Aug 26, 2026 10:42 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
صوفی اکیڈمی کی جانب سے شدید مذمتی و تردیدی بیان

صوفی اکیڈمی کی جانب سے شدید مذمتی و تردیدی بیان

24 Aug 2026
1 min read

صوفی اکیڈمی کی جانب سے شدید مذمتی و تردیدی بیان

پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کی کردار کشی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے کی پرزور مذمت

پریس ریلیز

نیپال اردو ٹائمز

صوفی اکیڈمی ہندوستان کے علمی، تعلیمی اور ادبی حلقوں کی نمائندگی کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کے خلاف سوشل میڈیا، بعض میڈیا گروہوں اور مفاد پرست عناصر کی جانب سے چھیڑی گئی ناپاک، بے بنیاد اور گمراہ کن مہم کی سخت ترین الفاظ میں شدید مذمت کرتی ہے.

علمی و دانشورانہ دنیا میں اختلافِ رائے، قانونی شکایت اور جائز سوالات کا استقبال ہمیشہ کیا جاتا ہے لیکن جب سوالات کا مقصد اصلاح کے بجائے شخصیات کی تحقیر، کردار کشی اور اداروں کی بدنامی بن جائے تو یہ صحافت یا بیداری نہیں بلکہ صریح اخلاقی و قانونی جرم ہے. ایک باوقار استاد، محقق اور انتظامی عہدیدار کی محنت اور ساکھ کو چند من گھڑت الزامات کے ذریعے تار تار کرنے کی یہ ناپاک کوشش انتہائی شرمناک اور قابلِ افسوس ہے.

جس تقرری اور اہلیت کو آج متنازع بنانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے اسے ایک دہائی سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے. کسی بھی مرکزی یونیورسٹی میں تقرری کا ایک شفاف اور قانونی پروسیس ہوتا ہے جس میں اشتہار، اسکریننگ، قومی ماہرین پر مشتمل سلیکشن کمیٹی اور مجاز انتظامیاداروں کی منظوری شامل ہوتی ہے. اتنے طویل عرصے بعد اچانک زہریلا پروپیگنڈا شروع کرنا یہ صاف ظاہر کرتا

ہے کہ اس مہم کا مقصد تعلیمی شفافیت نہیں بلکہ ذاتی بغض، حسد اور ادارے کے سکون کو برباد کرنا ہے.

آر ٹی آئی (RTI) کے ذرaیعے معلومات حاصل کرنا ایک قانونی حق ہے لیکن موصول شدہ معلومات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا، تحقیقی تجربے کو بلاوجہ متنازع بنانا اور سی وی کی معمولی فنی تکنیکی باتوں کو "جعل سازی" کا نام دینا کھلی دھوکہ دہی ہے. صوفی اکیڈمی واضح کرتی ہے کہ

ہر سوال جرم نہیں ہوتا اور ہر فنی اختلاف جعل سازی نہیں ہوتا. الزامات کا فیصلہ سوشل میڈیا کے غلاظت پسند ٹرولز نہیں بلکہ اصل قانونی دستاویزات اور مجاز عدالتیں کرتی ہیں.

پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کا تعلق ایک پسماندہ مسلم پس منظر سے ہے. ایک محروم طبقے سے نکل کر اپنی مسلسل محنت، علمی قابلیت اور لیاقت کے بل بوتے پر ملک کی ممتاز ترین مرکزی یونیورسٹی کے اعلیٰ انتظامی منصب تک پہنچنا ایک تاریخی مثال ہے. مفاد پرست عناصر سے ایک پسماندہ مسلم کا اسمقام تک پہنچنا ہضم نہیں ہو رہا اسی لیے ان کے سفر کو مشکوک بنانے کی گھناؤنی کوشش کی جا رہی ہے. یہ صرف ایک فرد کی ذات پر نہیں بلکہ ہر اس محنت کش اور پسماندہ نوجوان کے خوابوں پر حملہ ہے جو تعلیم کے ذریعے آگے بڑھنا چاہتا ہے.

موجودہ شیخ الجامعہ پروفیسر مظہر آصف اور رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کی مشترکہ، انتھک اور شب و روز کی محنت نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کو کامیابیوں کی نئی بلندیوں پر پہنچایا ہے. جن عناصر کو جامعہ کی ترقی سے تکلیف ہو رہی ہے وہ ان شاندار حقائق کو جھٹلا نہیں سکتے ہیں. جامعہ نے ملک بھر کی تمام یونیورسٹیوں میں چوتھا (4th) مقام حاصل کیا۔ ریسرچ میں ۲۰واں اور پائیدار ترقیاتی اہداف (SDG) میں تیسرا مقام حاصل کیا.

قیو ایس 2027 میں جامعہ نے 75 درجے کی تاریخی چھلانگ لگاتے ہوئے 686 واں عالمی مقام حاصل کیا جو کہ اس کی تاریخ کی بہترین رینکنگ ہے.2026 میں عالمی سطح پر 401–500 کے بینڈ میں شامل ہو کر جامعہ ہندوستان کی سب سے اعلیٰ درجہ حاصل کرنے والی مرکزی یونیورسٹی بنی.

سیشن 2025–26 کے اینڈ سیمسٹر امتحانات میں 280 سے زائد پروگراموں کے تقریباً 20,000 طلبہ کے امتحانات اور نتائج کو ریکارڈ مدت میں شفاف طریقے سے مکمل کیا گیا.ان تاریخی نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ جامعہ کا انتظامیہ دن رات محنت کر رہا ہے. دفتری اوقات سے آگے بڑھ کر چھٹیوں کے دنوں میں بھی کام کرنے والی قیادت پر بے بنیاد الزامات لگانا ادارے کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے.

صوفی اکیڈمی اس بیان کے ذریعے ان تمام عناصر، فیک نیوز پھیلانے والے یوٹیوب چینلز، سوشل میڈیا ہینڈلز اور مفاد پرست گروہوں کو سخت خبردار کرتی ہے جو بنا کسی ثبوت کے ایک ذمہ دار پروفیسر اور رجسٹرار کی شخصیت کشی کر رہے ہیں.

ہم جامعہ انتظامیہ اور انتظامی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانے اور ادارے کا ماحول خراب کرنے والے ان شرپسند عناصر کے خلاف سخت قانون ہتک عزت اور سائبر کرائم ایکٹ کے تحت قانونی چارہ جوئی کی جائے.

میڈیا ہاؤسز کو یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ ایک طرفہ الزامات کو سچ بنا کر پیش کرنا صحافتی بددیانتی ہے. اگر کسی کے پاس کوئی شکایت ہے تو وہ عدالت یا مجاز اداروں کا رخ کرے سوشل میڈیا پر میڈیا ٹرائل بند کیا جائے. 

سچائی کو شور کی ضرورت نہیں ہوتی. پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کی تعلیمی و انتظامی خدمات، ان کا کردار اور جامعہ کی شاندار پیش رفت اس زہریلے پروپیگنڈے کا سب سے بڑا جواب ہے. 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)