آہ جلال الدین بھائی!!! انا للہ وانا الیہ راجعون
لگاتار اپنوں کی جدائی انسان کے دل کو اندر سے توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ گزشتہ ایک مہینے کے اندر ہمارے ہی گاؤں اور قریبی رشتہ داری سے کئی عزیز اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، اور آج ہمارے نہایت قریبی بھائی جناب جلال الدین صاحب (ادراگوڑی، ٹھاکر گنج ،کشن گنج، بہار ) کے انتقال کی خبر نے دل کو مزید غمگین اور بے چین کر دیا۔ کل شام تک جو ہمارے درمیان موجود تھا آج وہ ہمیں الوداع کہہ چکے نہ بیماری، نہ حادثہ اچانک دل کا دورہ پڑنے سے اللہ کو پیارے ہو گئے اور مرحوم اپنے پیچھے چار جوان بیٹیاں اور ایک نابالغ بیٹا چھوڑ گئے ۔ یقیناً ایک کے بعد ایک جنازہ اٹھتے دیکھ کر دل میں عجیب سی گھبراہٹ پیدا ہو گئی ہے۔ گاؤں کی گلیاں، محفلیں اور وہ چہرے جن سے کبھی رونق محسوس ہوتی تھی، اب اداسی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ زندگی واقعی کتنی مختصر اور بے اعتبار ہے۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے، جس سے کسی کو مفر نہیں۔ مگر جب مسلسل اپنے بچھڑتے جائیں تو دل صبر کے باوجود بوجھل ہو جاتا ہے اور آنکھیں بے اختیار نم ہو جاتی ہیں۔ ایسے لمحات انسان کو دنیا کی حقیقت اور آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہ دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں، بلکہ ایک مسافر خانہ ہے۔ آج جو لوگ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے، کل ہماری باری بھی آنی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے رب سے تعلق مضبوط کریں، ایک دوسرے کے ساتھ محبت و ہمدردی سے پیش آئیں، اور زندگی کے ہر لمحے کی قدر کریں ۔ اللہ تعالیٰ مرحوم جلال الدین بھائی صاحب سمیت تمام مرحومین کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبروں کو نور سے بھر دے، درجات بلند فرمائے، اور تمام اہل خانہ و متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
یا اللہ! ہمارے گاؤں، خاندان اور تمام مسلمانوں کو ہر قسم کی آفت، بیماری اور ناگہانی مصیبتوں سے محفوظ فرما، اور ہمارے دلوں کو سکون و اطمینان عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
شریک غم : محمد رضوان احمد مصباحی ادراگوڑی،
ٹھاکر گنج ،کشن گنج، بہار
