مدارسِ نسواں کے مقاصد اور معلمات کی ذمہ داریاں
قوموں کی تعمیر میں عورت کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر عورت کی فکر سنور جائے تو نسلیں سنورتی ہیں، اور اگر اس کی تربیت بگڑ جائے تو معاشرے کی بنیادیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ اسی حقیقت کے پیشِ نظر اسلام نے عورت کی تعلیم و تربیت کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ مدارسِ نسواں اسی اسلامی فکر کا عملی مظہر ہیں، جو خواتین کو علمِ دین کی روشنی سے منور کر کے ایک صالح، باوقار اور باخبر معاشرہ تشکیل دینے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
مدارسِ نسواں کا پہلا اور بنیادی مقصد دینی شعور کی بیداری ہے۔ ان اداروں میں طالبات کو قرآنِ حکیم کی فہم، حدیثِ نبوی کی رہنمائی اور فقہی اصولوں سے روشناس کرایا جاتا ہے تاکہ وہ محض رسمًا مسلمان نہ ہوں بلکہ شعوری طور پر اسلام کو اپنی زندگی کا نظام بنا سکیں۔ یہ مدارس عورت کو اس کے دین سے جوڑ کر اس کے ایمان کو پختگی عطا کرتے ہیں۔
دوسرا اہم مقصد اخلاقی و روحانی تربیت ہے۔ جدید دور میں جہاں مادہ پرستی نے اخلاقی اقدار کو پسِ پشت ڈال دیا ہے، وہاں مدارسِ نسواں حیا، صبر، شکر، تواضع اور ایثار جیسی صفات کو زندہ رکھتے
ہیں۔ یہ ادارے عورت کے باطن کو سنوارتے ہیں تاکہ وہ کردار کی بلندی کے ساتھ معاشرے میں اپنا مقام حاصل کر سکے۔
مدارسِ نسواں کا ایک نمایاں مقصد خاندانی نظام کا استحکام بھی ہے۔ عورت چونکہ گھر کی معمار ہوتی ہے، اس لیے اس کی درست دینی تربیت پورے خاندان کو متاثر کرتی ہے۔ مدارس میں طالبات کو ازدواجی زندگی، تربیتِ اولاد اور گھریلو ذمہ داریوں کے اسلامی اصول سکھائے جاتےہیں، تاکہ وہ ایک مثالی بیوی، ماں اور بیٹی کے طور پر معاشرے میں امن و سکون کا ذریعہ بن سکیں۔
اسی طرح دعوت و اصلاحِ معاشرہ بھی مدارسِ
نسواں کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔ یہ ادارے ایسی باکردار عالمات اور داعیات تیار کرتے ہیں جو خواتین کے مخصوص مسائل کو سمجھتے ہوئے دین کی دعوت مؤثر انداز میں پیش کر سکیں۔ یوں یہ مدارس خاموشی سے مگر گہرے اثر کے ساتھ معاشرتی اصلاح کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔
مدارسِ نسواں کا ایک اور قابلِ ذکر مقصد اسلامی تہذیب و ثقافت کا تحفظ ہے۔ عالمگیریت کے اس دور میں جہاں غیر اسلامی نظریات تیزی سے پھیل رہے ہیں، یہ مدارس عورت کو اپنی دینی شناخت سے آگاہ رکھتے ہیں۔ یہاں پردہ، حیا اور شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے تعلیم کا ایسا ماحول فراہم کیا جاتا ہے جو اسلامی اقدار کا عملی نمونہ ہو۔
غرض یہ کہ مدارسِ نسواں محض تعلیمی ادارے نہیں بلکہ فکر و کردار کی آماجگاہ ہیں۔ یہ عورت کو
علم، وقار اور شعور سے آراستہ کر کے ایک صالح معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اگر ہمیں ایک مضبوط، بااخلاق اور باکردار قوم درکار ہے تو مدارسِ نسواں کی سرپرستی اور فروغ ناگزیر ہے، کیونکہ تعلیم یافتہ عورت ہی دراصل تعلیم یافتہ نسل کی ضامن ہوتی ۔
