پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ میں مہر النساء کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض، جدوجہد اور عزم کی روشن مثال قائم
پریس ریلیز
نیپال اردو ٹائمز
پٹیالہ: پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ کے شعبۂ اردو سے مہر النساء نے پی ایچ ڈی (ڈاکٹر آف فلاسفی) کی ڈگری حاصل کر کے نہ صرف علمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کی بلکہ عزم، محنت اور حوصلے کی ایک قابلِ تقلید مثال بھی قائم ک. گھریلو ذمہ داریوں خصوصاً ایک بچی کی پرورش اور بطور سنگل مدر مختلف مشکلات کے باوجود انہوں نے جس ثابت قدمی کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھی،م وہ یقیناً قابلِ تحسین ہے.
مہر النساء نے اپنا تحقیقی مقالہ "تقسیمِ ہند سے متعلق ناولوں کا تقابلی مطالعہ" کے عنوان سے پیش کیا جس میں انہوں نے اہم ادبی شاہکاروں بستی، آنگن، ٹرین ٹو پاکستان، پنجر، جھوٹا سچ اور مڈنائٹ چلڈرن کا تقابلی اور تنقیدی جائزہ لیا. اس تحقیق میں تقسیمِ ہند کے سماجی، نفسیاتی، تاریخی اور تہذیبی اثرات کو نہایت گہرائی اور باریک بینی کے ساتھ اجاگر کیا گیا جو اردو اور عالمی ادب کے محققین کے لیے ایک اہم علمی اضافہ قرار دیا جا رہا ہے.ان کا وایوا شعبۂ اردو کے سیمینار ہال میں منعقد ہوا جس میں بطور سبجیکٹ ایکسپرٹ پروفیسر ارتضیٰ کریم (دہلی یونیورسٹی) شریک ہوئے. مہر النساء نے پورے اعتماد اور علمی مہارت کے ساتھ تمام سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے جس پر اساتذہ اور حاضرین نے انہیں بھرپور مبارکباد پیش کی. اس موقع پر شعبے کے اساتذہ، طلبہ و طالبات اور علمی شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی جس سے تقریب کا وقار مزید بڑھ گیا.انہوں نے اپنا مقالہ پروفیسر روبینہ کی نگرانی میں مکمل کیا جن کی علمی رہنمائی، اصلاح اور مسلسل حوصلہ افزائی نے اس کامیابی میں اہم کردار ادا کیا.
ایک خصوصی گفتگو میں مہر النساء نے نہایت اعتماد اور وقار کے ساتھ اپنے تعلیمی سفر کی داستان بیان کرتے ہوئے کہا میں ایک سنگل پیرنٹ ہوں اور میں نے اپنی پانچسالہ طویل تعلیمی جدوجہد اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر طے کی ہے. مجھے اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوتی بلکہ یہ میرے لیے باعثِ فخر ہے. میری خواہش ہے کہ میری بیٹی میری اس جدوجہد سے یہ سبق حاصل کرے کہ نامساعد حالات بھی انسان کے حوصلے اور
عزم کے سامنے رکاوٹ نہیں بن سکتے. زندگی میں پیش آنے والے ہر چیلنج کا میں نے شعور، صبر اور حوصلے کے ساتھ مقابلہ کیا اور اس میں سب سے بڑی طاقت مجھے تعلیم نے فراہم کی. میرا ذاتی تجربہ یہی ہے کہ اگر میں تعلیم سے آراستہ نہ ہوتی تو شاید میرے حالات کہیں زیادہ دشوار اور پیچیدہ ہوتے.
میں دل کی گہرائیوں سے تعلیم کی قدر کرتی ہوں اسی لیے ایک اچھی سرکاری ملازمت میں ہونے کے باوجود میں نے اپنی علمی پیاس کو بجھانے کے لیے پی ایچ ڈی کا عزم کیا اور اسے مکمل کر کے اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دیا.تقریب کے اختتام پر مہر النساء نے اپنے اساتذہ، دوستوں اور خصوصاً اپنے اہلِ خانہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جبکہ حاضرین نے بھی ان کی اس شاندار کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا.
مہر النساء کی یہ کامیابی اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو کوئی بھی مشکل راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتی. انہوں نے گھریلو ذمہ داریوں اور ذاتی مشکلات کے باوجود جس عزم کے ساتھ تعلیم مکمل کی وہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ تمام طالبات کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ہے کہ محنت، صبر اور لگن سے ہر منزل حاصل کی جا سکتی ہے.
