Mar 16, 2026 01:45 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
ایران امریکہ جنگ کے اثرات اقوام عالم پر: عبدالجبار علیمی نیپالی

ایران امریکہ جنگ کے اثرات اقوام عالم پر: عبدالجبار علیمی نیپالی

12 Mar 2026
1 min read

ایران امریکہ جنگ کے اثرات اقوام عالم پر

ایڈیٹر کے قلم سے ۔۔۔۔۔

مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا سیاسی کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور سماجی حالات تک پھیل جاتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں پائی جانے والی اس کشیدگی کا ایک اہم پہلو امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے اس خطے میں طاقت کے استعمال، فوجی دباؤ اور یکطرفہ فیصلوں نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق بڑی طاقتوں کی یہ پالیسی اکثر چھوٹے اور کمزور ممالک کے لیے عدم استحکام کا سبب بنتی ہے، جس سے خطے میں بداعتمادی اور کشیدگی بڑھتی ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی ممکنہ جنگ کا سب سے بڑا اثر عالمی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔ خلیجی خطہ دنیا کے تیل اور گیس کے سب سے بڑے ذخائر کا مرکز ہے۔ اگر جنگ کی شدت بڑھتی ہے یا اہم سمندری راستے متاثر ہوتے ہیں تو عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہوگی، جس سے ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ صنعتوں، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ زندگی کے اخراجات کو بھی بڑھا دے گا۔

اس جنگ کے سیاسی اثرات بھی انتہائی گہرے ہوسکتے ہیں۔ عالمی طاقتیں مختلف بلاکس میں تقسیم ہوسکتی ہیں، جس سے عالمی سفارتی توازن متاثر ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک براہ راست یا بالواسطہ اس کشیدگی کا حصہ بن سکتے ہیں، جس سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی اداروں اور امن قائم رکھنے والی قوتوں کے لیے بھی یہ ایک بڑا امتحان ہوگا کہ وہ کس حد تک اس بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

انسانی پہلو سے دیکھا جائے تو جنگ ہمیشہ تباہی اور انسانی المیوں کو جنم دیتی ہے۔ جب طاقتور ممالک اپنی عسکری قوت کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ شہری آبادی، تعلیمی اداروں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان نہ صرف انسانی المیہ ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور جنگی اصولوں کے بھی منافی سمجھا جاتا ہے۔معاشی اور انسانی اثرات کے ساتھ ساتھ اس جنگ کے سماجی اثرات بھی نمایاں ہوسکتے ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں سیاسی کشیدگی، مذہبی حساسیت اور عالمی سطح پر عدم اعتماد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی تجارت، صنعت اور سرمایہ کاری کے شعبے بھی متاثر ہوسکتے ہیں، جس سے عالمی ترقی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔

اس کے ساتھ یہ سوال بھی عالمی سطح پر اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا بڑی طاقتیں بین الاقوامی قوانین اور عالمی اداروں کی بالادستی کو واقعی تسلیم کرتی ہیں یا نہیں۔ اگر طاقتور ممالک اپنی سیاسی اور عسکری قوت کے بل پر دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالنے یا حملے کرنے کی روش جاری رکھتے ہیں تو اس سے عالمی نظامِ انصاف کمزور پڑ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف حلقوں میں امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں پر شدید تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے یہ حقیقت بھی واضح کر دی ہے کہ عالمی امن صرف طاقت کے توازن سے قائم نہیں رہ سکتا بلکہ اس کے لیے انصاف، باہمی احترام اور سفارتی حکمت عملی ضروری ہے۔ اگر عالمی طاقتیں اپنی پالیسیوں میں توازن اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں تو یہ تنازعات مزید سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں، جس کا خمیازہ پوری انسانیت کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

اس صورتحال میں عالمی قیادت پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دے۔ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی بلکہ یہ مزید پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے۔ دنیا کو اس وقت امن، استحکام اور باہمی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور مستحکم مستقبل فراہم کیا جا سکے۔

 

آخرکار یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف چند ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات پوری اقوامِ عالم کو متاثر کرسکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری دانشمندی، برداشت اور مکالمے کے ذریعے اس بحران کو حل کرنے کی کوشش کرے تاکہ دنیا ایک بڑے سانحے سے محفوظ رہ سکے۔ امن ہی وہ راستہ ہے جو انسانیت کو تباہی کے دہانے سے واپس لا سکتا ہے۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383