Feb 7, 2026 06:09 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
اصلاح معاشرہ (سماج سدھار سمیلن) ضلع کپلوستو اختتام پذیر

اصلاح معاشرہ (سماج سدھار سمیلن) ضلع کپلوستو اختتام پذیر

اصلاح معاشرہ (سماج سدھار سمیلن) ضلع کپلوستو اختتام پذیر

(بتاریخ: ۲۷ نومبر ۲۰۲۵ء، بروز جمعرات، بوقت ۱۰ بجے صبح، بمقام: وجے نگر گاؤں پالیکا سبھا ہال 

 

وجے نگر گاؤں پالیکا سبھا ہال میں آج ایک تاریخی اور نہایت باوقار اجتماع ”اصلاحِ معاشرہ ، سماج سدھار سمیلن“ منعقد ہوا، جس میں ضلع کپلوستو کے مختلف شہروں اور گاؤں سے علماء کرام، دانش وروں اور عوامِ اہلِ سنت کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

یہ سمیلن ہر اعتبار سے کامیاب، منظم اور اپنے پیغام میں بے مثال رہا۔

پروگرام کا آغاز اللہ رب العزت کے پاک کلام کی مبارک تلاوت سے ہوا، جس کی سعادت   حافظ و قاری نصر اللہ امجدی صاحب نے حاصل کی۔

بعدہٗ کلامِ اعلیٰ   عظیم البرکتؒ پیش کرنے کے لئے   مولانا محبوب عالم صاحب کو دعوت دی گئی، جن کے برجستہ اور روح پرور انداز نے محفل میں روحانیت کی فضا قائم کر دی

صدرِ اعلیٰ   مولانا صدام حسین امدادی صاحب نے نہایت مدلل، جامع اور سلیس انداز میں یکے بعد دیگرے تمام اہم موضوعات پر روشنی ڈالی۔

  نے چار بنیادی نکات کی وضاحت فرمائی:

۱. جہیز کے خاتمے کی مہم

  نے جہیز کے معاشرتی نقصانات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ

یہ ظلم اور سماجی ناسور ہے، اسے ختم کرنے کے لئے علماء اور عوام دونوں کو متحد ہوکر جدوجہد کرنی ہوگی۔

۲. یکساں نصابِ تعلیم کی تشکیل

  نے مدارس کے لئے ایک متحدہ، مربوط اور غیر متضاد نصاب کی ضرورت پر زور دیا،اور علماء فاؤنڈیشن نیپال کے تیار کردہ نصاب کی اہمیت بیان فرمائی، جس میں عقائد، عبادات، اخلاق، سیرت، فقہ، تجوید اور عصری آگہی جیسے اہم مضامین شامل ہیں۔

۳. علماء کی تنخواہوں میں اضافہ

 

  نے بڑے درد مندانہ انداز میں فرمایا کہ علماء کم وسائل کے باوجود دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

ذمہ دارانِ مساجد و مدارس سے باہمی گفتگو اور محبت بھری نشستوں کے ذریعے ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جانا چاہیے،

احتجاج یا ترکِ خدمت ہرگز درست راستہ نہیں۔

۴. رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل

  نے چاند کے معاملے میں انتشار کے خاتمے، شرعی شہادت اور نظم و ضبط کے قیام کے لئے ضلع کپلوستو میں مستقل رویتِ ہلال کمیٹی تشکیل دینے کی ضرورت واضح فرمائی۔ان نکات کی توضیح کے بعد محفل میں نگاہِ خیال اور بصیرت کی ایک نئی روشنی پھیل گئی ضلع انچارج اور نقیبِ محفل   مولانا مجیب الرحمٰن مصباحی صاحب نےسیاسی و سماجی شخصیات کا نہایت خوش اسلوبی سے تعارف کرایا اور اپنے مہذب اندازِ نظامت سے پورے پروگرام کو مربوط فرمایا  مولانا الحاج مشتاق احمد قادری برکاتی صاحب کا نہایت مفصل، بصیرت افروز اور انقلابی خطاب   مولانا مشتاق صاحب نے نہایت منظم اور عمیق فکری انداز میں خطاب فرمایا۔آپ نے چاروں ایجنڈوں کی اہمیت اور ان کے عملی نفاذ کا مؤثر نسخہ پیش کیا۔جہیز کے خاتمے پر مؤثر ہدایات

  نے فرمایا کہ صرف تقریروں سے نہیں، بلکہ گھروں تک جا کر، محبت اور حکمت سے سماج کو سمجھانا ہوگا،اگر علماء خود اس پر 

