Aug 30, 2026 11:23 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی

27 Aug 2026
1 min read

نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی

✍️ : ابن اشرف 

متعلم : مظاہر علوم سہارنپور

نبی کریم ﷺکے ذریعہ سے اللہ تعالٰی نے دنیا کے لئے جو دین بھیجا وہ جس  طرح ہماری انفرادی زندگی کا دین ہے اسی طرح ہماری اجتماعی زندگی کا بھی دین ہے جس طرح وہ عبادت کے طریقے بتاتا ہے اسی طرح وہ سیاست کے آئین بھی سکھاتا ہے اور  جتنا تعلق اِس کا مسجد سے ہے اُتنا ہی تعلق اِس کا حکومت سے بھی ہے۔ اس دین کو ہمارے نبی ﷺ نے لوگوں کو بتایا اور سکھایا بھی اور ایک وسیع ملک کے اندر اس کو عملا جاری و نافذ بھی کردیا ۔ اس وجہ سے حضور کی زندگی جس طرح بحیثیت ایک  مزکّی نفوس اور ایک معلمِ اخلاق کے ہمارے لئے أسوہ اور نمونہ ہے اسی طرح بحیثیت ایک ماہر سیاست کے بھی أسوہ اور مثال ہے ۔

جب ہم آپ کے حیات مبارکہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو آپ ﷺ کی زندگی کے تمام نشیب وفراز ایک ہیسیرت میں یکجا مکمل پاتے ہیں اور وہ ہمارے لئے قابل اتباع وتقلید ہیں اور اللہ کا یہ احسان أعظم ہے کہ اس نے بندوں کی ہدایت کے لئے آپ ﷺ کو مبعوث فرمایا ۔ جب آقائے نامدار کو مبعوث کیا گیا تو اُس وقت دنیا تاریکی ،جہالت ،ابتری وذلت کے انتہائی پر آشوب دور سے گزر رہی تھی۔ یونانی فلسفہ اپنی ناپائیدار اقدار کا ماتم کر رہا تھا۔ رومی سلطنت روبہ زوال تھی ،ایران و چین اپنی اپنی ثقافت وتمدن کو خانہ جنگی کے ہاتھوں رسوا ہوتے دیکھ رہے تھے ۔ہندوستان میں آریہ قبائل اور گوتم بدھ کی تحریک آخری ہچکیاں لے رہی تھی ۔ترکستان اور حبشہ میں بھی ساری دنیا کی طرح اخلاقی پستی کا دور دورہ تھا۔

اور عرب کی حالت زار تو اس سے بھی دگرگوں تھی ،سیاسی تہزیب و تمدن کا تو شعور ہی  نہ تھا عرب وحدت و مرکزیت سے آشنا نہیں تھے ،وہاں ہمیشہ لاقانونیت ،باہمی جنگ وجدل کا دور دورہ رہا ۔ ایک خاص بدویانہ حالت پر صدیوں تک زندگی گزارتے گزارتے ان کا مزاج نراجیت پسند کے لئے اتنا پختہ ہو چکا تھا کہ ان کے اندر وحدت و مرکزیت پیدا کرنا ایک امر محال تھا ، خود قرآن نے ان کو «قومالدا» کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ جس کے معنیٰ جھگڑالو قوم کے ہیں اور ان کی وحدت و تنظیم کے بارے میں فرمایا ہے کہ«لو أنفقت مافي الأرض جمعيا ما الفت بين قلوبهم » (الأنفال 8:62)۔

نبی کریم ﷺ نے ۲۳ برس کی قلیل مدت میں اپنی تعلیم و تبلیغ سے اس قوم کے مختلف عناصر کو اس طرح جوڑدیا کہ یہ پوری قوم ایک بنیانِ مرصوص بن گئ ۔ یہ صرف متحد اور منظم ہی نہیں ہوگئ بلکہ اس کے اندر صدیوں کے پرورش پاۓ ہوئے اسباب نزاع و اختلاف بھی ایک ایک کر کے دور ہو گئی_ یہ صرف اپنی ظاہر ہی میں متحد و مربوط نہیں ہوگئی بلکہ اپنے باطنی عقائد و نظریات میں بھی ہم اہنگ اور ہم رنگ ہو گئی _ یہ صرف خود ہی منظم نہیں ہوگئی بلکہ اس نے پوری انسانیت کو بھی اتحاد و تنظیم کا پیغام دیا اور اس کے اندر حکم و اطاعت دونوں چیزوں کی ایسی اعلی صلاحیتیں ابھر آئیں کہ صرف استعارے کی زبان میں نہیں بلکہ واقعات کی زبان میں یہ قوم شُتر بانی سے جہاں بانی کے مقام پر پہنچ گئی _ اور اس نے بلا استثنیٰ دنیا کی ساری قوموں کو سیاست اور جہاں بانی کا درس دیا۔ حضورؐ نے اپنی سیاسی زندگی سے دنیا کو یہ درس دیا کہ ایمانداری اور سچائی جس طرح انفرادی زندگی کی بنیادی اخلاقیات میں سے ہے ،اسی طرح اجتماعی اور سیاسی زندگی کے لوازمات میں سے بھی ہے، بلکہ آپؐ نے ایک عام شخص کے جھوٹ کے مقابل میں ایک صاحبِ اقتدار اور ایک بادشاہ کے جھوٹ کو کہیں زیادہ سنگین قرار دیا ہے__ آپؐ کی پوری سیاسی زندگی ہمارے سامنے ہے_ اس سیاسی زندگی میں وہ تمام مراحل آپؐ کو پیش آئے ہیں جن کے پیش آنے کی ایک سیاسی زندگی میں توقع کی جا سکتی ہے_ آپؐ نے ایک طویل عرصہ نہایت مظلومیت کی حالت میں گزارا اور پھر کم و بیش اتنا ہی عرصہ آپؐ نے اقتدار و سلطنت کا گزارا _ اس دوران میں آپؐ کو حریفوں اور حلیفوں دونوں سے مختلف قسم کے سیاسی اور تجارتی معاہدے کرنے پڑے، دشمنوں سے متعدد جنگیں کرنی پڑیں ، عہد شکنی کرنے والوں کے خلاف جوابی اقدامات کرنے پڑے ، آس پاس کی حکومتوں کے وفود سے سیاسی گفتگوئیں کرنی پڑیں ۔

