تحریک دعوت انسانیت کے زیر اہتمام دوروزہ فقہی سیمینا بحسن وخوبی اختتام پذیر
پریس ریلیز:
نیپال اردو ٹائمز
تحریک دعوت انسانیت ڈیرہ پور کے زیر اہتمام دوروزہ فقہی سیمینار پوری کام یابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، خانقاہ عالیہ چستیہ رفیقیہ ڈیرہ پور میں منعقد اس تاریخی سیمینار کی قیادت حضرت علامہ مفتی محمد انفاس الحسن چشتی بانی تحریک دعوت انسانیت نے فرمائی جب کہ الگ الگ نشستوں کی صدارت عزیز ملت علامہ عبدالحفیظ مصباحی سربراہ اعلی الجامعۃ الاشرفیہ مبارک، خیر الاذکیا علامہ محمد احمدمصباحی ناظم تعلیمات جامعہ اشرفیہ مبارک پور اور سراج الفقہاء حضرت مفتی محمد نظام الدین رضوی شیخ الحدیث الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور نے فرمائی، نظامت کی ذمے داریاں حضرت علامہ مسعود احمد برکاتی،حضرت علامہ ناظم علی مصباحی اور حضرت علامہ صدرالوری قادری مصباحی اساتذۂ جامعہ اشرفیہ مبارک پور نے نبھائی۔ فقہی سیمینار میں کے کل تین موضوعات زیر غور تھے:

(1).علاج ومعالجہ میں مروج کمیشن کا حکم (2).عصری تعلیم کے لیے بینکوں سے لون لینے کا حکم (3).ہیلتھ انشورنس اور جنرل انشورنش کا حکم۔
تین الگ الگ نشستوں میں ان تینوں موضوعات پر لکھے گئے مفتیان کرام کے مقالات کی تلخیص ،تلخیص نگاران حضرت علامہ صدرالوری قادری مصباحی،حضرت علامہ ساجدعلی مصباحی، حضرت مولانا عرفان عالم مصباحی نے پیش کیے، پھرہر موضوع پر مندوبین کے مابین دیر تک بحث وتمحیص کا سلسلہ چلا،اکثر مندوبین بحثوں میں باضابطہ حصہ لیا۔ پہلے دونوں عنوانات پر اتفاق راے سے فیصلہ نوٹ کیا گیا اور مندوبین
نے اس کی تائید و تصدیق کرتے ہوئے اس پر دستخط ثبت کیے۔
پہلا عنوان " علاج ومعالجہ میں مروج کمیشن کا حکم کے تحت درج ذیل فیصلہ نوٹ کیا گیا
*فیصلہ بابت*
*علاج و معالجہ میں مروجہ کمیشن کا حکم*
طبی جانچ مراکز اور دوا خانوں کی طرف سے ڈاکٹر حضرات جو تحفہ لیتے ہیں جسے سماج میں عام طور پر کمیشن سمجھا جاتا ہے وہ شرعی نقطہ نظر سے رشوت کا معاملہ ہے اور اس سے عام مریضوں کو ضرر بھی لاحق ہوتا ہے اور یہ ملکی قانون کے اعتبار سے بھی جرم ہے اس لیے یہ معاملہ شرعا و قانونا ہر اعتبار سے ناجائز و گناہ ہے۔

