Feb 7, 2026 07:41 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
بابری مسجد کا سانحہ ایک المیہ: ادیب شہیر علامہ نور محمد خالد مصباحی حفظہ اللہ

بابری مسجد کا سانحہ ایک المیہ: ادیب شہیر علامہ نور محمد خالد مصباحی حفظہ اللہ

04 Dec 2025
1 min read

بابری مسجد کا سانحہ ایک المیہ: نور محمد خالد مصباحی

بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر اجودھیا  میں 6 دسمبر 1992کو ہندو کار کنوں کے ایک گروہ نے 16 صدی میں تعمیر شدہ بابری مسجد کو منہدم کردیا یہ سانحہ اجودھیا میں منعقد سیاسی جلسے کے بعد پیش آیا جب جلسے نے پر تشدد رخ اختیار کرلیا ہندو دیو مولا کے مطابق  اجودھیا شہر کو رام کی جائے پیدائش مانا جاتا ہے 1528 میں جب شمالی ہندوستان پر مغلوں نے حملہ کیا تو اس جگہ مغل سالار میر باقی نے ایک مسجد تعمیر کرائ  جس کا نام مغل شہنشاہ بابر کے نام پر بابری مسجد رکھا پچھلی چار صدیوں سے اس جگہ پر مسلمان اور ہندو دونو عبادت کرتے رہے 1858میں اس مقام پر پہلی بار ہندو مسلم فساد کا  ذکر ملتا ہے برطانوی حکومت نے مسجد کے بیرونی احاطے پر جنگلہ لگا کر اسے الگ کردیا یہ حالات 1949 تک بر قرار رہی اور اسکے بعد کسی  رضا کار نے چپکے سے مسجد کے اندر رام کی مورتی رکھ دی بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہندو مہا سبھا کے رضا کاروں نے رکھا تھا اس پر بہت تکرار ہوئ اور فریقین نے مقدمات دائر کردئے مسجد کے لوگوں نے مورتی کو مسجد کی بحرمتی سے منسوب کیا چنانچہ اس جگہ کو متنازع قرار دیکر مسجد کو مقفل کر دیا گیا 1980 میں ویشو ہندو پريشد نے اس مقام پر رام مندر کے تعمیر کیلے مہم چلائ اور بھارتی جنتا پارٹی اس کا سیاسی مہرا بنی اس فیصلے کو 1984 میں ایک ڈیسٹرک جج کے اس فیصلے سے طاقت ملی جس میں کہا گیا تھا کہ مسجد  کے دروازہ کو کھول کر  اس میں ہندوؤں کو عبادت کی ایجازت دی گئی ہے  ستمبر 1980کو بی جے پی کے رہنما ایل کے ایڈوانی نے اجود ھیا کے جانب رتھ یاترا شروع کی جس کا مقصد ہندو قوم پرستی کی تحریک کی حمایت تھا ایڈوانی کو اجودھیا پہونچنے سے پہلے بہار کے حکومت نے گرفتار کرلیا اس کے بوجود سینگھ پروار کے مظاہرین کی بڑی تعداد اجودھیا پہونچ گئی اور مسجد پر حملہ کرنے کی کوشس کی اس دوران میں انکی نیم فوجی دستوں سے جھڑپ بھی ہوی اور کئی کار سیوک مارے گئے بی جے پی نے وی پی سنگھ کی حکومت کی حمایت ترک کردی جس کے بعد نئے انتخابات   لازم ہو گے پارلیا منٹ میں بی جے پی کی حیثیت مستحکم ہوگی اور اتر پردیش کے صوبائ اسمبلی میں اکثریت بھی ملی (انہدام )  6 دسمبر 1992کو آر  ایس ایس اور اسکے اتحادیوں نے ڈیڑھ لاکھ افراد مسجد کے پاس جمع کرلیئے اس دوران میں بی جے پی کے رحنماوں  نے تقریریں بھی کیں جن میں اڈوانی مرلی منوہر جوشی اور اوما بھاتی قابل ذکر ہیں چند ہی گھنٹوں میں مجمع میں ہیجان پھیلنے لگا اور جے سری رام کے نعرے بلند ہونے لگے مسجد کے

حملے کے پیش نظر  پولیس کا پہرا لگا دیا گیا تا ہم دوپہر کے وقت ایک نوجوان پولیس کو چکما دیکر مسجد پر چڑھ گیا اور زعفرانی جھنڈا لہرا دیا ہجوم نے اسے حملے کی نشانی سمجھا اور مسجد پر چڑھ دوڑے پولیس کی تعداد انتہائ کم اور غیر مصلہ تھی سو اپنی جان بچا کر بھاگ نکلے ہجوم نے کلہاڑیوں ہتھوڑوں اور دیگر اوزاروں سے حملہ کرکے مسجد کو چند ہی گھنٹوں میں منہدم کردیا اس کے علاوہ ہندوؤں نے شہر کے کئی دیگر مساجد کو بھی توڑ ڈالے 2009 ؀ میں جسٹس من موہن سنگھ لبریان نے ایک رپورٹ مرتب کی جس میں ۶۸ افراد کو بابری مسجد کے انہدام کا مرتکب کرار دیا گیا ان میں زیادہ تر بی جے پی کے رہنما تھے ان میں واجپئی ایڈوانی جوشی وغیرہ شامل تھے اس وقت کیے اتر پردیش کے وزیر آلی کلیان سنگھ پر بھی تنقید کی گئ کہ انہوں نے ایسے سرکاری افسران اور پولیس اہلکاروں کو وہاں تعینات کیا جن کے متعلق یقین تھا  کہ مسجد کے انہدام کے وقت وہ خاموش رہنگے انجو گپتا اس روز اڈوانی کے سیکورٹی کے سر براہ تھے انہوں نے بتایا کہ اڈوانی اور جوشی کی تقریروں نے مجمع کو مستعل کیا رہنماؤں کو یہ رویہ واضح تصور پر بتا رہا ہے کہ وہ سب اس عمارت کی تباۂی کیلے ایک تھے 

