دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی میں عرس حضور صدر الشریعہ عرس حضور تاج الشریعہ و یوم اساتذہ کا انعقاد
پریس ریلیز
نیپال اردو ٹائمز (اکرام احمد خان علیمی)
(جمدا شاہی بھارت )
الحمدللہ! مورخہ ۲۲/ اپریل ۲۰۲۶ ء بروز بدھ بوقت ۱۰ بجے دن دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی میں گزشتہ سالوں کی طرح ام سال بھی عالم اسلام کی دو عظیم شخصیات فقیہ اعظم ہند، حضور صدرالشریعہ، بدر الطریقہ حضرت علامہ الحاج الشاه مفتی محمد امجد علی اعظمی صاحب قبلہ قدس سرہ العزیز مصنف بہار شریعت و وارث علوم اعلیٰ حضرت، نبیرہ حجۃ الاسلام، جانشین مفتی اعظم ہند، حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ الحاج الشاہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری کی بارگاہ میں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک عظیم الشان تقریب بنام " عرس حضور صدرالشریعہ و حضور تاج الشریعہ" نیز یوم اساتذہ کا انعقاد بڑے والہانہ اور نرالے انداز میں ہوا۔ حضرت قاری قمرالدین قمر علیمی صاحب نے اپنی دل نشین آواز میں تلاوت کلام اللہ سے اس پروگرام کا آغاز کیا۔
بعدہ مختلف طلبہ نے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی محبتوں کے گل بشکل نعت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔
یہ محض طلبہ کی تقریب نہیں تھی بلکے اساتذہ و طلبا کی باہمی محنتوں کا حسین سنگم اور علاقے کے بااثر افراد اور خصوصاً تنظیم ابناے علیمیہ کی شب و روز کی کاوشوں کا خوب صورت نتیجہ تھا۔
بعد ازاں اساتذہ دارالعلوم علیمیہ نے نور نکہت میں ڈوبی ہوئی اس تقریب میں اپنی شرکت سے مزید روشنی ڈال دی۔
اس موقع پر استاذ محترم،مصنف کتب کثیرہ،ماہر زبان و بیان حضرت علامہ مفتی کمال احمد علیمی نظامی حفظہ اللہ نے اپنے خطاب سے طلبہ کے دلوں کو مسحورو معطر کیا اور اساتذہ کے مرتبہ اور شان کو بیان کرتے ہوئے ایک نئی فکر کی بنیاد رکھی۔
آپ کے بعد ماہر علوم و فنون،محقق عصر،استاذ الفقہا،علامہ مفتی نظام الدین علیمی مصباحی حفظہ اللہ نے حضور صدرالشریعہ کے تفقہ اور علمی مہارت و فراست پر سیر حاصل گفتگو فرمائی اور اُن کے علمی فیضان سے بہرہ ور ہونے کی تلقین کرتے ہوئے کثیر علمی و استدلالی جزئیات سے شان صدرالشریعہ کو خوب صورت پیرائے میں بیان کیا۔
اسی اثنا مخیرين علیمیہ خصوصیت کے ساتھ عالی جناب سیٹھ عبد المجید خان صاحب رضوی، عالی جناب محمد حسین صاحب، عالی جناب مشاہد رضا خان صاحب و دیگر محبین علیمیہ کی آمد ہوئی۔
اس انجمن محبت کی آخری کڑی کے طور پر تاج الفقہا،جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، ضیغم اہل سنت،مناظر اسلام،شاہین فکر رضا،ماہر رضویات علامہ مفتی اختر حسین علیمی حفظہ اللہ کی آمد ہوئی اور حضور والا نے اپنے خوب صورت اور دلوں کو موہ لینے والےانداز خطابت سے امام اہل سنت اور صدرالشریعہ و تاج الشریعہ کی علمی و فقہی خدمات كا ذکر فرماتے ہوئے طلبہ کو نصیحت فرمائی کہ علم کے ساتھ بزرگوں کا احترام اور خصوصاً سیدی سرکار اعلی حضرت کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھیں اسی میں دنیا و آخرت کی سرخ روئی اور فیروز بختی ہے۔ آپ کی گفتگو مختصر مگر اس قدر جامع تھی کہ طلبہ ہمہ تن گوش ہوکر محو سماعت رہے گویا سب اپنی زبان حال سے یہی کہہ رہے تھے: ع
ہم ہوئے،تم ہوئے کہ میر ہوئے
سب اُن کی زلفوں کے اسیر ہوئے۔
پھر طلبۂ دارالعلوم علیمیہ نے مخیرین علیمیہ و اساتذہ علیمیہ کی گل پوشی فرماتے ہوئے اِن حضرات کی بارگاہ میں تحائف پیش کیے۔
آخر میں صلات و سلام کے ساتھ یہ عظیم تقریب اختتام پذیر ہوئی۔
رپورٹ از : اکرام احمد خان علیمی
متعلم دورۂ حدیث سال آخر دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی
بتاریخ - 23 اپریل 2026ء
