کس کے سر سجے گا نیپال کے وزیر اعظم کا سہرا ؟
ایڈیٹر کے قلم سے ۔۔۔۔
عبد الجبار علیمی نیپالی نظامی۔
نیپال کے آئندہ پارلیمانی انتخابات اس وقت محض سیاسی مقابلہ نہیں رہے بلکہ یہ ایک ایسے نظام کا امتحان بن چکے ہیں جو برسوں سے عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ انتخابی مہم عروج پر ہے، دعوے بہت ہیں، مگر زمینی حقائق اور عوامی مسائل اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کون وزیر اعظم بنے گا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا آنے والی قیادت واقعی سب کو ساتھ لے کر چلے گی؟
سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی ایک بار پھر اقتدار کے لیے سرگرم ہیں۔ ان کے تجربے سے انکار ممکن نہیں، مگر یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ان کے ادوارِ حکومت میں سیاسی استحکام، اقلیتوں کے حقوق اور ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ اگر بار بار موقع ملنے کے باوجود عوام کے بنیادی مسائل حل نہ ہوں تو تجربہ اپنی افادیت کھو بیٹھتا ہے۔
دوسری جانب سوتنتر پارٹی کے امیدوار بالن شاہ نوجوانوں، خصوصاً زین جی، میں تبدیلی کی علامت بن کر ابھرے ہیں۔ ان کی مقبولیت روایتی سیاست کے خلاف عوامی ردِعمل کی نمائندگی ضرور کرتی ہے، مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا ان کے پاس قومی سطح پر حکمرانی، خارجہ پالیسی، معیشت اور اقلیتی مسائل کے لیے کوئی واضح اور جامع لائحۂ عمل موجود ہے یا نہیں۔ محض مقبولیت، مؤثر حکمرانی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
سیاسی منظرنامے کی ایک اہم مگر کم زیرِ بحث حقیقت مسلم ایوگ کی شمولیت اور اس کا کردار بھی ہے۔ نیپال کی مسلم آبادی طویل عرصے سے سیاسی نظرانداز کا شکار رہی ہے۔ ہر انتخاب میں مسلم ووٹ کو عددی طاقت کے طور پر استعمال تو کیا جاتا ہے، مگر پالیسی سازی اور فیصلہ سازی میں اسے حقیقی نمائندگی کم ہی ملتی ہے۔ مسلم ایوگ کی شمولیت اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادی، تعلیمی پسماندگی اور معاشی مسائل کو اجاگر کرنے کا ایک موقع فراہم کر سکتی ہے، تاہم خدشہ یہ ہے کہ کہیں اسے محض انتخابی علامت یا ووٹ بینک تک محدود نہ کر دیا جائے۔ اگر مسلم ایوگ کو حقیقی اختیارات اور مؤثر کردار نہ ملا تو یہ شمولیت بھی محض سیاسی نمائشی اقدام بن کر رہ جائے گی۔
دوسری طرف نیپالی کانگریس اندرونی انتشار کا شکار نظر آتی ہے۔ سابق وزیر اعظم شیر بہادر دیو اور ارزو رانا کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پارٹی قیادت اور سمت دونوں کے بحران سے گزر رہی ہے۔ ایک ایسی جماعت جو اپنے اندر اتحاد قائم نہ رکھ سکے، وہ ملک کو استحکام دینے کا دعویٰ کیسے کر سکتی ہے؟اسی طرح ماؤ نواز پارٹی کے صدر پشپ کمل دہل (پرچنڈا) کی دوبارہ دعویداری بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ماضی میں اقتدار کا حصہ رہنے کے باوجود اگر آج بھی عوام غربت، بے روزگاری اور بدعنوانی سے نجات کے منتظر ہوں تو یہ دعویداری احتساب سے فرار کے مترادف محسوس ہوتی ہے۔
ان انتخابات کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ قومی مباحث اب بھی شخصیات کے گرد گھوم رہے ہیں، جب کہ اقلیتوں کے حقوق، معاشی انصاف، نوجوانوں کی ہجرت، بدعنوانی اور سماجی ہم آہنگی جیسے بنیادی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ مسلم ایوگ سمیت تمام اقلیتی نمائندہ اداروں کو چاہیے کہ وہ محض کسی ایک جماعت کے سائے میں کھڑے ہونے کے بجائے واضح مطالبات اور ٹھوس ایجنڈے کے ساتھ سامنے آئیں۔
پانچ مارچ کو عوام اپنا فیصلہ سنائے گی، مگر اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوگا۔
اگر آنے والی حکومت نے ایک بار پھر اقلیتوں، نوجوانوں اور محروم طبقات کو نظرانداز کیا تو یہ صرف ایک جماعت کی ناکامی نہیں بلکہ پورے جمہوری نظام پر سوالیہ نشان ہوگا۔ نیپال کو اب وعدوں نہیں، عمل، شمولیت اور انصاف پر مبنی سیاست کی ضرورت ہے جہا ں آئین کے مطابق ہر مذہب کے ماننے والوں کے حقوق کا تحفظ ہوسکے مساجد و مدارس مندر اور چرچ کی حفاظت کو یقینی بنائی جاسکے ۔۔۔۔۔۔
