نکاح مردوعورت کے اخلاق اور پاکیزگی کی ضمانت ہےـ مولانا سید عبد الرب عرف چاند بابو
مہنداول ،سنت کبیر نگر (اخلاق احمد نظامی)
مرکزی درسگاہ دارالعلوم اہل سنت تنویر الاسلام امرڈوبھا شہر پنچایت بکھرا بازار کے سابق پرنسپل و شیخ الحدیث جامع معقول و منقول حضرت علامہ نور محمد قادری براؤنی صاحب علیہ الرحمہ کے لخت جگر حضرت مولانا غلام سبحانی نظامی مقام و پوسٹ اوجھا گنج ضلع بستی آج منگل کو گلرہا مہنداول میں رشتہ ازدواج سے منسلک ہوگئے عقد مسنونہ خانقاہ عالیہ مخدومیہ سبحانیہ فردوسیہ بلہری شریف ضلع اجودھیا کے سجادہ نشین شبلئ وقت آل رسول حضرت علامہ الحاج سید عبد الرب عرف چاند بابو نے دارالعلوم اہلسنت سبحانیہ غریب نواز گلرہا مہنداول کے احاطہ میں پڑھائی اور زوجین کے درمیان الفت و محبت کی دعا کی اس کے فوراً بعد مشرقی اتر پردیش کے معروف ثنا خوان مصطفی شاعر اسلام غلام غوث رضوی نے بارگاہ خیرالانام صلی اللہ علیہ وسلم میں منظوم خراج عقیدت پیش کئے
تاہم پیر طریقت جانشین مخدوم ملت حضرت علامہ الحاج سید عبد الرب عرف چاند بابو نے نکاح کی اہمیت و افادیت پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذہب اسلام نے نکاح کے نظام کوبڑا مرتب،منظم اور مہذب کیا ہے،اس کی بنیادیں مضبوط کی ہیں اور اس کے نوک پلک سنوارکر اس مقدس اور پاکیزہ تعلق کو حسن و جمال دیا ہے۔ جس میں ہر طرح کا رکھ رکھاؤ ہے قانونی بھی اور اخلاقی بھی-
علامہ سید چاند بابو نے کہا کہ ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ اسلام کی نظرمیں نکاح کا تعلق صرف دنیاداری کا تعلق نہیں ہے بلکہ یہ خدا پرستی کا بھی ذریعہ ہے کیوںکہ اسلام میں ترکِ دنیا کا کوئی تصورنہیں ہے۔اس لئے ترکِ نکاح مستحسن نہیں ہے بلکہ حقیقت میں نکاح دین کی تکمیل ہے۔ جسم اور روح کی یہ طاقت ایک ’’بامقصدعطیۂ خداوندی‘‘
ہے اور اسے صحیح رخ پر اور ٹھیک حدوں میں پوری طرح کام کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔
علامہ سید چاند بابو نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا نکاح میری سنت ہے اور جس نے میری سنت پہ عمل نہیں کیا وہ میرا نہیں ہے۔
اور فرمایا کہ جب بندہ نکاح کرلیتا ہے تو وہ اپنا آدھا دین پورا کرلیتا ہے بس باقی آدھے کے بارے میں بھی تقویٰ کی روش اختیار کرے۔علامہ سید چاند بابو نے کہا کہ اسلام میں نکاح کے کئی مقاصد ہیں اس میں پہلا مقصدمردوعورت کے اخلاق اور پاکیزگی کی حفاظت ہے یہ اسلام کی نگاہ میں نکاح کا اولین اور اہم ترین مقصدہے کہ مردوعورت دونوں کے اخلاق اور ان کی عفت و عصمت کی پوری طرح حفاظت کی جائے۔ اسلامی قانون میں ناجائز تعلق حرام ہے اوراس کی سخت سزا ہے۔ اسلام مرد و عورت دونوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے فطری تعلق اور نفسانی خواہش کو ایسے ضابطے کا پابند بنائیں جو ان کے اخلاق کو بے حیائی سے او رانسانی تمدن کوفساد سے محفوظ رکھ سکے۔
علامہ سید چاند بابو نے کہا کہ قرآن میں نکاح کی تعبیر ’احصان‘‘ سے کی گئی ہے،احصان کے معنیٰ ہیں قلعہ بندی،نکاح کرنے والا مرد ’’محصن‘‘ یعنی قلعہ تعمیر کرنے والا ہے اور
نکاح میں آنے والی عورت ’’محصنہ‘‘ یعنی اس قلعہ کی حفاظت میں آنے والی ہے۔ نکاح کا پہلا کام اس قلعہ کومستحکم اور مضبوط کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نکاح کا دوسرا مقصد ہے نسل انسانی کی بقا اوراس کی افزائش،نسل انسانی کی بقا اور افزائش کے خدائی منصوبے کاذریعہ مردوعورت کا تعلق ہے، نکاح کا تیسرا مقصد ہے سکون قلب اور مؤدت و رحمت،یعنی یہ رشتہ مردوعورت کے درمیان دلی تعلق کی بنیاد بنے تاکہ دونوں کی گھریلو زندگی میں وہ راحت ومسرت اور سکون قلب حاصل ہو جو انسانی تمدن کو آگے بڑھانے کے لئے ان کو طاقت و قوت فراہم کرے۔
