Feb 7, 2026 10:48 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
کتاب:شادی کے رسم و رواج  حقیقت یا خرافات

کتاب:شادی کے رسم و رواج حقیقت یا خرافات

06 Nov 2025
1 min read

کتاب:شادی کے رسم و رواج حقیقت یا خرافات

مؤلف: (محمد سفیان حنفی، متعلم جامعہ اشرفیہ مبارک پور)

تبصرہ نگار:

محمد ارشد القادری،

متعلم شعبہ صحافت و ترسیل عامہ مانو حیدرآباد

دینِ اسلام کی جامعیت کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس نے انسانی زندگی کے ہر مرحلے کے لیے روشن رہنمائی عطا فرمائی ہے۔ عبادت سے لے کر معاشرت تک، اور اخلاقیات سے لے کر معاشی معاملات تک اسلام نے کسی گوشے کو تشنہ رہنمائی نہیں چھوڑا۔ مگر افسوس! کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارا معاشرہ رسوم و بدعات کی زنجیروں میں جکڑتا چلا گیا۔ شادی جیسے مقدس اور مسنون عمل کے گرد بھی توہمات، خرافات اور غیر اسلامی رسومات نے اپنے پنجے گاڑ لیے ہیں۔ انھیں معاشرتی خرابیوں اور کمیوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کرنے کے لیے محب گرامی مولانا محمد سفیان حنفی مصباحی نے "شادی کے رسم و رواج حقیقت یا خرافات" کے عنوان سے جو گراں قدر اور بیش بہا کاوش پیش کی ہے، وہ اپنی نوعیت کی منفرد اور ایک علمی حیثیت رکھتی ہے۔

یہ کتاب دراصل ایک اصلاحی منشور ہے جو عوام الناس کے ذہنوں میں جمی ہوئی روایتی غلط فہمیوں کو دلائل کی قوت سے مٹانے کی سعیِ بلیغ ہے۔ مؤلفِ موصوف نے نہایت جرأت مندانہ اور مدلل انداز میں اُن تمام رسوم کا جائزہ لیا ہے جو ہمارے معاشرے میں "شادی" کے نام پر مذہب کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں، مگر حقیقت میں دینِ اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

کتاب کا اسلوب نہ تو خشک علمی ہے اور نہ ہی سطحی، بلکہ ایک متوازن طرزِ بیان میں علمی تحقیق، شرعی استدلال اور عوامی فہم تینوں عناصر کو جمع کر دیا گیا ہے۔ ہر موضوع کے تحت فتاویٰ رضویہ، بہار شریعت اور فقہ حنفی کی مشہور و معروف دیگر کتب معتبرہ سے ماخوذ شرعی دلائل کے ساتھ معاشرتی مشاہدات بھی پیش کیے گئے ہیں، جو قارئین کو محض معلومات نہیں دیتے بلکہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ موصوف نے دلھن کے لباس، جہیز، براتیوں کی نمود و نمائش، بے جا اسراف، شادی میں موسیقی، آتش بازی اور مختلف رسوم کے متعلق شرعی احکام کو نہایت اختصار مگر گہرائی کے ساتھ مدلل بیان کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب ایک طرف علمی حلقوں کے لیے تحقیق کا نمونہ ہے تو دوسری طرف عوام الناس کے لیے اصلاحی رہنما بھی۔

ادبی اعتبار سے بھی موصوف کا طرزِ نگارش قابلِ داد ہے۔ زبان میں شستگی، اندازِ بیان میں متانت اور جذبہ اصلاح میں خلوص کی آمیزش اس کتاب کو محض ایک تنقیدی تحریر نہیں بلکہ دعوتِ اصلاح و احیائے سنت کا مظہر بناتی ہے۔صحافتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو کتاب میں معاشرتی حساسیت اور سماجی ذمہ داری کا بھرپور احساس جھلکتا ہے۔ ہر صفحہ قاری کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے اور اسے اپنی زندگی اور معاشرتی رویوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہم نے شادی کو کتنا مشکل بنا لیا ہے۔

اس لیے میرا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ :"شادی کے رسم و رواج حقیقت یا خرافات" نامی کتاب۔ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح کا ایک علمی پیغام ہے"۔ یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے لائقِ مطالعہ ہے جو اپنی شادی کو سنتِ نبوی کے مطابق انجام دینا چاہتا ہے اور معاشرتی برائیوں سے نجات حاصل کرنے کا خواہاں ہے اور ساتھ ہی علما،طلبا اور قوم و ملت کے ہمدردان سب کے لیے یکساں و مفید ثابت ہوگا۔