سازشی الزامات2005ء کی مارچ بک میں انٹیلی جینس بیورو کے جائنٹ ڈائریکٹر مالوے کرشنا ڈھار نے دعویٰ کیا کہ بابری مسجد کے انہدام کی منصوبہ بندی دس ماہ قبل راشٹریہ سویم سنگھ، بی جے پی اور وی ایچ پی کے رہنماؤں نے کر لی تھی اور انھوں نے اس وقت کے وزیرِ اعظم نرسمہا راؤ کی طرف سے اس معاملے کو نمٹانے کے طریقہ کار پر بھی تنقید کی۔ یہ بھی دعویٰ کیا کہ انھوں نے بی جے پی/سنگھ پریوار کی ایک میٹنگ کو دیکھا جس میں بالکل واضح طور پر آنے والے مہینوں میں ہندوتو کے پرتشدد رخ اور مسجد کے انہدام پر کیے جانے والے تباہی کے رقص کی بھی مشق کی گئی تھی۔ آر ایس ایس، وی ایچ پی اور بجرنگ دل  رہنما جو اس میٹنگ میں موجود تھے، مل کر نظم و ضبط سے کام کرنے پر اتفاق کیا۔ انھوں نے بتایا کہ اس اجلاس کی ٹیپیں انھوں نے اپنے افسرِ اعلیٰ کو دیں جن کے بارے میں یقین ہے کہ وہ وزیرِ اعظم نرسمہا راؤ اور وزیرِ داخلہ چاون کو بھی دکھائی گئی ہوں گی۔ مصنف کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہر طرف ایک خفیہ معاہدہ تھا کہ ایودھیا سے ہندوتو کو بہترین سیاسی فائدہ حاصل ہوگا۔

اپریل 2014ء کو کوبرا پوسٹ کے ایک اسٹنگ آپریشن میں دعویٰ کیا گیا کہ مسجد کا انہدام مشتعل ہجوم کی کارروائی نہیں تھی بلکہ سبوتاژ کی ایسی منصوبہ بندی تھی جس کے بارے میں کسی حکومتی ادارے کو خبر نہ ہو سکی۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اس کی تیاری کئی ماہ قبل وشو ہندو پریشد اور شیو سینا نے الگ الگ کر رکھی تھی۔آنند پٹوردھن کی ڈاکومنٹری "رام کے نام" میں بھی انہدام سے پہلے کے واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے

معاشرتی تشدد

بابری مسجد اور اُس روز بہت سی دیگر مساجد کے انہدام سے مسلم طبقے میں اشتعال پھیل گیا اور کئی ماہ تک ہندو مسلم فسادات جاری رہے۔ اس دوران میں دونوں مذاہب کے پیروکاروں نے ایک دوسرے پر حملوں کے علاوہ گھروں اور دکانوں کی لوٹ مار اور عبادت گاہوں کا انہدام جاری رکھا۔ بی جے پی کے کئی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا اور حکومت کی جانب سے وی ایچ پی پر مختصر عرصے کے لیے پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کے باوجود ممبئی، سورت، احمد آباد، کانپور، دہلی اور بھوپال سمیت بہت سے شہروں میں فسادات ہوتے رہے اور ان میں 2٫000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن کی اکثریت مسلمانوں کی تھی۔دسمبر 1992ء اور جنوری 1993ء میں محض ممبئی کے فسادات میں 900 افراد کی ہلاکت اور 90 ارب روپے (3.6 ملین) کا مالی نقصان ہوا۔مسجد کا انہدام اور اس کے بعد کے ہنگاموں نے 1993ء میں ممبئی حملوں کو تحریک دی۔ اس کے علاوہ آنے والی دہائی تک فسادات جاری رہے جہادی گروہ بشمول انڈین مجاہدین نے بابری مسجد کے انہدام کو اپنی کارروائیوں کی وجہ قرار دیا۔

