Feb 7, 2026 09:15 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
وزیر اعظم کار کی کے پرسنل سیکریٹری پر اقربا پروری کے الزامات، استعفے کا مطالبہ

وزیر اعظم کار کی کے پرسنل سیکریٹری پر اقربا پروری کے الزامات، استعفے کا مطالبہ

27 Nov 2025
1 min read

وزیر اعظم کار کی کے پرسنل سیکریٹری پر اقربا پروری کے الزامات، استعفے کا مطالبہ

نمائندہ نیپال اردوٹائمز

احمدرضاابن عبدالقادراویسی

کاٹھمانڈو:نیپال میں ایک بار پھر سیاسی ماحول گرم ہے، اور اس بار بھی مرکز میں جینریشن زی ( جین زی) نوجوان ہیں، جنہوں نے حکومت کے خلاف سڑکوں پر اتر کر شدید احتجاج شروع کر دیا ہے۔ تازہ تنازع وزیر اعظم سشیلا کار کی کے چیف پرسنل سیکریٹری ، آدرش شریشٹھ کے خلاف سامنے آیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ اور خاندان کے دیگر افراد کو وزیر اعظم کے دیگر کو سیکریٹریٹ میں اہم عہدوں پر تعینات کرایا۔ مقامی میڈیا نے جب یہ معاملہ اجاگر کیا تو سوشل میڈیا پر غصے کی لہر دوڑ گئی، جس کے بعد جین زی کارکنان، سول سوسائٹی اور عام شہریوں نے سوساتی اور نے اسے کھلا اقربا پروری قرار دیتے ہوئے آدرش شریشٹھ کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ۔ جین زی لیڈر کشیا بام نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ ہماری بنیادی مانیں شفافیت اور جوابدہی تھیں۔ سول حکومت کو عوام کے سامنے جواب وہ ہونا چاہیے۔ آدرش شریشٹھ کو فوراً ہٹا کر تمام مشکوک تقرریاں منسوخ کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی اصلاحات چاہتی ہے تو وہ پہلے اپنے دفتر سے جانبداری کا خاتمہ کرے۔ دوسری جانب وزیر اعظم کارکی کے دفتر نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے تقرریوں کا دفاع کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ تقرریاں خالصتاً ضروری انتظامی اور خاندانی وجوہات کے تحت کی گئیں اور اقربا پروری کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسی صفائیاں عوامی غصے کو کم کرنے کےبجائے مزید بھڑکا رہی ہیں۔ یہ احتجاج اس پس منظر میں ہو رہا ہے جب 21 نومبر کو سیما را شہر میں جین زی کارکنان پر امن مظاہرہ کر رہے تھے، مگر اسی دوران سی پی این۔ یوایم ایل کے مبینہ حامیوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ جھڑپوں میں کئی لوگ زخمی ہوئے اور صورتحال بگڑنے پر شہر میں کرفیو نافذ کرنا پڑا۔ مقامی حکام، خصوصاً جیت پور سیمارا سٹی کے میئر را جن پاڈیل نے میڈیا کو بتایا کہ مظاہرین پر امن تھے اور تشدد باہر سے آنے والےعناصر نے بھڑکایا۔ پولیس نے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے، تاہم اب تک کوئی بڑی گرفتاری سامنے نہیں آئی۔ تشدد کے خدشے کے باعث سی پی این ۔ یوایم ایل کے سینئر رہنماؤں نے ہوائی اڈے سے ہی اپنے پروگرام منسوخ کر دیے۔ مبصرین کے مطابق اگر حکومت نے ان کی آواز نظر انداز کی تو یہ تحریک آئندہ انتخابات کے نتائج پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383