Aug 30, 2026 11:21 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
ماہِ ربیع الاول اور مسلمان

ماہِ ربیع الاول اور مسلمان

27 Aug 2026
1 min read

ماہِ ربیع الاول اور مسلمان

محمد عمران ندوی

وہ دانائے سبل، ختمِ رسل، مولائے کل جس نے

غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا

ماہِ ربیع الاول آتے ہی ہر مسلمان کے دل میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس کی نسبت اس ہستیِ اقدس سے ہے جو سراپا رحمت بن کر دنیا میں تشریف لائی، جس نے انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر نورِ ہدایت سے آشنا کیا، جس نے بھٹکی ہوئی انسانیت کو منزل کا پتا دیا اور جس کی تعلیمات نے انسان کو اس کے حقیقی مقام سے روشناس کرایا۔

حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبت ہر مسلمان کے ایمان کا جزو ہے۔ محبتِ رسول ﷺ وہ دولت ہے جس کے سامنے دنیا کی تمام دولتیں ہیچ ہیں، اور جس دل کو اس دولت سے محرومی نصیب ہو، اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی محروم و بدنصیب نہیں۔ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و عقیدت ہر مسلمان کی زندگی کا گراں قدر سرمایہ ہے۔ عشقِ الٰہی اور محبتِ رسول ﷺ کی بے بہا نعمت سے صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، اولیائے عظام اور بزرگانِ دین مالا مال تھے۔ ان کی زندگیاں محبتِ رسول ﷺ کی ایسی زندہ تصویریں تھیں جنہیں دیکھ کر ایمان کو تازگی اور دل کو حرارت ملتی تھی۔

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:

«لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ، وَوَلَدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ»’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔‘‘

ہمارے اسلاف نے اس ارشادِ نبوی ﷺ کو محض پڑھا نہیں تھا، بلکہ اسے اپنی زندگی کا عنوان بنا لیا تھا۔ والدین، اولاد، مال و دولت اور دنیا کی تمام محبوب چیزوں کی محبت پر انہوں نے محبتِ رسول ﷺ کو غالب رکھا۔ عشقِ رسول ﷺ، ذکرِ خیرِ رسول ﷺ اور آپ ﷺ کے پیغام کو عام کرنا ان کی زندگی کا سرمایہ تھا۔ ان کے لیے محبت محض زبان کا دعویٰ نہ تھی، بلکہ کردار، عمل، ایثار، وفاداری اور اتباع کا نام تھی۔

مولانا ظفر علی خاں مرحوم نے اسی حقیقت کو اپنے ان اشعار میں نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے:

نماز اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا، زکوٰۃ اچھی

مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجۂ یثرب کی حرمت پر

خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

لیکن مسلمان بھائیو! ذرا ایک لمحے کے لیے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے، اپنے ضمیر کی عدالت میں کھڑے ہوکر خود سے پوچھیے: کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اظہارِ محبت کا یہی طریقہ ہے؟

کیا محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا یہ ہے کہ آرائشی پھاٹک لگائے جائیں، گلیوں اور بازاروں میں چراغاں کیا جائے، بے جا روشنیوں اور سجاوٹ میں ایک دوسرے سے مقابلہ کیا جائے، اور پٹاخوں کی آوازوں میں محبت کے دعوے کیے جائیں؟

کیا اس ذاتِ اقدس کے نام پر، جس کے گھر میں کبھی تین تین دن چولہا نہیں جلتا تھا، لاکھوں روپے ایسی آرائشوں پر صرف کردینا محبتِ رسول ﷺ کا بہترین مظہر ہے، جبکہ ہماری 

اپنی قوم میں سیکڑوں بیوہ عورتیں، ہزاروں یتیم بچے اور بے شمار مفلس و نادار افراد موجود ہیں، جنہیں مہنگائی کے اس دور میں پیٹ بھر کر کھانا اور تن ڈھانپنے کے لیے کپڑا بھی میسر نہیں؟

ذرا آگے بڑھ کر اپنی اجتماعی حالت پر بھی نظر ڈالیے! 

