بغیر بجلی کے چلنے والا اے سی: سعودی سائنس دانوں کی انقلابی ایجاد، 20 منٹ میں حیرت انگیز ٹھنڈک
مولانا مشہود خاں نیپالی
پریس ریلیز
سعودی عرب کے ممتاز تحقیقی ادارے کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے ایک ایسی جدید اور انقلابی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جو بغیر بجلی کے ٹھنڈک فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس منفرد نظام کو “نیسکوڈ” (No Electricity and Sustainable Cooling on Demand) کا نام دیا گیا ہے، جو توانائی کے بحران اور ماحولیاتی چیلنجز کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ یہ تحقیق بین الاقوامی شہرت یافتہ سائنسی جریدے جرنل آف انرجی اینڈ انوائرنمنٹل سائنس میں شائع ہوئی ہے، جس میں پروفیسر پینگ وانگ اور ان کی ٹیم نے قدرتی اصولوں اور سادہ مواد کی مدد سے ایک مؤثر کولنگ سسٹم تیار کیا ہے۔ بغیر بجلی یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟ یہ جدید کولنگ سسٹم امونیم نائٹریٹ نامی ایک عام کیمیائی مادے کے ذریعے کام کرتا ہے، جو عام طور پر کھاد کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ جب اسے پانی میں حل کیا جاتا ہے تو یہ اپنے اردگرد کی حرارت کو تیزی سے جذب کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ماحول کا درجہ حرارت فوری طور پر کم ہو جاتا ہے اور نمایاں ٹھنڈک پیدا ہوتی ہے۔
تحقیقی تجربات کے مطابق، پانی اور امونیم نائٹریٹ کا یہ امتزاج صرف 20 منٹ میں درجہ حرارت کو 25 ڈگری سیلسیس سے کم کر کے 3.6 ڈگری سیلسیس تک لے آیا، جو اس نظام کی غیر معمولی کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔ خود کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کی صلاحیت “نیسکوڈ” ٹیکنالوجی کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ نظام بغیر بجلی کے خود کو دوبارہ قابلِ استعمال بنا سکتا ہے۔ حرارت جذب کرنے کے بعد، یہ نظام شمسی توانائی کی مدد سے پانی کو بھاپ میں تبدیل کرتا ہے، جس سے امونیم نائٹریٹ دوبارہ اپنی اصل ٹھوس حالت میں آ جاتا ہے اور دوبارہ استعمال کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ بھاپ بننے والے پانی کو بھی دوبارہ جمع کر کے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو پانی کی قلت والے علاقوں کے لیے نہایت مفید ہے۔
عالمی سطح پر انقلابی اثرات عالمی توانائی کے اداروں کے مطابق دنیا بھر میں استعمال ہونے والی بجلی کا تقریباً 10 فیصد حصہ صرف ایئر کنڈیشنرز پر خرچ ہوتا ہے، جبکہ لگ بھگ 70 کروڑ افراد اب بھی بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔ ایسے حالات میں “نیسکوڈ” جیسی ٹیکنالوجی توانائی کے استعمال میں نمایاں کمی لا سکتی ہے اور بجلی سے محروم علاقوں میں ٹھنڈک کی سہولت فراہم کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر اس ٹیکنالوجی کو تجارتی سطح پر متعارف کرایا گیا تو یہ روایتی اے سی کے مقابلے میں زیادہ سستی، ماحول دوست اور پائیدار متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔ ٹھنڈک کے ساتھ انسانی خدمت کا نیا باب یہ جدید نظام نہ صرف گھروں کو ٹھنڈا رکھنے میں معاون ثابت ہوگا بلکہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں خوراک، ادویات اور ویکسینز کو محفوظ رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ماہرین اسے کم کاربن اخراج اور پائیدار مستقبل کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔ یہ انقلابی ایجاد بلاشبہ سائنسی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت ہے، جو مستقبل میں انسانی زندگی کو مزید آسان، محفوظ اور ماحول دوست بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
مولانا مشہود خاں نیپالی
