کھانا کھلانا اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی کا بہترین ذریعہ ہےـ قاری نثار احمد نظامی
شیر ملت کی یاد میں دارالعلوم قطبیہ میں طلبہ کی شاندار ضیافت کا اہتمام
مہنداول سنت کبیر نگر
(اخلاق احمد نظامی)
تحصیل حلقہ خلیل آباد میں واقع دارالعلوم قطبیہ اہلسنت روشن العلوم لیڈوامہوا امرڈوبھا شہر پنچایت بکھرا بازار میں آج شنبہ کو شیر ملت ،قوم و ملت کے بے باک ترجمان، مجاہد سنیت، مرد آہن محسن قوم ملت، ناشر مسلک اعلی حضرت، خلیفہ حضور مفتی اعظم ہند و حضور مجاہد ملت حضرت علامہ الحاج عبدالقدوس کشمیری نور اللہ مرقدہ سابق خطیب و امام ہانڈی والی مسجد ممبئی و سابق صدر ال انڈیا تبلیغ سیرت ممبئ کے حق میں قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی نیز پروقار تقریب کا انعقاد ہوا جس میں دارالعلوم ہذا کے طلبہ کی شاندار ضیافت کی گئی بعدہ طلبہ و اساتذہ نے شیر ملت علیہ الرحمہ کے حق میں مغفرت اور ترقی درجات کی خوب خوب دعائیں کیں
اس موقع پر معروف خطیب و دارالعلوم ہذا کے رئیس الاساتذہ قاری نثار احمد نظامی خلیفہ انیس ملت کچھوچھوی نے کہا مبارک باد کے مستحق ہیں شہزادہ شیر ملت فخر العلماء اعجاز ملت حضرت علامہ اعجاز احمد کشمیری صاحب قبلہ خطیب و امام ہانڈی والی مسجد و نائب صدر جمعیت علمائے اہلسنت ممبئی جو اسلامی تعلیم کے مد نظر
اپنے والد محترم کی یاد میں ہمیشہ غریبوں مسکینوں کی مدد کرتے نظرآتے ہیں
قاری نظامی نے کہا کہ غریبوں، مسکینوں اور طلبہ کو کھانا کھلانا اسلام میں انتہائی فضیلت اور ثواب کا کام ہے، جسے "اطعام الطعام" کہا جاتا ہے۔ اس کے بے شمار دنیاوی اور اخروی فوائد ہیں۔ قاری نظامی نے کہا کہ کھانا کھلانا اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی کا باعث ہے اور یہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ بنتا ہے۔ اور مرحومین کے ایصال ثواب کا بہترین معاون ہے
قاری نظامی نے کہا کہ جب بھوکے اور سہارے کے محتاج لوگوں (غریبوں، مسکینوں) کو کھانا ملتا ہے تو ان کے دل کو جو خوشی اور دلی سکون ملتا ہے، وہ ناقابل بیان ہے محروم طبقات اور طلبہ کو کھانا کھلانے سے آپس میں محبت، بھائی چارہ اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ حدیث کے مطابق، بھوکوں کو کھانا کھلانا جہنم کی آگ سے ڈھال بن سکتا ہے اور یہ اللہ کی رحمت کو کھانا کھلانا صدقہ جاریہ ہے، کیونکہ اس سے ان کی جسمانی توانائی بحال ہوتی ہے، جس سے وہ اپنی تعلیم پر بہتر توجہ دے سکتے ہیں اور مستقبل میں ملک و ملت کے لیے مفید شہری بن سکتے غریبوں اور مسکینوں کے کھانے پینے کا
انتظام کرنا، ایک ایسا نیک عمل ہے جو معاشرے میں توازن پیدا کرتا ہے اور اللہ کے ہاں بے پناہ اجر کا باعث ہے۔
فون پر خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اہلسنت ممبئی کے جنرل سکریٹری مولانا محمد عمر نظامی نے کہا کہ اِسلام کامل و اکمل دِین نے اپنی روشن تعلیمات کے ذَریعے جہاں ہر مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کرنے کا حکم دیا وہاں بطورِ خاص غریب مسکین لوگوں کا خیال رکھنے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کا بھی حکم دیا۔ بہت سے ایسے اُمور ہیں جن میں ہم غریب مسکین لوگوں کے ساتھ خیرخواہی کرتے