تفتیش

16 دسمبر 1992ء کو یونین ہوم منسٹری نے  لب رہان کمیشن بنایا تاکہ مسجد کی تباہی کی تفتیش کی جا سکے۔ اس کی سربراہی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج ایم ایس لب رہان کو سونپی گئی۔ اگلے  16 برس میں 399 نشستوں کے بعد کمیشن نے 1٫029 صفحات پر مشتمل طویل رپورٹ وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کو 30 جون 2009ء کو پیش کاس رپورٹ کے مطابق 6 دسمبر 1992ء کو ایودھیا کے واقعات "نہ تو اچانک اور نہ منصوبہ بندی کے بغیر ہوئے۔ مارچ 2015ء میں بھارت کی عدالت عظمیٰ میں پٹیشن دائر کی گئی کہ چونکہ بی جے پی کی حکومت ہے، اس لیے سی بی آئی اس حکومت کے رہنماؤں بشمول ایل کے ایڈوانی اور راج ناتھ سنگھ کے خلاف غیر جانبدارانہ تحقیقات نہیں کر سکتی۔ عدالت نے سی بی آئی سے اپیل دائر کرنے میں تاخیر کی وجہ بیان کرنے کا حکم دیا۔

اپریل 2017ء کا سپریم کورٹ کا حکم نامہ

اپریل 2017ء کو عدالت عظمیٰ نے ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی اور ونے کٹیار کے علاوہ دیگر افراد پر سازش کے الزامات بحال کر دیے۔

بین الاقوامی ردِ عمل

شہر ایودھیا

بہت سے ہمسایہ ممالک نے بھارتی حکومت پر نکتہ چینی کی کہ وہ مسجد کے انہدام اور اس کے بعد ہونے والے مذہبی فسادات کو روکنے میں ناکام رہی۔ اس کے علاوہ پاکستان میں مسلمانوں کی جانب سے ہندوؤں پر بھی حملے کیے گئے۔ پاکستان:پاکستان نے 7 دسمبر کو مسجد کے انہدام کے خلاف ہونے والے احتجاج کے پیشِ نظر اسکول اور دفاتر بند کر دیے۔ پاکستانی دفترِ خارجہ نے ہندوستانی سفیر کو طلب کر کے باقاعدہ شکایت درج کرائی اور وعدہ کیا کہ اقوامِ متحدہ اور او آئی سی کی جانب سے دباؤ ڈال کر ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کی یقین دہانی کرائی جائے گی۔بنگلہ دیش:  دسمبر 1992ء میں مسجد کے انہدام کے بعد بنگلہ دیشی مسلمانوں نے ہجوم کی شکل میں ملک بھر میں ہندو مندروں، دکانوں اور گھروں پر حملہ کر کے آگ لگا دی۔دار الحکومت ڈھاکہ میں ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان میں ہونے والے میچ پر 5٫000 کے قریب افراد نے دھاوا بولنے کی کوشش کی اور میچ روک دیا گیا۔ڈھاکہ میں ایئر انڈیا کے دفتر پر حملہ کر کے تباہ کر دیا گیا۔دس افراد ہلاک بھی ہوئے اور گیارہ ہندو مندر اور بے شمار دکانیں بھی تباہ ہوئیں۔نتیجتاً بنگلہ دیشی ہندوؤں نے 1993ء میں درگا پوجا کی تقریبات کو مختصر کر دیا اور مطالہ کیا کہ تباہ شدہ مندروں کی بحالی اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

ایران:آیت اللہ خمینی نے انہدام کی مذمت کی مگر پاکستان اور بنگلہ دیش کی نسبت نرم الفاظ استعمال کیے۔انھوں نے ہندوستان سے مسلمانوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

مشرقِ وسطیٰ:خلیجی تعاون کونسل نے ابو ظبی کے اجلاس کے بعد بابری مسجد کے انہدام کی سختی سے مذمت کی۔ اس اجلاس میں ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں اس انہدام کو مسلم مقدس مقامات کے خلاف جرم قرار دیا گیا۔ رکن ممالک میں سے سعودی عرب نے اس کی سختی سے مذمت کی۔ متحدہ عرب امارات جن میں پاکستان اور بھارت کے باشندوں کی بہت بڑی تعداد رہتی ہے، نے اس پر زیادہ معتدل ردِ عمل ظاہر کیا۔ اس ردِ عمل میں بھارتی حکومت نے خلیج تعاون کونسل کے بیان کو اپنے اندرونی معاملات میں دخل اندازی قرار دیا۔

متحدہ عرب امارات

اگرچہ حکومت نے ان واقعات کی نرم الفاظ میں مذمت کی، متحدہ عرب امارات میں عوام میں کہیں زیادہ شدت سے ردِ عمل ظاہر کیا۔سڑکوں پر احتجاج شروع ہو گیا اور مظاہرین نے ہندو مندروں اور دبئی میں ہندوستانی قونصل خانے پر پتھراؤ بھی کیا۔ابو ظبی سے 250 کلومیٹر دور العین میں مظاہرین نے ہندوستانی اسکول کے زنانہ حصے کو آگ لگا دی۔ اس کے نتیجے میں اماراتی پولیس نے اس میں ملوث بہت سارے پاکستانی اور ہندوستانی تارکینِ وطن کو گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا۔ دبئی پولیس کے سربراہ ضحی خلفان نے اپنے ملک میں غیر ملکیوں کی جانب سے تشدد کی مذمت کی۔

+977 981-1190536

 

 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383