Feb 7, 2026 07:41 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
نیپال کمیونسٹ پارٹی :ہم آہنگی ،مساوات اور ترقی کی جدو جہد ۔ایک فکری جائزہ

نیپال کمیونسٹ پارٹی :ہم آہنگی ،مساوات اور ترقی کی جدو جہد ۔ایک فکری جائزہ

04 Dec 2025
1 min read

نیپال کمیونسٹ پارٹی :ہم آہنگی ،مساوات اور ترقی کی جدو جہد ۔ایک فکری جائزہ

محمد علی شیر قادری نظامی

سکونت: روضہ شریف ،

مدرسہ اقبالیہ برکاتیہ مہوتری نیپال

دنیا بھر کے سیاسی نقشے بدلتے رہتے ہیں، مگر کچھ نظریات ایسے ہوتے ہیں جو محض سیاست کا حصہ نہیں رہتے بلکہ ایک عہد، ایک سمت اور ایک اجتماعی خواب کی علامت بن جاتے ہیں۔ نیپال کمیونسٹ پارٹی کی فکر و بنیاد بھی اسی روشن تصور کا تسلسل ہے—ایسا تصور جس کا سرچشمہ مساوات، انسان دوستی، فلاح عامہ اور مذہبی آزادی ہے۔نیپال کی جغرافیائی وسعت شاید محدود ہو، مگر اس کے نظریاتی افق وسیع، روشن اور زندہ ہیں—ان نظریات کی روح یہ ہے کہ ریاست کا وجود اس وقت تک معتبر نہیں جب تک اس کے سائے میں وہ کسان محفوظ نہ ہو جس نے اپنی ہتھیلیوں کو زمین کی مٹی کا رنگ دیا ہے، وہ مزدور محفوظ نہ ہو جس نے شہر کی بنیادوں کو اپنے بازوؤں کے بل پر کھڑا کیا ہے، وہ عورت اپنے مقام سے محروم نہ ہو جس کا دنیا نے اکثر فقط آنسو دیکھے ہیں، اور وہ معمر شہری بے سہارا نہ رہ جائے جس نے اپنی ساری بہاریں قوم کی خدمت میں گزار دیں۔نیپال کمیونسٹ پارٹی کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ انسان کسی مذہب، ذات یا قبیلے سے پہلے انسان ہے۔ لہٰذا اس کے حقوق بھی انسانی بنیادوں پر ہونے چاہئیں، نہ کہ امتیازی نظریات یا طبقاتی برتری کے چشمے سے۔ یہی وہ فکر ہے جس نے “سب کا ساتھ، سب کا وکاس” کا نعرہ محض جذبات کا حصہ نہیں رہنے دیا بلکہ ایک قومی دستور اور عوامی مطالبہ بنا دیا۔یہ نظریہ کہ ہر فرد مذہبی آزادی، فکری آزادی اور باعزت زندگی کا حقدار ہے—اس قوم کو اس بندھن میں پروتا ہے جہاں ایک دوسرے کا احترام ہی دراصل ریاست کی اصل طاقت بن جاتا ہے۔

نیپال کی موجودہ فلاحی پالیسیوں میں بعض ایسے اقدامات شامل ہیں جنہیں کسی بھی قوم کی ترقی کا سنگِ میل کہا جا سکتا ہے۔۱۔ سرکاری اسکولوں میں بارہویں جماعت تک مفت تعلیم یعنی یہ قدم صرف تعلیم کا دروازہ نہیں کھولتا بلکہ غربت کی زنجیروں کو توڑنے کی کنجی بھی ہے۔ وہ بچے جو کبھی کتاب اور بھوک کے درمیان پھنسے رہتے تھے، اب انہیں علم کا حق بلا امتیاز مل رہا ہے۔۲. بوڑھا پنشن: بڑھاپے کا سہارا یعنی ایک تھکا ہوا جسم، لرزتے ہاتھ، کمزور آنکھیں—جب ریاست ایسے شہریوں کا سہارا بنتی ہے، تو دراصل پوری قوم اپنے ماضی کی قدر کرتی ہے۔ یہ پنشن محض رقم نہیں، ایک پیغام ہے کہ بڑھاپا تنہائی نہیں ہوتا، ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔۳. بیوہ خواتین کے لیے مالی امداد یعنی بیوہ عورت وہ شمع ہے جو زندگی کے تیز ہوا کے جھونکوں سے سب سے پہلے بجھتی ہے۔ اسے سہارا دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، اور نیپال کمیونسٹ کے فلاحی نظام نے اس فرض کو نبھانے کی سعی کی ہے۔ یہ قدم عورت کی خودداری اور معاشرتی تحفظ کا استعارہ ہے۔٤. بچوں کی نشوونما کے لیے مالی امداد یعنی ایک بچے کی ہنسی، مستقبل کی روشنی ہوتی ہے۔ اس کے لیے غذائیت، تعلیم اور بنیادی سہولتیں مہیا کرنا نہ صرف والدین بلکہ پوری قوم کا فرض ہے۔ ریاست جب یہ ذمہ داری اٹھاتی ہے تو دراصل آنے والی نسلوں کو مضبوط کرتی ہے۔اوردیہی زندگیاں اکثر زمین اور محنت کے رشتے سے بندھی ہوتی ہیں۔ نیزموہی زمین کے سلسلے میں “محنت کرنے والے کو آدھے کا حق دینے” کی روایت ایک نہایت انصاف پسند اور انسانی اصول ہے۔یہ اصول اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ:

