سوڈان میں جنگ "قابو سے باہر ہو رہی ہے:اقوام متحدہ
سوڈان میں شہریوں کے قتل، اغوا اور جنسی تشدد کے واقعات مسلسل جاری
الفاشر: (ایجنسیاں)
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان کے شمالی دارفور ریاست کے دارالحکومت الفاشر میں ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے قبضے کے ایک ہفتے بعد بھی شہریوں کے خلاف ہلاکتوں، اغوا اور جنسی تشدد کے واقعات مسلسل جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے دفتر (او سی ایچ اے) نے پیر کو بتایا کہ صورتحال نہایت سنگین ہے اور شہری آبادی، خاص طور پر خواتین اور بچوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی شِنہوا کے مطابق، او سی ایچ اے نے کہا ہے کہ انہیں متعدد رپورٹس موصول ہوئی ہیں جن میں الفاشر میں عام شہریوں کے قتل، خواتین پر حملوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ذکر ہے۔ ادارے کے مطابق، سینکڑوں شہری اب تک مارے جا چکے ہیں، جن میں انسانی ہمدردی کے کارکنان بھی شامل ہیں۔او سی ایچ اے کے بیان کے مطابق، بڑی تعداد میں لوگ شہر کے اندر محصور ہیں اور ان کا بیرونی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں رہا۔ ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے امدادی سامان کی ترسیل روکی جا رہی ہے، حالانکہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ریپڈ سپورٹ فورسز پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انسانی امداد کو فوری اور بلا تعطل پہنچنے دے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (آئی او ایم ) نے بتایا ہے کہ 26 اکتوبر کو شہر کے زوال کے بعد سے تقریباً 71 ہزار افراد الفاشر اور اس کے نواحی علاقوں سے فرار ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر افراد تویلا نامی علاقے میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں، جو تقریباً 40 کلومیٹر دور واقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق، فرار ہونے والے متعدد افراد نے راستے میں قتل، اغوا اور جنسی تشدد کے واقعات کی بھی اطلاع دی ہے۔
او سی ایچ اے کے مطابق، تویلا میں انسانی صورت حال انتہائی خراب ہے۔ ہزاروں خاندان کھلے آسمان تلے یا عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں، خوراک کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں اور صاف پانی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار ادارے ہنگامی امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں، جن میں روزانہ کھانا، طبی خدمات، پینے کا پانی، صفائی ستھرائی، غذائیت اور نفسیاتی مدد شامل ہے۔ تاہم، فنڈز کی کمی کے باعث یہ امدادی سرگرمیاں ضروریات کا صرف ایک محدود حصہ ہی پوری کر پا رہی ہیں۔ او سی ایچ اے نے مزید بتایا کہ کوردوفان خطے میں بھی تشدد میں تیزی آئی ہے، جس کے باعث بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہو رہی ہے۔ شمالی کوردوفان کے بارا علاقے سے شہریوں کے قتل اور دیگر سنگین خلاف ورزیوںکی اطلاعات ملی ہیں۔
آئی او ایم کے مطابق، 26 سے 31 اکتوبر کے درمیان بارا، ام رواہ اور اطراف کے دیہاتوں سے تقریباً 37 ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ یہ لوگ بڑھتی ہوئی عدم تحفظ، خوراک کی کمی اور تباہ حال بنیادی ڈھانچے سے دوچار ہیں۔ او سی ایچ اے نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ سوڈان کے لیے 2025 کے انسانی امدادی منصوبے میں فوری مالی مدد فراہم کی جائے۔ رپورٹ کے مطابق، درکار 4.16 ارب ڈالر میں سے اب تک صرف 1.17 ارب ڈالر (تقریباً 28 فیصد) فنڈز ہی دستیاب ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے واضح کیا کہ اگر فوری طور پرامداد میں اضافہ نہ کیا گیا تو لاکھوں متاثرہ شہری بھوک، بیماری اور تشدد کے خطرات میں پھنسے رہ جائیں گے۔ ادارے نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ سوڈان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے بلا تاخیر اور غیر مشروط مالی مدد فراہم کی جائے۔
