Feb 7, 2026 10:50 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
سعادت گنج میں ''بزمِ ایوانِ غزل'' کے زیرِ اہتمام شاندار طرحی مشاعرہ منعقد

سعادت گنج میں ''بزمِ ایوانِ غزل'' کے زیرِ اہتمام شاندار طرحی مشاعرہ منعقد

04 Dec 2025
1 min read

سعادت گنج میں ''بزمِ ایوانِ غزل'' کے زیرِ اہتمام شاندار طرحی مشاعرہ منعقد

بارہ بنکی (ابوشحمہ انصاری)

سعادت گنج کی انتہائی فعال ادبی تنظیم ''بزمِ ایوانِ غزل'' کے زیرِ اہتمام ایک شاندار اور نہایت کامیاب طرحی مشاعرے کا انعقاد آئیڈیل انٹر کالج محمدپور باہوں، سعادت گنج کے وسیع و عریض ہال میں منعقد کیا گیا۔ اس یادگاری اور کامیاب مشاعرے کی صدارت بزرگ شاعر عاصی چوکھنڈوی نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے ڈاکٹر بشر مسولوی اور مہمانِ ذی وقار کے طور پر ضمیر فیضی رام نگری نے شرکت کی۔

    اس حسین و پروقار مشاعرے کی نظامت کی ذمہ داری دانش رامپوری اور طنز و مزاح کے مشہور شاعر بیڈھب بارہ بنکوی نے مشترکہ طور پر اپنے اپنے منفرد، دل کش اور جداگانہ انداز میں انجام دی۔ اس طرحی مشاعرے کا آغاز مشتاق بزمی نے نعتِ رسولﷺ سے کیا جس نے مشاعرے کو روحانی فضا سے بھر دیا۔ اس کے بعد غزل کے دل نشیں اور بے انتہا خوبصورت مصرعِ طرح 

    ’’ہم خواب کی دنیا سے نکل آئے ہوئے ہیں‘‘ 

پر باضابطہ طرحی مشاعرے کا آغاز ہوا۔ مشاعرہ نہایت کامیاب رہا۔ پیشِ خدمت ہیں چند منتخب اشعار جو شعراء اور سامعین کی جانب سے بہت زیادہ پسند کیے گئے اور خوب داد و تحسین سے نوازے گئے:

ہم خواب کی دنیا سے نکل آئے ہوئے ہیں 

اب وہ ہمیں تعبیر میں الجھائے ہوئے ہیں 

عاصی چوکھنڈوی 

خاکی ہیں مگر شان ہماری کوئی دیکھے 

ہم عرش کی زینت کا شرف پائے ہوئے ہیں 

بشر مسولوی 

جو اپنے پڑوسی پہ ستم ڈھائے ہوئے ہیں 

وہ لوگ جہنم میں جگہ پائے ہوئے ہیں 

بیڈھب بارہ بنکوی 

وہ بات کہ جس کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے 

وہ ہم کو اسی بات میں الجھائے ہوئے ہیں 

کلیم طارق 

ہر روز یہاں نت نیا قانون ہے نافذ 

لوگ اس لیے اس شہر میں گھبرائے ہوئے ہیں 

راشد ظہور 

اللہ کرے ہاتھ سلامت رہیں ان کے 

اسلام کے پرچم کو جو لہرائے ہوئے ہیں 

اثر سیدن پوری 

اب صرف حقیقت کا ہمیں ذکر سناؤ 

ہم خواب کی دنیا سے نکل آئے ہوئے ہیں 

مشتاق بزمی 

اسلاف کی راہوں کو جو اپنائے ہوئے ہیں 

ہر مرکزِ ہستی پہ وہی چھائے ہوئے ہیں 

دانش رامپوری

مجھ کو تو انا میری اجازت نہیں دیتی 

حالات ہیں جو ہاتھوں کو پھیلائے ہوئے ہیں 

ظہیر رامپوری 

 معصوم پرندوں کو یہ معلوم نہیں ہے 

صياد نے ہی دانے یہ بکھرائے ہوئے ہیں 

ڈاکٹر زعیم اختر بارہ بنکوی 

ایمان و یقیں جن کا نہیں ایک خدا پر 

وہ دستِ طلب ہر جگہ پھیلائے ہوئے ہیں 

ڈاکٹر سلمان 

پل بھر کے لیے تجھ کو جدا ہوتے نہ دیکھیں 

تصویر تری سینے سے چپکائے ہوئے ہیں 

نظر مسولوی 

یوں ہی نہیں دشمن سبھی گھبرائے ہوئے ہیں 

زنداںِ بلا توڑ کے ہم آئے ہوئے ہیں 

شفیق رامپوری 

ملتے ہیں جہاں مفت میں بدحال کو کمبل 

خوشحال وہاں ہاتھوں کو پھیلائے ہوئے ہیں 

چٹک چوکھنڈوی 

تاریخ کے اوراق ذرا دیکھ پلٹ کر 

جو تاج ہیں تیرے مرے ٹھکرائے ہوئےہیں 

راشد رفیق چوکھنڈوی 

آنسو میری پلکوں پہ جو یہ آئے ہوئے ہیں 

اک بار کے ہنسنے کی سزا پائے ہوئے ہیں 

نعیم سکندرپوری 

ہم اپنے تصور میں لیے بیٹھے ہیں ان کو 

وہ پاس نہ آنے کی قسم کھائے ہوئے ہیں 

قمر سکندرپوری 

یہ کیسی بہار آئی خزاں ساتھ میں لے کر 

گلشن کے سبھی پھول جو مرجھائے ہوئے ہیں 

سحر ایوبی 

آرائشِ جنت کا جنھیں علم نہیں ہے 

دنیا کی مصیبت سے وہ گھبرائے ہوئے ہیں 

عاصم اقدس 

کچھ لوگ ہمیں دیکھ کے گھبرائے ہوئے ہیں 

لگتا ہے کہیں اور سے ہم آئے ہوئے ہیں 

ماہر بارہ بنکوی 

اپنے تو سبھی اپنے ہیں اپنوں کی الگ بات 

جو غیر ہیں ان کو بھی ہم اپنائے ہوئے ہیں 

اسرار حیات 

آئینہ وہ کچھ ایسا یہاں لائے ہوئے ہیں 

پتھر کے صنم دیکھ کے گھبرائے ہوئے ہیں 

ابو ذر انصاری 

    ان شعراء کے علاوہ ضمیر فیضی رام نگری، قیوم بہٹوی، دلکش چوکھنڈوی، علی بارہ بنکوی، اسلم سیدن پوری، صغیر قاسمی، اظہار حیات اور مصباح رحمانی نے بھی اپنا اپنا طرحی کلام پیش کیا اور شعراء و سامعین سے خوب داد و تحسین حاصل کی۔ سامعین میں آئیڈیل انٹر کالج کے منیجر محمد مستقیم انصاری، ماسٹر محمد وسیم انصاری، ماسٹر محمد قسیم انصاری، ماسٹر محمد حلیم انصاری اور ماسٹر محمد راشد انصاری کے نام بھی قابلِ ذکر ہیں۔

’’بزمِ ایوانِ غزل‘‘ کا آئندہ ماہانہ طرحی مشاعرہ بتاریخ 28/ دسمبر بروز اتوار درج ذیل مصرع پر منعقد ہوگا:

’’کر نہیں پائے گا یہ طوفان کچھ‘‘

قافیہ: طوفان:     ردیف: کچھ

یہ مشاعرہ بھی آئیڈیل انٹر کالج میں ہی منعقد ہوگا

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383