Aug 30, 2026 11:20 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
سیلاب سے بے حال نیپال !

سیلاب سے بے حال نیپال !

27 Aug 2026
1 min read

Editorial

سیلاب سے بے حال نیپال !

ایڈیٹر کے قلم سے ۔۔۔۔۔

عبدالجبار علیمی نیپالی

پانی انسان کی زندگی کے لیے راحت، بقا اور آسودگی کا ذریعہ ہے، مگر یہی پانی جب بے قابو ہوجائے تو تباہی و بربادی کی ایسی داستان رقم کرتا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ کبھی انسان پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترستا ہے اور کبھی یہی پانی اس کی برسوں کی محنت، گھر، مال و اسباب اور اپنوں کی یادیں اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔

آج نیپال جن حالات سے گزر رہا ہے، ان کا تصور ہی دل دہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ حالیہ سیلاب نے ملک کے مختلف علاقوں میں جو تباہی مچائی ہے، اس نے ہر حساس دل کو اشکبار کردیا ہے۔ ملبے سے برآمد ہونے والی لاشیں، اجڑے ہوئے گھر، بے گھر خاندان، بکھرے ہوئے مال و اسباب اور اپنے پیاروں سے محروم ہوتے بچے اس قدرتی آفت کی سنگینی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے آنے والے مناظر نے پوری قوم کو بے چین کردیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ نیپال کو سیلاب کی تباہ کاری کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ گزشتہ برس بھی سیلاب نے ملک کے مختلف حصوں کو متاثر کیا تھا، جبکہ کوشی ندی میں پانی کے دباؤ کے باعث دروازے کھولنے پڑے تھے، جس کے اثرات سرحد پار بھارت کے بہار اور جھارکھنڈ تک محسوس کیے گئے۔ ایسے مسلسل واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آخر ہم کب تک ہر سال قدرتی آفت کے بعد صرف امداد اور بحالی کی کوششوں تک محدود رہیں گے؟

رپورٹس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پڑوسی ملک چین کی جانب سے سیلاب کے خطرے سے پہلے ہی آگاہ کیا گیا تھا۔ اگر یہ اطلاع درست تھی تو حکومت سے یہ سوال ضرور کیا جانا چاہیے کہ خطرے سے دوچار علاقوں کے لوگوں کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کیوں نہیں کیا گیا؟ پیشگی منصوبہ بندی اور ہنگامی اقدامات کیوں مؤثر انداز میں نہیں کیے گئے؟ قدرتی آفات کو روکا نہیں جاسکتا، لیکن مناسب منصوبہ بندی کے ذریعے جانی و مالی نقصان میں نمایاں کمی ضرور لائی جاسکتی ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ موجودہ صورتِ حال کو محض ایک ہنگامی بحران سمجھنے کے بجائے مستقبل کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی مرتب کرے۔ سیلاب زدہ علاقوں کی نشاندہی، بروقت وارننگ کا مؤثر نظام، محفوظ مقامات کا قیام، فوری انخلا کا منصوبہ، دریاؤں اور آبی گزرگاہوں کی نگرانی اور امدادی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہر سال سیلاب آنے کے بعد اقدامات کرنے کے بجائے سیلاب سے پہلے تیاری کرنا ہی دانش مندی ہے۔

اس مشکل گھڑی میں صرف حکومت کی طرف دیکھنا بھی کافی نہیں۔ نیپال میں سرگرم سماجی، فلاحی اور انسانی خدمت کی تنظیموں کو آگے بڑھنا ہوگا۔ مخیر حضرات، رضاکار اور عام شہری اپنی استطاعت کے مطابق متاثرین تک خوراک، صاف پانی، ادویات، لباس اور دیگر ضروری سامان پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس وقت کسی سیاسی، لسانی یا علاقائی تقسیم سے بالاتر ہوکر انسانیت کی بنیاد پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کی ضرورت ہے۔

یہ سیلاب صرف نیپال کا مسئلہ نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ دریاؤں کا پانی سرحدوں کا پابند نہیں ہوتا، اس لیے ایسے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے پڑوسی ممالک کے درمیان بروقت اطلاعات، باہمی تعاون اور مشترکہ منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔

آج ہماری آنکھیں اشکبار ہیں اور دل غم سے بوجھل۔ مگر یہی وقت ہے کہ ہم غم کو اجتماعی عمل میں تبدیل کریں۔ حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں، متاثرین تک پہنچیں اور اپنے ان بہن بھائیوں کو تنہا نہ چھوڑیں جنہوں نے اس آفت میں اپنا سب کچھ کھودیا ہے۔ حب الوطنی صرف نعروں کا نام نہیں؛ مشکل وقت میں اپنے لوگوں کے کام آنا ہی حقیقی حب الوطنی ہے۔

قدرتی آفات ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہیں کہ انسانی جان سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کریں، مستقبل کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کریں اور ایک ایسا نظام تشکیل دیں جو آنے والی نسلوں کو ہر سال اسی طرح کی بے بسی سے دوچار ہونے سے محفوظ رکھ سکے۔

اللہ کریم ہمارے ملک نیپال کی حفاظت فرمائے، سیلاب زدگان کی مدد فرمائے متاثرہ خاندانوں کو صبر و حوصلہ عطا فرمائے۔ آمین۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)