حضوراحسن العلماعلیہ الرحمہ گلشن برکاتیہ کے گل سرسبد۔
تحریر: قربان قمر ہاشمی سیتامڑھی خادمِ جامعہ گلشنِ فاطمہ للبنات، سیوان (بہار)9022183389
مارہرۂ مطہرہ — وہ بابرکت وادی جہاں ہر ذرے میں “اللہ” کی گونج سنائی دیتی ہے، جہاں شبنم بھی ذکر بن کر گرتی ہے، اور ہوا بھی سانسوں میں ولایت کی خوشبو بھرتی ہے۔ یہی وہ سرزمین ہے جہاں قرونِ متوالی میں ایک کے بعد ایک چراغِ ہدایت روشن ہوا، اور جہاں خانقاہِ برکاتیہ کی صورت میں معرفت و طریقت کا ایک عظیم الشان قلعہ قائم ہوا۔
اٹھارہویں صدی کے اوائل میں جب ہندستان کا روحانی افق مضمحل ہونے لگا، تو ایک مردِ کامل نے علم و عرفان کی بساط بچھائی — وہ تھے سید شاہ برکت اللہ مارہرویؒ (1729ء)، جنہوں نے ساداتِ بلگرام کی روحانی میراث کو مارہرہ کی مٹی میں رچا دیا۔ آپ کے والدِ ماجد سید اویس مصطفیٰ بلگرامی اور مرشدِ کامل شاہ فضل اللہ کالپوی نے آپ کے دل میں قادری فیضان کی وہ چنگاری رکھی جو آج تک فروزاں ہے۔ شاعری میں “عشقی” اور “پیمی” تخلص فرمایا — آپ کا کلام عشقِ الٰہی اور جذبِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشبو سے معطر ہے۔ شاہ برکت اللہؒ کے بعد یہ فیضان جگمگاتے سورجوں کے ہاتھوں میں منتقل ہوتا گیا — شاہ آلِ محمد مارہرویؒ اتباعِ سنت کے پاسدار بنے، شاہ حمزہ عینیؒ نے تصوف و فلسفہ کے اسرار کو آشکار کیا، اور شاہ آلِ احمد اچھے میاںؒ نے “آئینِ احمدی” جیسے علمی خزانے سے خانقاہِ برکاتیہ کو علمی آفتاب بنا دیا۔ انہی کے فیضان سے مولانا فضلِ رسول بدایونیؒ جیسے مجتہد و محدث پیدا ہوئے جنہوں نے علمِ اہلِ سنت کے چراغ کو پورے برصغیر میں فروزاں کیا۔
جب یہ فیضان اپنی جلالت کی انتہا کو پہنچا، تو شاہ آلِ رسول مارہرویؒ (1795–1879ء) کی ذات نے خانقاہِ برکاتیہ کو ایک عالمی مرکزِ روحانیت بنا دیا۔ آپ ہی کے تربیت یافتہ وہ عظیم امام ہیں جنہیں دنیا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلویؒ کے نام سے جانتی
ہے۔ یوں مارہرہ سے بریلی تک ایک تسلسل قائم ہوا — علم سے عشق تک، اور عشق سے عمل تک۔ اسی نورانی تسلسل سے ایک اور آفتاب طلوع ہوا۔ ۱۰؍ شعبان المعظم ۱۳۴۵ھ (۱۳؍ فروری ۱۹۲۷ء) کی شب، مارہرہ کی فضاؤں میں عجب سی نوری لہر دوڑ گئی۔ چاندنی گویا کسی ولیِ کامل کے استقبال میں نچھاور ہو رہی تھی۔ اسی شب جنم ہوا اُس پیکرِ طہارت و عرفان کا جسے دنیا **احسن العلماء سید شاہ مصطفے حیدرحسن مارہروی علیہ الرحمہ کے نام سے جانتی ہے۔ چودہ ماہ کی عمر میں ہی حضرت سید اسماعیل حسن شاہ جی میاں علیہ الرحمہ نے بیعت و خلافت سے مشرف فرمایا، اور تاج العلماء سید اولادِ رسول محمد میاں علیہ الرحمہ کی نگاہِ کرم نے آپ کے قلب و باطن کو ولایت کے انوار سے بھر دیا۔آپ کی والدۂ ماجدہ سیدہ شہر بانو رحمہا اللہ عبادت و اخلاص کی پیکر تھیں — جن کی لوریوں میں ذکرِ مصطفیٰ ﷺ اور نگاہوں میں دعا بسی تھی۔ اسی تربیت نے آپ کے دل میں عشق و ادبِ نبوی ﷺ کا وہ چراغ روشن کیا جو زندگی بھر نور بکھیرتا رہا۔ آپ نے اپنے عہد کے اجلہ علما — تاج العلماء، شیخ العلماء، خلیل العلماء، اورحضور شیرِ بیشۂ سنت علیہم الرحمہ سے علم حاصل کیا۔ علم نے وقار بخشا، عشق نے جلال دیا، تصوف نے جمال عطا کیا۔ آپ کی تقریر علم و عشق کا امتزاج، اور کلام وجد و عرفان کا ترنم تھا۔ جب آپ کلامِ رضا کی شرح فرماتے تو محسوس ہوتا کہ گویا خود اعلی حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضافاضل بریلوی علیہ الرحمہ آپ کی زبان سے اسرارِ عشق کہہ رہے ہیں۔