ہاں اگر ڈاکٹر یہ اعلان کر دیں کہ انہیں پیتھالوجی اور دوسرے طبی جانچ مراکز اور دوا خانوں سے کمیشن نہیں چاہیے پھر بھی مذکورہ جگہوں سے تحفے آتے ہیں تو لینے کی اجازت ہوگی؛ لأن الصریح یفوق الدلالۃ۔ یہ شرعی حکم ہے لیکن اگر قانونًا یہ بھی ممنوع ہو تو شرعاً بھی ممنوع ہے۔
دوسرے عنوان پر مفتیان کرام نے باتفاق عاے درج ذیل فیصلہ محفوظ کیا:
*فیصلہ بابت*
*عصری تعلیم کے لیے بینکوں سے قرض لینے کا حکم*
(١) جن طلبہ کو خداے قدیر نے اچھا ذہن، فہم کا بہترین سلیقہ اور محنت کرکے آگے بڑھنے کی صلاحیت بخشی ہے وہ لون سے صرف نظر کرکے محنت کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کریں تاکہ انھیں سرکاری کالجوں اور دانش گاہوں میں تعلیم کے مواقع میسر ہوں اور سرکاری وظیفہ بھی پا سکیں- اگر ایسے طلبہ غریب ہوں تو اہل خیر تعاون کرکے ان کے لیے سہارا بنیں - بقدر کفایت تعاون نہ مل سکے تو اپنی حاجت پوری ہونے تک کچھ لون لے کر تعلیم مکمل کر لیں اور میعاد کے
اندر لون ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں یہ اجازت بوجہ حاجت بمنزلۂ ضرورت ہے- واللہ تعالی اعلم
(٢) اگر مقابلہ جاتی امتحان میں مطلوبہ معیار تک نہ پہنچ سکیں تو کوشش کریں کہ کچھ اضافی کام کریں، کچھ اہل خانہ اور اہل خیر کے تعاون سے کام چلائیں، بدرجۂ مجبوری بقدر حاجت مختصر مدت کے لیے لون لے سکتے ہیں جب کہ معیاد تک اسے ادا کرنے کی پوری کوشش ہو اور بہرحال وقت کے ضیاع سے بچیں۔ واللہ تعالی اعلم
(٣) اگر تعلیم فارن میں آسان ہو اور خرچ کم لگے تو وہاں بھی جا سکتے ہیں بہرحال لون سے ممکن حد تک بچیں۔ جو مجبور ہو معذور ہے، اور لون لیے بغیر کام نہ چل سکے تو لون کم اور مختصر مدت کے لیے ہی لے۔ اہل خیر ان کے تعاون میں دلچسپی لیں۔ جو طلبہ اپنی نجی حیثیت میں مستطیع نہ ہوں انھیں یک مشت زکوٰۃ کی زیادہ رقم بھی دے سکتے ہیں۔
علم کے میدان میں ہماری پستی کا سبب
سود پر مبنی قرض کا عدمِ جواز نہیں، بلکہ دیگر اسباب ہیں:
(۱) حصولِ علم سے حد درجہ غفلت اور بـے رغبتی۔ جب کسی قوم میں علم حاصل کرنے کا جذبہ ماند پڑ جائے تو اس کی علمی ترقی کا سفر بھی رک جاتا ہے۔
(۲) راتوں کو دیر تک جاگنا اور دن میں دیر تک سونا۔
(۳) شادیوں اور نیاز میں اسراف و فضول خرچی. ہماری قوم اپنی محدود مالی
استطاعت کا بڑا حصہ ایسی تقریبات اور رسوم میں صرف کر دیتی ہے جن میں نمود و نمائش اور غیر ضروری اخراجات غالب ہوتے ہیں۔ اگر یہی سرمایہ تعلیم، تحقیق اور علمی اداروں کے فروغ پر صرف کیا جائے تو قوم کی سمت بدل سکتی ہے۔
(۴) موبائل فون میں غیر ضروری اشتغال، جو وقت کتاب، مطالعہ اور علمی
سرگرمیوں میں صرف ہونا چاہیے وہ غیر ضروری مشاغل کی نذر ہو جاتا ہے۔
(۵) اپنا مال خرچ کرنے سے گریز:
ہماری قوم، قومی و اجتماعی ضرورتوں پر مال خرچ کرنے سے حتی الامکان بچنا چاہتی ہے، نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ دنیا کا ہر کام زکات کے ذریعے انجام دینا چاہتی ہے، اور اب تعلیمی پستی کا حل بھی سودی قرض میں ڈھونڈنے لگی ہے۔ جب کہ یہ کام صاحبِ ثروت افراد کی ذمہ دارانہ مالی شرکت اور اجتماعی قربانی سے بھی ہو سکتا ہے۔
(۶) سرکاری ملازمتوں سے کنارہ کشی۔
سرکاری اور باقاعدہ ملازمتوں کے میدان میں ہماری نمائندگی بہت کم ہے۔ اگر ہم نئی نسل کو عصری تعلیم، مسابقتی امتحانات اور مختلف سرکاری
شعبوں میں داخلے کے لیے تیار کریں تو معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر ہماری مؤثر نمائندگی بھی بڑھ سکتی ہے۔ واللہ تعالی اعلم۔
تیسرے عنوان پر اتفاق راے نہ ہو نے کی وجہ سے آئندہ کے لیے فیصلہ ملتوی کردیا گیا۔
سیمینار میں ملک کے مختلف گوشوں سے
کثیر تعداد میں مفتیان کرام نے شرکت فرمائی چند خاص نام حسب ذیل ہیں:

عزیز ملت علامہ عبدالحفیظ مصباحی، علامہ محمد احمد مصباحی، مفتی محمد نظام الدین رضوی، مفتی بدرعالم مصباحی،مولانا نفیس احمد مصباحی، مولاناصدرالوری مصباحی، مولانا مسعود احمد برکاتی، مولانا ساجدعلی مصباحی، مولانا محمود مشاہدی، مولانا ناصر حسین مصباحی، مولانا عرفان عالم مصباحی، مولاںاتوفیق احسن برکاتی مبارک پور، قاضی شہید عالم رضوی، مفتی رفیق عالم رضوی بریلی شریف، مفتی ابرار اعظمی امبیڈ کر نگر،مولاناقاضی فضل رسول مصباحی، مفتی محمد صادق مصباحی مہراج گنج، قاضی فضل زحمد مصباحی، مولاںاعارف اللہ فیضی بنارس، مفتی مبشررضا مصباحی بھیونڈی،مولانا ممتاز عالم مصباحی گھوسی، مفتی غلام محبوب سبحانی، مفتی محمد ساجدرضا مصباحی ،مولانا غلام جیلانی مصباحی مظفر پور، مولانا شہاب الدین فتح پور،مولانا سیبطین مرتضوی، مولانارئیس اختر سلطان پور، مفتی نذر الباری کچھوچھہ، مولانا ابو الحسن خرقانی کچھوچھہ، مفتی آفتاب عالم چشتی، مفتی سیف مصباحی، مفتی عبدالواحد مصباحی، مولانا شمس الحق چشتی، مولانا عبدالوکیل چشتی وغیرہ
انتظام وانصرام کی تمام تر ذمے داریاں حضرت مولانا عبید الحسن چشتی سچے میاں نے انجام دیں،