نسواں میں تعلیم حاصل کرنے والی بچیاں قوم کا قیمتی سرمایہ اور مستقبل کا معمار ہوتی ہیں ان کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی،دینی اور تہذیبی تربیت نہایت اہمیت رکھتی ہے۔اس عظیم ذمہ داری کا بڑا حص٘ہ معلمات کے کاندھوں پر ہوتا ہے کیونکہ بچیاں اپنے اساتذہ کو صرف علم دینے والا نہیں بلکہ عملی نمونہ سمجھتی ہیں، خاص طور پر حیا، پاکدامنی، پردہ داری اور پاکبازی جیسی صفات وہ بنیادی ہیں جن پر ایک صالح اور باکردار عورت کی شخصیت تعمیر ہوتی ہے۔
معلمات کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بچیوں کے دلوں میں حیا کی قدر و قیمت کو راسخ کریں۔ حیا صرف لباس تک محدود نہیں بلکہ نگاہ، گفتگو، اندازِ نشست و برخاست مجموعی روی٘ہ کا نام ہے۔ معلمات کو چاہیئے کہ وہ اپنی گفتگو، لہجے اور طرز عمل کے ذریعہ بچیوں کو یہ سکھائیں کہ با حیاانسان ہر حال میں با وقار رہتا ہے۔ غیر ضروری ہنسی مذاق، بلند آواز اور بے احتیاطی سے بچنے کی عملی تربیت دی جائے۔
اس طرح پاکدامنی اور پاکبازی کی تعلیم دینا بھی معلمات کی اہم ذمہ داری ہے۔ بچیوں کو یہ شعور دیا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہر حال میں دیکھ رہا ہے، اس لئے ظاہر و باطن دونوں کا ہر حال میں پاک ہونا
ضروری ہے۔ نیت کی صفائی، سچائی، دیانت داری اور اور بُرے خیالات سے بچنے کی تلقین کی جاۓ۔ معلمات کو چاہیئے کہ وہ اسلامی کہانیوں، واقعات اور دینی مثالوں کے ذریعے پاکیزہ کردار کی اہمیت سمجھائیں تاکہ یہ بات دل میں اُتر جائے۔
پردہ داری کے معاملے میں معلمات کا کردار نہایت نازک اور مؤثر ہوتا ہے۔ بچیوں کو پردے کی حقیقت، اس کی حکمت اور اس کے فوائد اسان اور محبت بھرے انداز میں سمجھائے جائیں۔ پردے کو بوجھ یا مجبوری کے بجائے عز٘ت، تحف٘ظ اور وقار کی علامت کے طور پر پیش کیا جائے۔ خود معلمات کا باوقار لباس اور سادہ انداز بچیوں کے لئے بہترین سبق ہوتا ہے، کیوں کہ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں۔
مزید یہ کہ معلمات کو چاہیئے کہ وہ بچیوں میں نگاہ کی حفاظت، گفتگو کی شائستگی اور حدود کی پہچان پیدا کریں۔ یہ سکھایا جائے کہ ہر تعلق، ہر بات اور ہر عمل کی ایک حد ہوتی ہے، اور انہیں حدود میں رہنا انسان کو عزت بخشتا ہے۔ جدید دور کے فتنوں سے آگاہی بھی دی جاۓ، مگر ڈر کےبجاۓ شعور اور ذمہ داری کے ساتھ۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ نسواں میں معلمات صرف نصاب پڑھانے والی نہیں بلکہ بچیوں کی مرب٘یات اور کردار ساز ہوتی ہیں۔ اگر معلمات خود باحیا، با پردہ، پاکیزہ کردار اور اعلیٰ اخلاق کی حامل ہوں تو بچیاں بھی انہیں اوصاف کو اپنائیں گی۔ ایسی تربیت یافتہ بچیاں ہی آگے چل کر پاکیزہ خاندان، صالح معاشرہ اور مضبوط ام٘ت کی بنیاد بنتی ہیں۔