یہ سارے کام آپؐ نے انجام دیے لیکن دوست اور دشمن ہر شخص کو اس بات کا اعتراف ہے کہ آپؐ نے کبھی کوئی جھوٹا وعدہ نہیں کیا، کسی معاہدے کی کبھی خلاف ورزی نہیں کی، حلیفوں کے نازک سے نازک حالات میں بھی ساتھ دیا اور دشمنوں کے ساتھ بدتر سے بدتر حالات میں بھی انصاف کیا۔ اگر آپؐ دنیا کے مدبرین اور اہل سیاست کو اس کسوٹی پر جانچیں تو مَیں پورے اعتماد کے ساتھ یہ کہتا  ہوں کہ محمدؐ کے سوا کسی کو بھی اس کسوٹی پر کھرا نہ پائیں گے۔

اہل سیاست کے لئے طمطراق بھی سیاست کے لوازمات میں سے سمجھا جاتا ہے ۔ جو لوگ عوام کو ایک نظام میں پرونے اور ایک نظم کے تحت منظم کرنا چاہتے ہیں وہ بہت سی باتیں اپنوں اور بیگانوں میں اپنی سطوت جمانے کے لئے اختیار کرتے ہیں ۔ اگر وہ یہ باتیں نہ اختیار کریں گے تو سیاست کے جو تقاضے ہیں وہ اُنہیں پورا کرنے سے قاصر رہ جائیں گے ۔ اس مقصد کے لئے جب وہ نکلتے ہیں تو ان کے نعرے بلند کراۓ جاتے ہیں ،ان کی شان میں قصیدے پڑھے جاتے ہیں، ان کو سلامیاں دی جاتی ہیں اور جب وہ سڑک پر نکلنے والے ہوتے ہیں تو وہ سڑک دوسروں کے لئے بند کر دی جاتی ہے ۔لیکن ہمارے نبی ﷺ اس اعتبار سے بھی دنیا کے تمام اہلِ سیاست سے الگ رہے۔جب آپ اپنے صحابہ ؓ میں چلتے تو کوشش کرتے کہ سب کے پیچھے چلیں ،مجلس میں تشریف رکھتے تو اس طرح گھل مل کر بیٹھتے کہ یہ امتیاز کرنا مشکل ہوتا کہ محمد ؐ کون ہے ؟ آپ جو لباس دن میں زیب تن کرتے اسی میں شب میں آرام فرماتے اور صبح کو وہی لباس پہنے ہوئے وفودوں سے مسجد نبویؐ کے فرش پر ملاقاتیں فرما 

کے تمام اہم سیاسی امور کے فیصلے فرماتے ۔

آخر میں ایک بات عرض کردینا ضروری سمجھتا ہوں کہ نبیؐ کا اصل مقام و مرتبہ یہ ہے کہ آپؐ نبیِ خاتم اور پیغمبر عالم ہیں۔ سیاست اور تدبر اس مرتبۂ بلند کا ایک ادنی شعبہ ہے۔ نبوت ورسالت ایک عظیم عطیہ الٰہی ہے ۔جب اللہ یہ اپنے کسی بندے کو بخشتا ہے تو وہ سب کچھ اس کو بخش دیتا ہے ،جو اس دنیا میں بخشا جاسکتا ہے ۔پھر حضورؐ تو صرف نبی ہی نہیں تھے بلکہ خاتم الانبیاء علیہم السلام ہیں ،صرف رسول ہی نہیں تھے بلکہ سید المرسلین ہیں،صرف اہل عرب کے لئے نہیں بلکہ تمام عالم کے لئے مبعوث ہوۓ تھے اور یہ بھی ہر کس وناکس جانتا ہے کہ آپؐ کسی دینِ رہبانیت کے داعی بن کر نہیں آئے،بلکہ ایک ایسے دین کے داعی تھے جو روح اور جسم دونوں پر حاوی ،دنیا اور آخرت دونوں کی حسنات کا ضامن تھا ۔ جب صورت حال یہ ہے تو بظاہر ہے کہ حضورؐ سے بڑا سیاست دان اور مدبر کون ہوسکتا ہے ۔لیکن یہ چیز آپؐ کا اصلی کمال نہیں بلکہ آپؐ کے فضائل و کمالات کا محض ایک ادنیٰ شعبہ ہے۔

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)