میں یہ دعویٰ تو نہیں کر سکتا کہ مکمل کتاب کا احاطہ اور تمام عناوین و فہرست پر تفصیلی گفتگو کر سکوں گا کیونکہ یہ میرے لیے کافی دشوار امر ہے البتہ یہ کہوں گا کہ اس کے بعض عنوان و فہرست پر اظہارِ خیال کی کوشش ضرور کروں گا۔ اس لیے کہ یہ ایسے عناوین ہیں جو خود مقتضائے حال اور سماج میں بڑھتے رسم و رواج پر اپنی اہمیت و دلکشی کے باعث مطالعہ و تبصرہ کے طالب نظر آتے ہیں، اور ان پر گفتگو زیادہ ممکن ہے، اگرچہ مجموعی فہرست پر بحث اس مختصر نشست میں ممکن نہیں کیونکہ اس کتاب کی ہر فہرست ایک طویل تحریر کی متلاشی ہے۔ تاہم کچھ فہرست پر سرسری نظر ڈالتے ہیں۔◼️کتاب کے ابتدائی صفحات میں شامل شرفِ انتساب، اور خلیفہ تاج الشریعہ جامع معقول و منقول مفتی ناظم علی مصباحی استاذ جامعہ اشرفیہ کےکلماتِ تحسین، مولانا دستگیر عالم مصباحی و مولانا ساجد علی مصباحی صاحبان کے تقریظِ جلیل و جمیل اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ مؤلف موصوف نے یہ کتاب محض ایک مذہبی فریضے کے طور پر نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب کے جذبے سے تحریر کی ہے۔ تحسینی کلمات میں موجود علمی نکتہ آفرینیاں اور لسانی سلاست بتاتی ہیں کہ صاحب کتاب کا قلم تحقیق و تقریر دونوں پر قدرتِ کاملہ رکھتا ہے۔

◼️شرعی رہنمائی کا جمال:

آغاز کتاب میں محرر نے نہایت بصیرت مندانہ انداز میں "محرم اور صفر کے مہینے میں شادی کرنے کے شرعی حکم" پر روشنی ڈالی ہے۔ جو عوام میں رائج ہے کہ ان مہینوں میں شادی نحوست کا باعث ہے۔ موصوف نے بڑے سلیس انداز میں انھیں فقہ و فتاوی کی روشنی میں بیان کیا ہے۔

اسی طرح "غیر برادری میں شادی کرنے" کے عنوان کے تحت محرر صاحب نے ایک معاشرتی عصبیت کا علمی تجزیہ کیا ہے انہوں نے نہایت متانت کے ساتھ یہ واضح کیا کہ اسلام میں حسب و نسب بعد میں پہلے زہد و تقویٰ معیارِ فضیلت ہے۔ یہ باب نہ صرف شرعی فہم کا مظہر ہے بلکہ سماجی توازن کا بھی پرچارک ہے۔

◼️جہیز، اسراف اور ظلمتِ رسم و رواج:

کتاب میں سب سے دردمند شامل فہرست "گاڑی اور سامانِ جہیز کا مطالبہ" اور "جہیز کا مالک کون؟" کے زیرِ عنوان ہے۔

جس میں بے جا اسراف، مالی تفاخر، اور دکھاوے کے اس قبیح رجحان پر قرآن و سنت کے حوالوں سے مدلل تنقید کی گئی ہے۔ ان کے جملے قاری کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والے ہیں کہ اسلام میں نکاح 

آسان اور طلاق مشکل ہے، مگر ہمارے معاشرتی نظام نے نکاح کو کاروبار اور طلاق کو تماشا بنا دیا ہے۔ یہ ابواب محض تنقید نہیں بلکہ ایک فقہی و اخلاقی دستاویز ہیں جو والدین، نوجوانوں اور مذہبی رہنماؤں سب کے لیے فکر انگیز ہیں۔

◼️زیب و زینت اور تقلیدِ غیر مثلاً "لڑکی کے سسرال سے زیورات طلب کرنے" "منگنی کی رسم" اور "انگوٹھی پہنانے" جیسے موضوعات پر انھوں نے قلم اٹھا کر نہایت جرأت کے ساتھ یہ حقیقت آشکار کی ہے کہ ان میں سے بیشتر رسوم غیروں کی تقلید اور جہالت کا شاخسانہ ہیں۔

اسلام نے انسان کو عزت دی مگر ہم نے روایات کی زنجیروں میں خود کو باندھ لیا۔ واقعی ان کے دلائل، احادیث کریمہ اور فقہی رو سے اس امر کی تائید کرتے ہیں کہ دین کی سادگی ہی اس کی رفعت ہے۔

◼️ پردے، حیا اور نسوانی وقار:

کتاب کا ایک نہایت اہم و بیدار کن حصہ "اسٹیج پر دلہن کے بیٹھنے، "عورت کے چہرے کے پردے" اور "نامحرم کے سامنے آنا" جیسے حساس موضوعات پر مشتمل ہے۔ مؤلف موصوف نے قرآن و حدیث کے دلائل سے پردے کی شرعی حیثیت کو واضح کیا اور بتایا کہ حیا عورت کا زیور ہے، نہ کہ زیورات کا دکھاوا۔ان ابواب کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ مصنف کے قلم میں فقہی رسوخ اور اصلاحی جذبہ یکجا ہو گیا ہے۔

◼️ نکاح، ولیمہ اور سماجی توازن: 