عمل کریں تو عوام تک اس کا اثر کئی گنا بڑھ کر پہنچے گا۔

نصابِ تعلیم کی اہمیت

  نے کہا کہ قوم کی ترقی کا واحد راستہ مضبوط اور متحدہ نظامِ تعلیم ہے،علماء فاؤنڈیشن کے تیار کردہ نصاب کو ہر مدرسے میں نافذ کرنے کی پُرزور سفارش فرمائی۔علماء کی تنخواہوں میں اضافہ – بہترین حکمت عملی نے فرمایا کہ تنخواہ بڑھانے کیلئے احتجاج نہیں، بلکہ

مساجد کے ذمہ داران کو علماء کی ضرورت، مقام اور اہمیت سمجھائی جائے۔محبت بھرا رویہ ہی کامیابی کا ذریعہ ہے۔

رویت ہلال کمیٹی کی ضرورت

چاند کے مسئلے میں گمراہ کن خبروں سے بچتے ہوئےضلع میں ایک واحد کمیٹی کی تشکیل پر زور دیتے ہوئے  نے اتحادِ امت کی ضرورت واضح کی،  کے بیان نے سامعین کے دلوں میں نئی روح پھونک دی۔

رویتِ ہلال کمیٹی کا اعلان

محفل کے دوران ضلع کپلوستو کی مستقل رویتِ ہلال کمیٹی کا باقاعدہ اعلان کیا گیا:

صدر اعلیٰ:   مولانا صوفی التجاء حسین اشرفی صاحب سکریٹری:   مولانا فاروق احمد رضوی صاحب ممبران:   مولانا علی حسن نظامی صاحب،   مولانا ارمان علی صاحب،   مولانا کلام الدین صاحب مرکزی صدرِ اعلیٰ علماء فاؤنڈیشن نیپال   علامہ سید غلام حسین مظہری صاحب کا تاریخی خطاب محفل کے سب سے معتبر اور روحانی چہرے   علامہ سید غلام حسین مظہری صاحب نے خطاب فرمایا، جس نے سمیلن میں نئی جان ڈال دی،آپ نے ضلع کپلوستو کی کارکردگی کو پورے نیپال میں نمبر ایک قرار دیتے ہوئے فرمایا: "میں سو میں سے ننانوے نمبر ضلع کپلوستو کو دیتا ہوں،کیونکہ یہ ضلع امید سے کہیں زیادہ دین کی خدمت انجام دے رہا ہے۔"حضرت سید صاحب کے خطاب کے چند اہم نکات:علماء فاؤنڈیشن نے نیپال میں وحدتِ اہل سنت کا عظیم کام کیا ہے۔اس تنظیم نے ملک بھر کے علماء کو جوڑنے کا کارنامہ انجام دیا،جس کی مثال پورے ملک میں کم ملتی ہے۔کم وقت میں بارہ اضلاع میں فاؤنڈیشن کی شاخیں قائم ہونا اس کے خلوص، تنظیم اور محنت کی دلیل ہے۔ جہیز کے خاتمے پر تاریخ ساز گفتگو حضرت نے اپنے ضلع نول پراسی کے کامیاب تجربات بیان کئے اور فرمایا:"اگر ہم خود عمل شروع کریں تو لوگ جہیز واپس کرنے پر بھی تیار ہوجاتے ہیں۔"حضرت نے مثال دے کر بتایا کہجہیز کے خلاف مسلسل گفتگو اور محبت بھرے سمجھانے سےکئی خاندانوں نے اپنے مطالبات واپس لے لئے۔

وزیرِ اعظم نیپال کے بیان کی سخت مذمت

حضرت سید صاحب نے نیپال کی وزیر اعظم ششیلا کارکی کے اسلام مخالف بیان کی پرزور مذمت کرتے ہوئے فرمایا:"اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے عورت کو عزت، حقوق اور مقام دیا۔

ششیلا کارکی کو تاریخِ اسلام کا علم ہی نہیں۔"اختتام اور دعائیہ کلمات

سمیلن کا اختتام دعا پر ہوا،اور حضرت سید صاحب کے دستِ مبارک سےعلماء فاؤنڈیشن ضلع کپلوستو کے تمام ممبران کو

آئی ڈی کارڈ تقسیم کئے گئے،شرکاء کی تعداد توقع سے کہیں زیادہ رہی اور پورا ہال آخر تک مکمل بھرا رہا۔

نوشاد احمد قادری:میڈیا انچارج، علماء فاؤنڈیشن، ضلع کپلوستو

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383