واضح رہے کہ موجودہ نجامتی سیوا ایکٹ 2049 کے تحت ملازمین کو ماہانہ بنیادوں پر تنخواہ دینے کی شق موجود ہے، اس لیے نئے نظام کے نفاذ کے لیے قانون میں ترمیم ضروری ہوگی۔ حکومت اس مقصد کے لیے نیا وفاقی سول سروس ایکٹ متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے، جس میں اس شق کو شامل کیے جانے کا امکان ہے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تقریباً پانچ لاکھ افراد ریاستی خزانے سے تنخواہ اور مراعات حاصل کر رہے ہیں، جن میں سول سروس کے علاوہ نیپالی فوج، مسلح پولیس، نیپال پولیس اور قومی تحقیقاتی ادارے کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
حکومت کے حالیہ اقدامات، جیسے ہفتے میں دو دن (ہفتہ اور اتوار) تعطیل کا نفاذ، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک میں انتظامی اصلاحات اور ملازمین کی فلاح کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔
تاریخی طور پر نیپال میں تنخواہ کے باقاعدہ نظام کی بنیاد 2008 میں قائم ہونے والے “بچ کمیشن” کے بعد رکھی گئی، جبکہ 2013 میں نافذ ہونے والے سول سروس ایکٹ کے ذریعے ماہانہ تنخواہ کی ادائیگی کو قانونی حیثیت دی گئی تھی۔
ہر 15 دن بعد تنخواہ کی ادائیگی کا یہ نیا نظام نہ صرف ایک اہم اصلاح ہے بلکہ ملازمین کی مالی حالت میں بہتری، معیشت میں روانی اور حکومتی نظام میں جدت کی جانب ایک مؤثر پیش رفت بھی ثابت ہوگا۔مولانا مشہود خاں نیپالی