زمین اگر کسی کی ملکیت ہے تو اس کی زرخیزی کسی دوسرے کی محنت سے ہے۔یہ انصاف، دیہی سماجی ہم آہنگی اور غربت کے خاتمے کی وہ روشنی ہے جو نیپال جیسے معاشرے میں معاشی عدل کا بہترین نمونہ پیش کرتی ہے۔ ایسے اصول جب رائج ہوتے ہیں تو معاشرہ طبقات میں نہیں بٹتا بلکہ محنت اور حقوق کے باہم تعلق کو تسلیم کرتا ہے۔نیپال کے امن پسند معاشرتی ڈھانچے میں کبھی کبھی کچھ عناصر نفرت اور فرقہ پرستی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حال ہی میں نوجوان نسل (جین زی) کی آڑ لے کر ہندوتوا نظریات کے زیر اثر کچھ گروہوں نے ملک کی فضا کو مکدر کرنے کا جتن کیا۔ یہ رویہ نہ صرف مذہبی رواداری پر وار ہے بلکہ نیپال کی بنیادی روح کے بھی خلاف ہے۔یہاں وہ سوچ قابلِ ستائش ہے جو کہتی ہے کہ:قومیں مذہبی آزادی، انصاف اور برابری سے مضبوط ہوتی ہیں—نفرت اور تعصب سے نہیں۔

نیپال کمیونسٹ پارٹی کے فکری خدوخال میں یہ واضح ہے کہ کسی بھی مذہب، برادری یا عقیدے کے ساتھ ناانصافی اور بھید بھاؤ کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہی وہ نظریہ ہے جو نیپال کو ایک صحیح سمت میں لے جا سکتا ہے۔آج کا نیپال ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے—جہاں ایک طرف فلاحی پالیسیوں نے عام شہری کو سہارا دیا ہے، تو دوسری جانب چند عناصر نفرت، تعصب اور مذہبی تقسیم کے بیج بونے میں مصروف ہیں۔ ایسے وقت میں وہ سوچ جو مساوات، محبت، رواداری اور سب کے وکاس کی بات کرتی ہے، اس کی قدر پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔نیپال کمیونسٹ پارٹی کی فکری بنیاد ہم آہنگی، سماجی مساوات اور عوامی جدوجہد پر قائم ہے ۔پارٹی کا نظریہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ قومیں اسی وقت مضبوط ہوتی ہیں جب عوامی حقوق،جغرافیائی خود مختاری اور سیاسی شعور ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔اسی فکری جدوجہد کے تسلسل میں کے پی شرما اولی نے کالا پانی، لیپو لیکھ جیسے اہم سرحدی علاقوں پر نیپال کے تاریخی حق کی آواز بلند کی۔ یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ پارٹی کی جدوجہد صرف معاشی یا سماجی مساوات تک محدود نہیں بلکہ قومی وقار اور علاقائی شناخت کے تحفظ تک بھی پھیلی ہوئی ہے۔یوں کمیونسٹ پارٹی کا فکری رخ نہ صرف طبقاتی ہم آہنگی کا داعی ہے بلکہ جغرافیائی حق کے لیے بھی مضبوط اور اصولی موقف رکھتا ہے۔ نیپال کی ترقی کا اصل راستہ وہی ہے جس میں:مذہب آزادی ہےتعلیم مفت ہے۔بزرگ محفوظ ہیںعورت باوقار ہے۔بچہ مستقبل کا محور ہے۔کسان اپنے حصے کا حق پاتا ہے۔اور محنت کش کو عزت ملتی ہےیہی وہ نظریات ہیں جو نہ صرف تعریف کے لائق ہیں بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے روشنی کا مینار بھی۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383