غلام سرور: ایک عہد، ایک فکر، ایک جدوجہد
از: تحریر: یوسف شمسی
اردو صحافت کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی بھی ہوئی ہیں جو محض اپنے عہد کی آواز نہیں بلکہ اپنے زمانے کی سمت طے کرنے والی قوت ثابت ہوئیں۔ شیر بہار مرحوم غلام سرور بھی انہی باوقار اور روشن ناموں میں شامل ہیں جنہوں نے بہار کی اردو صحافت کو نئی جرأت، تازہ فکر اور مضبوط شناخت عطا کی۔ سیاسی شعور، سماجی درد، ملی ذمہ داری اور قومی مفاد کا گہرا احساس ان کی شخصیت کا بنیادی وصف تھا۔ انہوں نے قلم کو پیشہ نہیں بلکہ ایک امانت اور جدوجہد کا ہتھیار سمجھا اور ہر دور میں سچائی، انصاف اور اصول کی راہ پر ڈٹے رہے۔
غلام سرور کی پیدائش 10 جنوری 1926 بیگوسرائے کی ہے، اُس وقت اس ملک کے تیور باغیانہ تھے ہر شخص اس کیفیت سے خود کو جدا نہیں کر پا رہا تھا اور اگر قدرت نے اس کے اندر ذرا سا بھی قیادت کا جذبہ ودیعت فرمایا ہے تو وہ ملی مفاد میں خود کو وقف کرنا اپنا نصب العین سمجھتا تھا۔ ابتدائی عمر ہی سے سیاسی و سماجی حالات نے ان کی شخصیت کو متاثر کیا۔ مسلم لیگ کے فکری و نظریاتی ماحول سے وابستگی نے ان کے اندر قیادت کا ذوق، ملی احساس اور جدوجہد کا حوصلہ پیدا کیا۔ نوجوانی ہی سے وہ اردو زبان، ملت کے مسائل اور عوامی حقوق کے لیے بےچین دکھائی دیتے ہیں۔ یہی بےچینی آگے چل کر انہیں ایک مضبوط رہنما، بےباک صحافی اور بااصول سیاست دان بناتی ہے۔
اردو میں ایم۔اے، پٹنہ یونیورسٹی سے کرنے کے بعد شروع میں جناب اختر اور نیوی جیسے اساتذہ کی پیروی میں اردو ادب کی خدمت کی طرف مائل ہوئے، مگر جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ ان کا اصل میدان صحافت ہے جہاں وہ براہِ راست عوامی مسائل سے جڑ کر اپنی قوم کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔
1945 میں پٹنہ سے شائع ہونے والے اخبار “نوجوان” کی ادارت سے انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا۔ یہیں سے ان کی فکری پرواز کا آغاز ہوا۔ بعد ازاں 1951 میں انہوں نے سہیل عظیم آبادی سے روزنامہ “ساتھی” خریدا، اگرچہ یہ اخبار زیادہ عرصہ نہ چل سکا، لیکن 1953 میں انہوں نے ہفتہ وار اخبار “سنگم” قائم کیا جو بہت جلد اردو عوام کی آواز بن گیا۔ 1962 میں یہی “سنگم” روزنامہ کی شکل میں سامنے آیا اور یوں بہار کی صحافتی تاریخ میں ایک نئی روایت قائم ہوئی۔
“سنگم” محض ایک اخبار نہیں تھا بلکہ ایک تحریکی جذبہ، ایک ملی شعور اور حق گوئی کا جری استعارہ تھا۔ ان کے اداریے کمزوروں کی وکالت، مظلوموں کی حمایت اور حکومت کو آئینہ دکھانے کا موئثر ذریعہ بنتے رہے۔ ان کی تحریریں محض تنقید پر اکتفا نہیں کرتیں بلکہ مثبت حل بھی پیش کرتی تھیں، اور یہی وصف انہیں عام صحافیوں سے ممتاز کرتا ہے۔مجاہدِ اردو غلام سرور کی خدمات صرف صحافت تک محدود نہیں رہیں بلکہ سیاست کے میدان میں بھی انہوں نے اصول، وقار اور دیانت کی شاندار روایت قائم کی۔بحیثیت وزیرِ تعلیم ان کی خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں۔ انہی کے دور میں بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ قائم ہوا، مدارس کو منظم کیا گیا، اساتذہ کے حقوق کو تحفظ ملا، اردو اسکولوں کو تقویت ملی اور مسلم لڑکیوں کی تعلیم کے اداروں کو نئی توانائی حاصل ہوئی۔ اسی تسلسل میں ایک اور تاریخی خدمت ان کے حصے میں آئی کہ 1980 میں بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہوا، جس میں جناب غلام سرور کی مسلسل جدوجہد، مضبوط آواز اور احتجاجی تحریکوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ یہ فیصلہ نہ صرف اردو دان طبقے کے لیے عزت و وقار کا سبب بنا بلکہ بہار کی تہذیبی اور لسانی شناخت کو بھی مضبوط بنیاد فراہم کی۔
اس کے بعد وہ بہار اسمبلی کے اسپیکر بھی رہے اور انہوں نے اسمبلی سیکریٹریٹ میں اردو ڈپارٹمنٹ کے قیام کی بنیاد رکھ کر اپنی تہذیبی غیرت اور اردو دوستی کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ بطور وزیرِ زراعت بھی انہوں نے کسانوں اور دیہی طبقات کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں انہیں قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلنی پڑیں، مگر یہ آزمائشیں ان کے حوصلے کو متزلزل نہ کر سکیں۔ اسی دوران لکھی گئی ان کی کتابیں “گوشے میں قفس کے” اور “جہاں ہم ہیں” ان کے عزم و شعور کی زندہ دستاویز ہیں۔ یہ کتابیں محض سیاسی حالات کا بیان نہیں بلکہ سچائی، حوصلے اور فکری استقامت کی دلنشین مثال ہیں۔ان کی شخصیت کا نمایاں ترین وصف انسان دوستی، اخلاقی جرأت، خلوص، اصول پسندی اور عوامی وابستگی تھا۔ وہ اقتدار میں رہ کر بھی عوام کے درمیان رہے اور عوام کے درمیان رہ کر بھی قومی بصیرت کے حامل رہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ صحافت محض خبر رسانی نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری ہے، اور سیاست اقتدار نہیں بلکہ عوامی خدمت کا نام ہے۔
18 اکتوبر 2004 کو وہ بطور وزیرِ زراعت اپنی ذمہ داری انجام دیتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے، مگر اپنے عمل، کردار اور خدمات کی ایسی روشن تاریخ چھوڑ گئے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
یومِ غلام سرور کی مناسبت سے ان کی یہ یادگار خدمات نہ صرف اعترافِ کارنامہ ہیں بلکہ نئی نسل کے صحافیوں، اہلِ قلم اور سماجی کارکنوں کے لیے یہ پیغام بھی ہیں کہ سچا رہنما وہی ہے جو حق کے ساتھ کھڑا رہے، کمزوروں کی آواز بنے اور قلم و منصب دونوں کو امانت سمجھ کر استعمال کرے۔ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، ان کا فکری ورثہ ہمیشہ زندہ رہے گا اور یہی ان کے لیے ہمارا سچا، پائیدار اور دل کی گہرائیوں سے نکلا ہوا خراجِ عقیدت ہے۔ غلام سرور نے جس منزل کی سمت قدم رکھا تھا وہ یقین ہی قوم ملت کے کام آیا۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں،
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
