Feb 7, 2026 09:16 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
علماء کی دو جدید قسمیں: جمال اختر صدف گونڈوی

علماء کی دو جدید قسمیں: جمال اختر صدف گونڈوی

04 Dec 2025
1 min read

علماء کی دو جدید قسمیں: جمال اختر صدف گونڈوی

جمال اختر صدف گونڈوی

علماء کو انبیائے کرام علیہم السلام کا وارث قرار دیا گیا ہے، اور اس نسبت سے ان کی عزت بھی عظیم ہے اور ذمہ داری بھی غیر معمولی۔ چوں کہ انبیائے کرام نے مال و دولت جمع نہیں فرمایا، اس لیے یہ بات یہاں ختم ہو جاتی ہے کہ علماء ان کے مال کے وارث ہوں۔ اصل وراثت وہ عظیم امانتیں ہیں جن میں تبلیغِ علم، تبلیغِ دین، اقامتِ حق، اور دفاعِ ملت شامل ہیں۔

انبیائے کرام کی وراثت میں حکمت، دور اندیشی، صبر و تحمل، استقلال، معاشرت، معیشت، تجارت، سماجی رہنمائی، سیاسی بصیرت۔۔۔یہ تمام شعبے شامل ہیں، اور انہی ذمہ داریوں کے امین علمائے کرام ہوتے ہیں۔

مگر افسوس کہ موجودہ دور میں علمائے کرام دو نمایاں گروہوں میں تقسیم ہو گئے ہیں:

ایک گروہ وہ ہے جو صرف مسجد و مدرسے تک محدود ہے، اور دوسرا وہ جو اسٹیج، جلسہ گاہوں اور سوشل میڈیا پر سرگرم ہے۔ دونوں طبقوں میں اپنے اپنے مسائل اور کمزوریاں موجود ہیں۔

مدرسہ و مسجد تک محدود علماء ایک مخصوص نصابِ تعلیم لے کر چل رہے ہیں جس میں ترمیم و تجدید کی سخت ضرورت ہے۔ آج ایٹمی ہتھیاروں، جدید سائنس اور عالمی ٹکنالوجی کے دور میں اگر تیراندازی اور گھڑسواری کو ہی نصاب کا اہم حصہ سمجھ لیا جائے تو یہ کسی بھی زاویے سے وقت کی ضرورت پوری نہیں کرتا۔دوسری طرف وہ علماء ہیں جو سوشل میڈیا یا جلسوں کے اسٹیج پر سرگرم ہیں۔ ان کے پاس بھی چند مخصوص عنوانات اور محدود مواد ہے جسے وہ ہر موقع پر دہراتے رہتے ہیں۔ یوں مجموعی طور پر صورتحال یہ ہے کہ پڑھے لکھے طبقے کی ایک بڑی تعداد ہمیں کم فہم اور غیر عصری سمجھ کر ہم سے دور ہوتی جا رہی ہے۔

جب نہ ہماری گفتگو انہیں سمجھ میں آتی ہے، نہ ہمارا نصابِ تعلیم اور نہ ہماری زبان و بیان تو وہ ہم سے کیا سیکھیں گے؟

تعلیم یافتہ طبقے کے لیے زبان، کمیونیکیشن اسکلز، عصری مسائل اور عالمی سطح کے مباحث اہم ہوتے ہیں- وہیں سے وہ اپنے معاشرے سے جڑتے ہیں۔ دنیا بھر میں گھروں سے آفس تک، یونیورسٹی سے میڈیا تک، اور سوشل پلیٹ فارمز سے عالمی فورمز تک---رابطے کی بنیاد ہمہ جہت زبان دانی ہے۔

مگر ہماری زبان ایسی ہے جو چند مخصوص حضرات کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ پاتا-وہ بھی وہی جو ہماری اپنی جماعت یا کسی اردو یونیورسٹی کے فارغین ہوں۔ باقی دنیا ہماری بات چیت کو غیر ضروری، پیچیدہ اور غیر مؤثر سمجھ کر نظرانداز کرنے لگی ہے۔

زبانیں سیکھنے کا نبوی حکم:

