May 20, 2026 10:23 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
مدرسہ علیمی نسواں، رگڑ گنج کا سنگِ بنیاد اور تعلیمی بیداری کانفرنس اختتام پذیر

مدرسہ علیمی نسواں، رگڑ گنج کا سنگِ بنیاد اور تعلیمی بیداری کانفرنس اختتام پذیر

18 May 2026
1 min read

مدرسہ علیمی نسواں، رگڑ گنج کا سنگِ بنیاد اور تعلیمی بیداری کانفرنس اختتام پذیر 

پریس ریلیز نیپال اردو ٹائمز (عبدالجبار علیمی نیپالی)

پہلا سیشن: صبح کا اجلاس (صبح 8 بجے)

مورخہ 17 مئی، بروز اتوار، مدرسہ علیمی نسواں، رگڑ گنج کے سنگِ بنیاد کی تقریب اور عظیم الشان تعلیمی بیداری کانفرنس زیر اہتمام حضرت مولانا محمد صدام علیمی (بانی و سربراہ اعلیٰ مدرسہ علیمی نسواں کالج) بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔ یہ تقریب علاقے میں دینی و تعلیمی بیداری کی ایک اہم پیش رفت قرار دی گئی۔

اعلان کے مطابق صبح آٹھ بجے سے پروگرام باضابطہ شروع ہوا۔

پروگرام کا آغاز قاریِ خوش الحان مولانا اظہر علی علیمی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں شاعرِ خوش نوا جناب اشتیاق نیپالی، قاری معروف اور قاری زبیر فیضی صاحبان نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہوئے نعتِ پاک کا نذرانہ پیش کیا، جسے حاضرین نے خوب سراہا۔کانفرنس کا ابتدائی خطاب مولانا اسرار القادری نجمی صاحب نے فرمایا، جس میں انہوں نے دینی و عصری تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

اس کے بعد مقررِ خصوصی، اولادِ غوثِ پاک حضرت مولانا سید امین القادری صاحب (نگراں سنی دعوتِ اسلامی، مالیگاؤں) نے بصیرت افروز خطاب کرتے ہوئے کہا: "آج 'بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ' کا نعرہ دیا جا رہا ہے، مگر پیغمبرِ اسلام ﷺ نے پندرہ سو سال قبل نہ صرف بیٹیوں کو تحفظ عطا فرمایا بلکہ انہیں علم کے زیور سے بھی آراستہ کیا۔" انہوں نے مشائخِ مارہرہ کا پیغام دہراتے ہوئے فرمایا"آدھی روٹی کھائیں گے، مگر بچوں کو ضرور پڑھائیں گے۔" ان کا کہنا تھا کہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی ضروریات میں 

سادگی اختیار کرے اور اولاد کو دینی و عصری تعلیم سے آراستہ کرے۔

مقررِ خصوصی سے قبل حضرت حافظ ارباب فاروقی صاحب نے بھی نہایت مؤثر اور مدلل خطاب فرمایا۔

بعد ازاں نورُ المشائخ حضرت سید عبدالرب صاحب قبلہ المعروف چاند بابو اور ان کے صاحبزادے حضرت سید محمد حسن نظامی صاحب نے اپنے دعائیہ کلمات میں تعلیم سیرتِ نبوی ﷺ اور اصلاحِ معاشرہ کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اس عظیم تعلیمی ادارے کے قیام اور استحکام میں ہر ممکن تعاون کریں۔

 پروگرام کے اختتام پر مذکورہ ساداتِ کرام اور علمائے عظام کے مبارک ہاتھوں سے مدرسہ علیمی 

نسواں، رگڑ گنج کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ اس موقع پر شرکاء نے اس مدرسے کی کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔

دوسرا سیشن: جلسہ خواتین (صبح 11 بجے)

اعلان کے مطابق 11 بجے جلسہ خواتین کا آغاز ہوا۔

تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جو امن فاطمہ اور ان کی ہم نوا صائمہ خاتون نے پیش کی، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔اس کے بعد حمدِ باری تعالیٰ خوبصورت انداز میں شفاء فاطمہ نے پیش کی۔ نعتِ مصطفیٰ ﷺ کے نذرانے پیش کرنے والی طالبات میں کہکشاں خاتون، الفیہ خاتون 

(درجہ اول)، صبا فاطمہ، اور صائبہ خاتون شامل تھیں۔ ان کی خوش الحانی نے پوری فضا عقیدت و محبت سے معطر کر دی۔

طالبات کی خطابت اس کے بعد طالبات کی جانب سے خطابت کا سلسلہ شروع ہوا۔ امن فاطمہ نے موضوع "ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے" پر بہت مؤثر اور پراثر خطاب کیا۔کانفرنس کی خاص کشش معروف عالماتِ دین کے خطابات رہے۔

· محترمہ عالمہ فاضلہ قاریہ سیدہ انجم صاحبہ (فیض آباد، پرنسپل جامعہ خدیجۃ الکبریٰ، رونہی) نے انتہائی عمدہ اور علمی خطاب کرتے ہوئے موضوع "اے ایمان 

والو! بچو اور بچاؤ اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں" پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ علمِ دین کے ذریعے ہی انسان ہر چیز کو پہچان سکتا ہے۔ · محترمہ عالمہ فاضلہ قاریہ شگفتہ علیمی صاحبہ نے بہت ہی پرجوش خطاب کرتے ہوئے موضوع "ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے" پر گفتگو کی۔ انہوں نے ماں کی تربیتی اہمیت کو اجاگر کیا۔محترمہ عالمہ فاضلہ قاریہ سیدہ تبسم صاحبہ (فیض آباد) نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کے چند اشعار نہایت بہترین انداز میں پڑھے اور ان کے معانی و مطالب بھی بیان کیے، جسے خوب پسند کیا گیا۔

ردا پوشی کی تقریب

جلسے کے آخری حصے میں محترمہ عالمہ فاضلہ قاریہ سیدہ عابدہ فاطمہ صاحبہ کے با برکت ہاتھوں سے فضیلت و قراءت والی بچیوں کی ردا پوشی کی گئی۔ یہ لمحہ طالبات اور ان کے والدین کے لیے شدید جذباتی اور قابلِ فخر تھا۔

دعائے خیر اور اختتام

آخر میں محترمہ عالمہ فاضلہ قاریہ شگفتہ علیمی صاحبہ نے دعائے خیر فرمائی اور مدرسہ علیمی نسواں، رگڑ گنج کی کامیابی، استحکام اور ترقی کے لیے خصوصی دعا کی۔

ان تمام روحانی، علمی اور دعائیہ منازل کو طے کرتا ہوا یہ عظیم الشان جلسہ بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ علاقے کے لوگوں نے اس تقریب کو دینی بیداری اور خواتین کی تعلیم کے فروغ میں ایک سنہری باب قرار دیا۔ یہ تمام تقریبات علاقے میں دینی و تعلیمی بیداری کے حوالے سے ایک تاریخی اور خوش آئند پیش رفت ثابت ہوئیں۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)