علامہ سید چاند بابو نے کہا کہ نکاح کا چوتھا مقصد ہے دینی اور معاشرتی مصلحت ،نکاح میں کبھی کوئی دینی مصلحت بھی ہوتی ہے جس کی بہترین مثال خود حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں انہوں نے مزید کہا کہ نکاح ایک بامقصد عبادت ہے اور نکاح کی مجلس عبادت کی مجلس ہے اور شاید اسی لئے عبادت کی جگہ ’’مسجد‘‘ نکاح کے لئے افضل ہے اور اگر جمعہ کا دن ہوتواوربھی بہتر ہے کہ جمعہ کے دن کی فضیلت اور برکت اس پاکیزہ رشتے کو اوربابرکت بنادے گی۔نکاح کی فضیلتیں اور یہ فوائد اسی وقت حاصل ہوتے ہیں جب نکاح کو مسنون طریقہ پر سادہ اور آسان انداز میں منعقد کیا جائے ،چوں کہ نکاح ایک عبادت ہے اور ہماری عبادت کی انجام دہی میں ہمیں اس بات کا پابند کیاگیا ہے کہ ہم اسوہ ٔرسولؐ کی پیروی کریں ،ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ نکاح کے سلسلے میں اسلامی ہدایات اور نبوی تعلیمات سے واقفیت حاصل کرے اور ان کے مطابق نکاح کے امور انجام دے۔
علامہ سید چاند بابو نے کہا کہ افسوس آج مسلمانوں کا مزاج اور ان کی سوچ رشتۂ نکاح کے سلسلہ میں بدل چکی ہے اورجب کسی سماج اورمعاشرے میں سوچنے کاانداز بدل جاتا ہے اور دین و اخلاق، نیکی و شرافت کے بجائے دوسری چیزیں عزت و ذلت کا معیاربن جاتی ہیں توسارا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے انہوں نے کہا کہ’’صالح قدریں‘‘ سوسائٹی کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ان کی حفاظت کرنا ساری سوسائٹی کی ذمہ داری ہے۔ صالح معاشرہ کی بنیاد صالح خاندان اور صالح خاندان کی بنیاد ’’صالح جوڑا‘‘ ہے اس لئے خوب سوچ سمجھ کر قدم اٹھائیے ایک غلط قدم تباہی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے، آپ کے لئے بھی اور معاشرے کے لئے بھی۔
علامہ سید چاند بابو نے کہا کہ اسلام نے نکاح میں محض لڑکے کے اوپر مہر کی ادائیگی لازم کی ہے اور دعوت ولیمہ کو اس کے لیے سنت قرار دیاہے، رہی بات لڑکی والوں کی تو ان پر کوئی خرچ عائد نہیں کیا ہے ،جب کہ لڑکے کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق نکاح کے بعد ولیمہ کرے ، بعض علاقوں میں جہیز کے علاوہ لڑکی والوں سے نقد رقم کا مطالبہ ہوتا ہے،لڑکے کی مالی تعلیمی اور سماجی حیثیت کے مطابق رقم ادا کی جاتی ہے،ایسا کرنا صریح گناہ اور ظلم و زیادتی ہے علامہ سید چاند بابو نے کہا کہ نکاح کو سادہ اور آسان بنانے اور شادی بیاہ میں شامل ہوچکی بیجا رسوم ورواج کو مٹانے کے لیے ہم سب کو آگے آنا ہوگا جس سامعین نے جم کر حمایت کی اس موقع پر مولانا مفتی انوار احمد امجدی سجادہ نشین خانقاہ فقیہ ملت اوجھا گنج بستی،مولانا الحاج عمادالدین قادری، مولانا مفتی عبد الحئی امجدی ،مولانا عبد الرحیم قادری،مولانا محمد مؤنس عالم نظامی، غلام ربانی نظامی ،ڈاکٹر مولوی علی احمد کشی نگر ، مولانا مفتی رضاء المصطفیٰ مصباحی پڈرونہ ،مولانا شمس الحق قادری مولانا مفتی افتخار احمد خان بستی ،قاری اخلاق احمدنظامی، مولانا موصوف احمد فیضی ، مولانا غلام یزدانی احمد نظامی ،مولانا ارشاد احمد سبحانی ، ڈاکٹر روشن علی سبحانی ،حافظ محمد عارف قادری،حافظ محمد شفیق، مولانا شاہ عالم سبحانی، نور محمد انصاری ،محمد شاہد انصاری اور مولانا محمد عارف منظری کے علاوہ کثیر تعداد میں فرزندان توحید و رسالت موجود تھے پروگرام کا اختتام صلوۃ و سلام پر ہوا