کیا حضور نبی کریم ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ دوسری زبانیں سیکھو تاکہ تم دوسروں پر غلبہ حاصل کرو، اور ان کے فتنوں سے محفوظ رہ سکو؟ آج سب سے بڑا فتنہ سائنسی، تکنیکی اور سائبر ٹیکنالوجی کا ہے، اور بدقسمتی سے اس میدان میں ہمارا حصہ ایک فیصد بھی نہیں۔

زمانے کے تقاضوں کو نظرانداز کر دینا خود کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اور علماء کے لیے تو یہ ذمہ داری دوگنی ہو جاتی ہے کہ انہیں قوم کی رہبری کرنی ہے۔ اگر وہ خود زمانے کی چال سے بیخبر ہوں تو قوم کو کون بچا سکے گا؟

مدارس کے نصاب میں فوری اصلاح کی ضرورت:

سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ اپنے مدارس کے نصابِ تعلیم میں سنجیدہ، حکیمانہ اور فوری ترمیم کی جائے۔ یہ کام مشکل نہیں، اور ہم اسے کر سکتے ہیں۔

جو کتابیں آج ہم پڑھا رہے ہیں، ان کے ساتھ ساتھ جدید زبانوں کو بھی ضروری کیا جائے۔مثلاً:حدیث کا درس صرف اردو ترجمے کے ساتھ نہ ہو، بلکہ انگریزی ترجمہ بھی لازم ہو۔قرآن کریم کی تفسیر اردو کے ساتھ ساتھ معیاری انگریزی میں بھی پڑھائی جائے۔

اس سے طلبہ میں خود اعتمادی بڑھے گی، عالمی سطح پر دین کی ترسیل میں آسانی ہوگی، اور ہم جدید دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکیں گے۔

مثالیں اور موجودہ صورتحال:

آج ممبئی کا ایک ڈاکٹر جب کوٹ پینٹ پہن کر عالمی طرز کا خطاب کرتا ہے تو دنیا اسے سنتی ہے، لوگ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ یونیورسٹیوں کے پروفیسر جب لیکچر دیتے ہیں تو معاشرے کے بااثر لوگ ان کی گفتگو کے لیے اپنا قیمتی وقت نکالتے ہیں۔تو کیا دین کا دائرہ صرف چند عبادات تک محدود کر دیا جائے؟ نہیں۔ اس سائنسی وٹیکنالوجی دور میں ہمیں اپنی تیاری، اپنی صلاحیت اور اپنی پیشکش کو بہتر بنانا ہی ہوگا۔

ہمارے مدرسے صرف ایک مخصوص نصاب کے ورزشگاہ نہ رہیں، بلکہ ایسے مراکز ہوں جہاں ہر وہ علم پڑھایا جائے جو اندرون و بیرونِ ملک دعوتِ دین میں معاون ہو، جس سے غیر مسلم معترضین کو اسلام کی حقانیت ان کی زبان میں سمجھائی جا سکے۔

مذہبی اجلاسوں کی اصلاح:

ساتھ ہی مذہبی جلسوں کو جاہل زبان دراز خطیبوں اور گانے بجانے والے نادان نام نہاد شاعروں سے پاک کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے۔ اس میدان میں فوری، مؤثر اور جنگی پیمانے پر کام کرنا ہوگا۔ تاخیر پہلے ہی بہت ہو چکی ہے، مزید تاخیر ہمیں اور پیچھے دھکیل دے گی۔

اقبال نے بجا فرمایا تھا:

گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے تیرا

کہاں سے آئے صدا لا الٰہ الا اللہ

اقبال نے دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا قریب سے مشاہدہ کیا تھا، زمانے کی رفتار اور تقاضے دیکھے تھے۔ آج ہم جانتے ہوئے بھی اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کہیں نہ کہیں ہم سب اللہ و رسول کے بھی مجرم ہیں… اور دین کے بھی۔

دل بدل سکتے ہیں،جذبات بدل سکتے ہیں

ملک کے فکر و خیالات بدل سکتے ہیں

دورِ موجود کے دن رات بدل سکتے ہیں

تم بدل جاؤ…،تو یہ حالات بدل سکتے ہیں

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383