جس قوم کے ہزاروں طلبہ تعلیمی سہولتوں سے محروم ہوں، جس قوم کے ہزاروں مریض دوا اور علاج کے لیے ترس رہے ہوں، جس قوم کے علمی، تعلیمی اور دینی ادارے وسائل اور سرائے کی کمی کے باعث موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا ہوں، کیا اس قوم کو یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ محبتِ رسول ﷺ کے اظہار کا کون سا راستہ زیادہ بابرکت، زیادہ مفید اور زیادہ دیرپا ہوسکتا ہے؟

کیا اظہارِ عقیدت و محبت کا یہ طریقہ زیادہ صحیح نہیں کہ رحمۃ للعالمین، محسنِ انسانیت، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و کردار کو اپنی زندگی کا آئینہ بنایا جائے؟ آپ ﷺ کی سیرت کو اپنے عمل میں اتارا جائے؟ اور برادرانِ وطن کے سامنے اس نبیِ رحمت ﷺ کا صحیح تعارف پیش کیا جائے، جن کی بعثت کسی ایک قوم، خطے یا زمانے کے لیے

نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر ہوئی؟

سوچیے! اگر صرف ایک بڑے شہر میں عید میلاد کی روشنی اور سجاوٹ پر ہونے والی خطیر رقم کو کسی کارِ خیر میں صرف کردیا جائے تو اس سے کتنے 

چراغ ایسے روشن ہوسکتے ہیں جو محض ایک رات نہیں بلکہ نسلوں تک روشنی دیتے رہیں!

اسی رقم سے نیپالی زبان میں سیرتِ نبوی ﷺ کے ترجمے اور تعارف کے لیے ایک بڑا دارالاشاعت قائم ہوسکتا ہے، ایک رفاہی اسپتال وجود میں آسکتا ہے، بچوں اور بچیوں کے لیے ایک اسلامی اسکول قائم ہوسکتا ہے، مسلم طلبہ کے لیے ایک ہاسٹل بنایا جاسکتا ہے، نادار اور بے روزگار لوگوں کے لیے بیت المال اور بلا سود بینک قائم کیا جاسکتا ہے، یا علم کے پیاسوں کے لیے ایک مفید لائبریری اور دارالمطالعہ وجود میں آسکتا ہے۔

یہ وہ چراغ ہیں جن کی روشنی صرف آنکھوں کو نہیں، دلوں اور نسلوں کو منور 

کرتی ہے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: «اللّٰهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ»

’’اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی اس وقت تک اعانت کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔‘‘

تو پھر کیوں نہ محبتِ رسول ﷺ کو خدمتِ خلق کا لباس پہنایا جائے؟ کیوں نہ میلاد کی خوشی کو کسی غریب کے گھر کی خوشی بنادیا جائے؟ کیوں نہ کسی یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا جائے؟ کیوں نہ کسی مریض کے علاج کا وسیلہ بنا جائے؟ کیوں نہ کسی طالب علم کے ہاتھ میں کتاب اور کسی نوجوان کے ہاتھ میں ہنر دیا جائے؟

وطنِ عزیز نیپال میں مسلمان صدیوں سے اپنے برادرانِ وطن کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ ہماری تہذیب، معاشرت اور روزمرہ زندگی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے، لیکن افسوس کہ نیپالی زبان میں سیرتِ نبوی ﷺ کو ابھی تک اس حق کے ساتھ منتقل نہیں کیا گیا جس

کی ضرورت ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ آج ہمارے وہ بچے بھی، جو اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، سیرت النبی

ﷺ سے زیادہ دوسری شخصیتوں سے واقف ہیں۔

یہ صورتِ حال ہم سے ایک سنجیدہ سوال کرتی ہے: کیا ہم نے اپنے نبی ﷺ کی سیرت کو اپنی آنے والی نسلوں تک پہنچانے کا حق ادا کردیا ہے؟

ضرورت اس بات کی ہے کہ آسان، عام فہم اور دل نشیں نیپالی زبان میں سیرتِ سرورِ کونین ﷺ کو منتقل کیا جائے اور اسے پورے ملک میں بلا تفریقِ مذہب و ملت عام کیا جائے۔ برادرانِ وطن کو بتایا جائے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کون تھے؟ آپ ﷺ نے انسانیت کو کیا دیا؟ آپ ﷺ نے عدل، رحمت، اخوت، مساوات، امن اور خدمتِ انسانیت کا کیا درس دیا؟

اور دوسری طرف خدمتِ خلق کے ایسے کام کیے جائیں جنہیں دیکھ کر 

برادرانِ وطن کے دل خود گواہی دیں کہ مسلمان واقعی اس نبیِ کریم ﷺ کا نام لیوا اور متبع ہے جو ساری دنیا کے لیے ابرِ رحمت بن کر تشریف لائے تھے۔