ہوئے ان کی ضروریات کو پورا کر کے ان کا خیال رکھ سکتے ہیں،اس سے ان کا دل خوش ہو گا اور مسلمان کا دِل خوش کرنے کے بھی کیا کہنے چنانچہ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا اللہ پاک کے نزدیک فرائض کی اَدائیگی کے بعد سب سے افضل عمل مسلمان کے دِل میں خوشی داخل کرنا ہے۔
مولانا عمر نظامی نے کہا کہ اسلام میں غریبوں مسکینوں کو کھلانے، پلانے اور لباس پہنانے کی ترغیب دی گئی ہے جیساکہ حدیثِ پاک میں ہے جس مسلمان نے کسی بےلباس مسلمان کو
کپڑا پہنایا، اللہ پاک اسے جنتی لباس پہنائے گا اور جس نے کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلایا اللہ پاک اُسے جنتی پھل کھلائے گااور جس نے کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلایا، اللہ پاک اُسے مُہر لگی ہوئی پاکیِزہ شَراب پلائے گا۔
مولانا شہاب الدین قادری نے کہا کہ اسلام میں غُرباء کے دکھوں کا مداوا کرنے اور ان کو قرضوں کے بوجھ سے آزاد کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جیساکہ حدیثِ پاک میں ہے اللہ پاک کو سب سے پیارا عمل کسی بھوکے مسکین کو کھانا کھلانا، اس کو قرض سے نجات دِلانا یا اس کا غم دور کرنا ہے۔
نیز غریبوں کی حاجت روائی کرنا، ان سے تکالیف دور کرنا اسلام کی خوبصورت اقدار ہیں چنانچہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے ظالم کے حوالے کرے۔ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی میں رہتا ہے تو اللہ پاک اس کی حاجت روائی میں رہتا ہے۔ جو شخص مسلمان سے کسی ایک تکلیف کو دور کر دے تو اللہ پاک قیامت کی تکالیف میں سے ا س کی ایک تکلیف دور کردے گا۔ جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ پاک قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا مولانا قادرینے کہا شادی بیاہ یا عید وغیرہ خوشی کے مواقع پر بھی غریبوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کیجئے کہ اِس سے جہاں ان کے دلوں میں خوشی پیدا ہو گی وہاں اللہ پاک کی رَحمت سے آپ کی خوشیوں کو بھی چار چاند لگ جائیں گے اور آپ کو حقیقی خوشی نصیب ہو گی۔ عموماً دعوت وغیرہ خوشی کے موقع پر امیروں کو بلایا جاتا ہے اور غریبوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اس لئے حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا گیا بُرا کھانااس ولیمہ کا کھانا ہے، جس میں مال دار لوگ بلائے جاتے ہیں اور فقرا چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔ اس سے قبل تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے قاری محمد اسامہ نے کیا اس کے بعد نصف درجن سے زائد شعراء و نعت خواں نے حمد و نعت کے بعد شیر ملت علیہ الرحمہ کی شان میں منقبت کے اشعار نذر کئے
اخیر میں قاری نثار احمد نظامی دعا نے کی کہ اللہ کریم ہمیں اسلام کی روشن تربیت و تعلیم ”غریبوں کا خیال رکھئے“ پر عمل کرتے ہوئے معاشرتی استحکام اور حصولِ ثواب کے لئے غریبوں کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ تقریب میں دارالعلوم کے اساتذہ طالبہ و دیگر فرزندان توحید و رسالت موجود تھے پروگرام کا اختتام صلوۃ و سلام سے ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