احسن العلماء علیہ الرحمہ ایک ایسی جامع الصفات ہستی تھے جن کے وجود میں نورِ علم، عطرِ عشق، اور حرارتِ عمل یکجا تھی۔ بچپن ہی سے آپ کے چہرے پر بزرگی کے آثار نمایاں تھے؛ وہی نور جو بعد میں ہزاروں دلوں کے چراغ بن کر چمکا۔ آپ کی آنکھوں میں عجب سی متانت تھی — جیسے صدیوں کا عرفان ان میں ٹھہر گیا ہو، اور تبسّم میں وہ نرمی تھی جو اہلِ دل کی زبان ہے۔خانقاہِ مارہرۂ مطہرہ کے لئے آپ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ آپ نے ساری زندگی مسلکِ اعلیٰ حضرت کے فروغ اور اہلِ سنت کی خدمت میں بسر کی۔ آپ کے کردار کی بنیاد علم پر تھی، مگر اس کے ستون عشق و اخلاص سے اٹھے ہوئے تھے۔ آپ خاندنِ برکات کی برکتوں کے امینِ کامل تھے — وہ خانوادہ جس کے مشائخ نے علم کو ادب سے، اور تصوف کو خدمت سے جوڑ دیا۔ خانقاہِ برکاتیہ کے مشائخِ عظام اور خدام میں ایک صفت مشترک ہے — اخلاقِ حسنہ۔ یہ وہ صفت ہے جو مارہرہ کی مٹی میں گندھی ہوئی ہے، جو ان کے اندازِ گفتار، طرزِ رہنمائی اور مریدین کے ساتھ برتاؤ میں نمایاں ہے۔ حضور احسن العلماء علیہ الرحمہ اسی سلسلے کے وہ روشن ستارے ہیں جنہوں نے محبت کے ساتھ اصلاح فرمائی، اور تربیت کے ساتھ تزکیہ عطا کیا۔
گلشنِ برکات کے اس مہکتے پھول کی خوشبو صرف مارہرہ تک محدود نہ رہی، بلکہ برصغیر کے گوشے گوشے میں پھیل گئی۔ آپ کی ذات مقدسہ عالمگیر شخصیت کی حامل تھی — سیرت و کردار میں اپنے نانا جان، رسولِ کریم ﷺ کے عکسِ جمیل تھے۔ عبادت و ریاضت میں وہ خشوع، تقویٰ و طہارت میں وہ چمک، اور حق گوئی و جرأت میں وہ وقار — کہ دیکھنے والا محسوس کرتا گویا “اخلاقِ محمدی ﷺ” کا عکس اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔
احقاقِ حق اور ابطالِ باطل میں آپ کا قلم بھی مجاہد، اور زبان بھی منبر کی شمشیر تھی۔ تصوف و سلوک میں آپ کا نام استقامت و اخلاص کا استعارہ بن گیا۔ مہمان نوازی میں آپ بے مثال تھے — آپ کے دسترخوان کی کشادگی، دل کی وسعت اور لہجے کی نرمی آپ کی درویشی کا آئینہ تھی۔
سرکارِ احسن العلماء علیہ الرحمہ ایک ایسی ذاتِ گرامی تھے جو بے شمار فضائل و مناقب کے حامل اور اوصافِ حمیدہ کے جامع تھے۔ آپ اپنے آباؤ اجداد کے سچے جانشین ہونے کے ساتھ ساتھ گلشنِ برکات کے باعمل مبلغ و ناشر بھی تھے۔ آپ کی مجلسیں علم و عشق کا سنگم تھیں — جہاں ہر آنے والا کچھ نہ کچھ روشنی لے کر لوٹتا۔یہ آپ کی عادتِ طیبہ تھی کہ مجلس میں بیٹھے ہر فرد سے بنفسِ نفیس ملاقات فرماتے، ان کے حالات دریافت کرتے، اور پھر اپنے اسلاف کے واقعاتِ نورانی بیان فرما کرفرماتے:“میرے بزرگانِ دین کے طریقے پر سختی سے عمل کرو — یہی نجات کا راستہ ہے، یہی عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی علامت ہے۔” یوں آپ کی مجلس اصلاح و محبت کا مدرسہ بن جاتی، جہاں دلوں کو زنگ سے پاک کیا جاتا، اور روحوں کو عشق کے رنگ میں رنگا جاتا۔ حضور احسن العلماء علیہ الرحمہ کی حیات ایک ایسا گلزار ہے جس کے ہر پھول سے عطرِ عشقِ رسول ﷺ آتا ہے، اور جس کی ہر کلی میں علم و عرفان کی روشنی سمٹی ہوئی ہے۔ آپ کی شخصیت خانقاہِ برکاتیہ کی وہ بہار ہے جس نے ماضی، حال اور مستقبل — تینوں کو نور کے دھاگے میں پرو دیا۔فقیہِ اعظمِ ہند مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ سابق صدرشعبہ افتاء جامعہ اشرفیہ مبارکپور نے فرمایا
“جن حضرات کی ولایت پر میں قسم کھا سکتا ہوں، ان میں حضرت احسن العلماء قبلہ شامل ہیں۔” جبکہ حضور محدثِ کبیر مدّظلّہ العالی فرماتے ہیں: “احسن العلماء اپنے معاصرین میں منفرد بزرگ، کشف و کرامت کے حامل، علم و عمل کے مجسمہ اور اخلاص کے پیکر تھے۔ اعلیٰ حضرت سے والہانہ عقیدت رکھتے اور ہمیشہ اپنے مریدین کو انہی کے مسلک پر قائم رہنے کی تلقین فرماتے۔
تحریر: قربان قمر ہاشمی
سیتامڑھی خادمِ جامعہ گلشنِ فاطمہ للبنات، سیوان (بہار)9022183389