اسی لیے آئیے! آج سے ایک عہد کریں۔ ایسا عہد جو صرف اس سال تک محدود نہ ہو، بلکہ ہماری پوری زندگی کا عزم بن جائے۔ہم عہد کریں کہ اس سال اور تاحیات ’’عید میلاد‘‘ کو ایسے تعمیری اور رفاہی کاموں کے ذریعے منائیں گے جن سے رحمۃ للعالمین، محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصل مقام اور پیام سے دنیا روشناس اور فیضیاب ہو۔

عید میلاد کی مقتدر کمیٹیاں، چندہ دینے والے حضرات، تمام دردمند افراد اور ادارے مل کر باہمی مشورے سے یہ طے کریں کہ اس سال اس کثیر رقم کو، جو بے جا روشنیوں اور آرائشوں پر صرف کی جاتی رہی ہے، دارالاشاعت اور شعبۂ خدمتِ خلق پر صرف کیا جائے گا۔ اپنے اپنے محلے اور ملک کے غریب بھائیوں کی خبر گیری کی جائے گی، خواہ وہ کسی بھی مذہب اور مسلک کے پیروکار ہوں، یہ وہ صدقاتِ جاریہ ہیں جن کا اجر و ثواب دنیا اور آخرت دونوں میں ہمارے لیے سرمایہ بن سکتا ہے۔اور کیوں نہ ایسا ہو کہ میلاد النبی ﷺ کے ساتھ ہر سال ایک نیا حقیقی مدرسہ قائم ہو، جس کا رشتہ مدرسہ صفۂ نبوی سے ملتا ہو؟ ایک نیا اسلامی اسکول قائم ہو، ایک نیا اسپتال وجود میں آئے، مسلم طلبہ کے لیے ایک نیا ہاسٹل تعمیر ہو، ایک بلاسودی بینک یا مالیاتی ادارہ قائم ہو، یا کوئی ایسا علمی و رفاہی منصوبہ شروع ہو جس کا فیض برسوں اور نسلوں تک جاری رہے۔

یہی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہماری سچی محبت کا عملی ثبوت ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہوگا جس کے ذریعے ہم آپ ﷺ کے پرچمِ ہدایت کو اپنے ضعیف اور ناتواں شانوں پر ہمیشہ بلند رکھنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ 

محض وقتی نمائشیں، کھوکھلے مظاہرے اور فضول خرچیاں نہ ہماری غربت ختم

 

کرسکتی ہیں، نہ ہمارے تعلیمی مسائل حل کرسکتی ہیں، نہ ہماری نسلوں کو سیرتِ رسول ﷺ سے جوڑ سکتی ہیں۔ بلکہ ایسی بے جا نمائشوں سے اسلام کی سرِ بازار رسوائی ہورہی ہے۔

ہمیں اب ایک زندہ، باعمل، غیور، متحد، وفادار، جاں نثار اور حقیقت پسند قوم بننا ہوگا۔ ایسی قوم جو محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ بھی کرے اور اس محبت کا حق بھی ادا کرے؛ جو نبیِ رحمت ﷺ کا نام بھی لے اور آپ ﷺ کے اخلاق بھی اپنائے، جو سیرت کے جلسے بھی کرے اور سیرت کو اپنی زندگی میں بھی اتارے، جو چراغاں بھی کرے تو علم کے چراغ روشن کرنے کے لیے، جو خرچ بھی کرے تو انسانیت کی خدمت کے لیے، جو میلاد بھی منائے تو اپنے نبی ﷺ کے پیغام کو عام کرنے کے لیے۔

پھر دیکھیے! رب العالمین کی نصرت کیسے آتی ہے، رحمت کے دروازے کیسے کھلتے ہیں، اور ایک منتشر و کمزور قوم کس طرح اپنے کردار، علم، خدمت اور اتحاد کے ذریعے دنیا کے سامنے اپنا مقام دوبارہ حاصل کرتی ہے۔

آئیے! ربیع الاوّل کو صرف چراغاں کا مہینہ نہ بنائیں، اسے چراغِ سیرت جلانے کا مہینہ بنائیں۔

محبتِ رسول ﷺ کو صرف الفاظ میں نہ رکھیں، اسے کردار میں اتاریں۔

میلاد کو صرف ایک تقریب نہ بنائیں، اسے دعوت، تعلیم، اصلاح، خدمت اور تعمیرِ ملت کی تحریک بنائیں۔

کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)