اس کتاب میں نہایت خوبصورت انداز میں ولیمہ کی سنت، اس کے حدود و قیود اور وقت پر گفتگو کی گئی ہے اور یہ کہ ولیمہ شکرِ نعمت کے اظہار کا ذریعہ ہے، نہ کہ نمود و نمائش کا مظاہرہ۔ اسی طرح نکاح پڑھانے کی اجرت (شادی کے موقع پر نقدی دینا وغیرہ) جیسے فقہی پہلوؤں پر بھی موصوف نے جاندار فقہی بصیرت کا ثبوت دیا ہے جس سے آپ کی علمی کمال کا پتا چلتا ہے۔

📚کتاب میں شامل فہرست متعدد موضوعات مثلاً:

 مہندی کی رسم • عورتوں کا گیت گانا • اعلانِ نکاح کے وقت دف بجانا • آتش بازی • بچوں کا شہ بالا بننا • دولھے کو سونے کی انگوٹھی پہنانا • نکاح کے بعد چھوہارے لٹانے کا حکم • نیوتا کی شرعی حیثیت • دودھ پلائی جوتا چرائی رسم • دلھن کا پاؤں دھوکر گھر میں چھڑکنا • منہ 

دکھائی رسم۔  وغیرہ جیسے تقریباً پچاس موضوعات پر مؤلف گرامی نے قرآن و حدیث و فقہ و تفسیر کی روشنی میں قلم بند کرکے یہ پیغام دیا ہے کہ خوشی بجا ہے، مگر بے حیائی و نمود کی آڑ میں سنتوں کی پامالی ہرگز جائز نہیں۔

موصوف کی تحریر یہاں ایک خطیب کی طرح دل کو جھنجھوڑتی ہے اور ایک محقق کی طرح عقل کو قانع کرتی ہے۔

موصوف کی زبان نہ صرف شستہ اور رواں ہے بلکہ بلاغت و تاثیر کا حسین امتزاج بھی رکھتی ہے۔ ان کے جملے ناصحانہ بھی ہیں اور دل آویز بھی۔ تحریر میں ایسا توازن ہے کہ قاری خود کو کسی واعظ کی مجلس میں نہیں بلکہ ایک علمی و فکری درس گاہ میں محسوس کرےگا۔ ادبی رنگ کے ساتھ ساتھ موصوف نے جو صحافتی بصیرت دکھائی ہے۔ یہ ان کی قوم و ملت سے ہمدرد و تڑپ اور لگاؤ اور ان کی اصلاح کے لیے واضح ثبوت ہے۔ محب گرامی کی تحریر معاشرتی رگ جاں پر ہاتھ رکھتی ہے، سوال اٹھاتی ہے اور پھر قرآن و سنت کے نور سے ان سوالات کا حل پیش کرتی ہے تاکہ عوام الناس جہالت کی تاریکی سے آزاد ہو جائیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا کہ میرا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ کتاب بنام ”شادی کے رسم و رواج حقیقت یا خرافات“ محض ایک کتاب نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح کا منشور، فکری بیداری کا نقیب اور علمی احیا کی دستاویز ہے۔

صاحب کتاب نے اس موضوع پر جس عالمانہ بصیرت، شرعی توازن اور ادبی نفاست کے ساتھ کام کیا ہے، وہ ان کے علم، ایمان اور جذبہ خدمتِ دین کی روشن دلیل ہے۔ یہ کتاب  عوام و خواص سب کے لیے یکساں اور لازم المطالعہ ہے جو نکاح کو سنتِ رسول ﷺ کے مطابق انجام دینا چاہتے ہیں اور معاشرتی بگاڑ کے خلاف اصلاحی کردار ادا کرنا چاہتے ہے۔ اس عہدِ پرآشوب میں جہاں شادی ایک سماجی نمائش بن چکی ہے، وہاں اس نوع کی تحریری کاوشیں علم و عمل دونوں کی تجدید ہیں۔ حقیقتاً محرر کا قلم اصلاحِ امت کا ترجمان ہے اور یہ کتاب یقیناً اَہلِ دانش و خرد و اہلِ دل و‌ دماغ دونوں کے لیے رہنمائی کا چراغ ہے۔ 

بلاشبہ یہ تصنیف لطیف وقت کی پکار کا مدلل و مقدس جواب ہے۔ ایک ایسی صدا جو ہمیں رسم و رواج کی تاریکیوں سے نکال کر سنت و شریعت کے نور کی طرف بلاتی ہے۔

ان شاء اللہ العزیز یہ کتاب بموقع 51واں عرس حافظ ملت علیہ الرحمہ علماے کرام کے دست بابرکت سے رسم اجرا کی منزل طے کر کے جلد ہی منظر عام پر آنے والی ہے واقعی یہ ایک بہترین تحفہ اور نکاح کو آسان بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اہل ذوق و شوق خود بھی رغبت کریں اور دوسرں کو بھی رغبت دلائیں۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو قبولیت خاص و عام فرمائے۔آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔

14/جمادی الاولی 1447ھ

مطابق6/نومبر 2025ء 

بروز جمعرات 11:35pm

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383