بنگلہ دیش کی جانب سے نیپال کے سیلاب زدگان کے لیے 10 لاکھ امریکی ڈالر امداد
نیپال اردو ٹائمز | خصوصی رپورٹ
بنگلہ دیش کے وزیر اعظم عزت مآب طارق رحمان نے نیپال کے وزیر اعظم بالین شاہ کے نام ایک اہم انسانی ہمدردی کے اقدام کے تحت نیپال کے وزیر اعظم ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ کے لیے 10 لاکھ امریکی ڈالر، تقریباً 15 کروڑ 20 لاکھ نیپالی روپے کی امداد فراہم کی ہے۔
یہ امدادی رقم گزشتہ روز سے ایک روز قبل نیپال۔تبت سرحد کے قریب ضلع راسوا میں 26 اگست 2026 کو آنے والے اچانک اور تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے بعد جاری امدادی، بحالی اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں میں تعاون کے لیے دی گئی ہے۔
بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ اور قائم مقام وزیر خارجہ ہمایوں کبیر نے وزیر اعظم طارق رحمان کی جانب سے نیپال کے وزیر اعظم بالین شاہ کے نام تحریر کردہ خط، بنگلہ دیش میں نیپال کے سفیر گھنشیام بھنڈاری کے حوالے کرتے ہوئے امدادی تعاون سے آگاہ کیا۔
اس سے قبل یکم ستمبر 2026 کو بنگلہ دیش کے قائم مقام وزیر خارجہ ہمایوں کبیر نے ڈھاکہ میں واقع نیپالی سفارت خانے میں کھولی گئی تعزیتی کتاب پر دستخط کرتے ہوئے نیپال میں سیلاب سے ہونے والےجانی و مالی نقصانات پر گہرے دکھ اور
افسوس کا اظہار کیا تھا۔
26 اگست 2026 کو آنے والے غیر معمولی اچانک سیلاب کے فوراً بعد بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان نے نیپال کی حکومت اور مصیبت کے وقت ثابت قدم نیپالی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے نیپال کے وزیر اعظم بالین شاہ کے نام اپنے تعزیتی پیغام میں سیلاب متاثرین کے خاندانوں سے دلی ہمدردی اور گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ بنگلہ دیش کے صدر مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے بھی نیپال کے صدر کے نام اپنے تعزیتی پیغام میں اس المناک سانحے کے نتیجے میں ہونے والے وسیع پیمانے پر جانی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نیپالی عوام کے ساتھہمدردی کا اظہار کیا۔
نیپال میں آنے والے اس المناک قدرتی سانحے نے بنگلہ دیش کی قومی پارلیمنٹ کی توجہ بھی حاصل کی۔ 27 اگست 2026 کو پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران سیلاب متاثرین اور لاپتہ افراد کے لیے ایک تعزیتی قرارداد منظور کی گئی۔ ارکان پارلیمنٹ نے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی اور جاں بحق افراد کی روحوں کے ایصال ثواب اور متاثرین کے لیے دعائیں کیں۔
پارلیمنٹ نے بنگلہ دیش کی حکومت پر زور دیا کہ نیپال میں اس قدرتی آفت کے جواب میں ضروری انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ اسی سلسلے میں 27 اگست 2026 کو بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمن نے اپنے نیپالی ہم منصب ایم ششیر کھنال سے ٹیلی فونک گفتگو کی۔ اس موقع پر
انہوں نے نیپال کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے بنگلہ دیش کی آمادگی کا یقین دلایا اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی کے طریقۂ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دریں اثنا، کھٹمنڈو میں قائم بنگلہ دیشی سفارت خانہ 26 اگست کے بھوٹیکوشی بحران کے بعد سے نیپال کی وزارت خارجہ کے ساتھ مسلسل رابطے اور قریبی تعاون میں ہے۔ نیپال میں بنگلہ دیش کے سفیر عزت مآب شفیق الرحمن نے ذاتی طور پر امدادی سرگرمیوں اور حکومتی رابطوں کی نگرانی کرتے ہوئے نیپالی عوام کے ساتھ مکمل تعاون کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے نیپال کی وزارت خارجہ میں تعزیتی کتاب پر دستخط کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی حکومت کی جانب سے نیپالی عوام کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی آمادگی کا اعادہ بھی کیا۔
بنگلہ دیش کی جانب سے اس مشکل اور آزمائش کی گھڑی میں نیپالی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے کیے جانے والے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان قائم دیرینہ دوستی، خیرسگالی اور باہمی تعاون کے رشتوں کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
نیپال اردو ٹائمز
