پیرِ طریقت حضرت علامہ مولانا الحاج غلام عبدالقادر چشتی علیہ الرحمۃ والرضوان کا تعارف
سگ بارگاہ اشرف ۔
جمال احمد صدیقی اشرفی القادری
دارالعلوم مخدوم سمنانی شل پھاٹا ممبرا ضلع تھانے مہاراشٹرا
پیر طریقت، رہبرِ راہِ شریعت، مظہرِ شعیب الاولیاء، شہزادہ جانشینِ شعیب الاولیاء، مرشدِ کامل حضرت علامہ مولانا الحاج غلام عبدالقادر چشتی علیہ الرحمۃ والرضوان بلاشبہ اپنے عہد کی ایک عظیم روحانی، علمی اور اخلاقی شخصیت تھے۔ آپ نے اپنے وجودِ مبارک سے نہ صرف علم و عرفان کی شمع روشن کی بلکہ دلوں کو جلا بخشی، اخلاقِ حسنہ کی ترغیب دی اور دینِ متین کی خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ آپ جہاں ایک جلیل القدر عالمِ دین تھے، وہیں آپ ایک سچے صوفی، درد مند مربی اور خلقِ خدا کے لیے سراپا شفقت و رحمت تھے۔
حضرت علامہ غلام عبدالقادر چشتی علیہ الرحمۃ کا تعلق ایک ایسے خانوادۂ علم و فضل سے تھا جس کی نسبت روحانیت و ولایت کے درخشاں ستاروں سے ملتی ہے۔ آپ مرشد کامل صوفی برحق حضرت مولانا صوفی محمد صدیق صاحب قبلہ علوی قادری چشتی نوری المعروف خلیفہ صاحب علیہ الرحمۃ کے بڑے صاحبزادے تھے۔ یہ نسبت نہ صرف ظاہری طور پر باعثِ شرف تھی بلکہ باطنی فیوضات کا ایک عظیم سرچشمہ بھی تھی۔ آپ نے اپنے والدِ گرامی کے فیضِ صحبت سے ابتدائی تربیت حاصل کی، اخلاقِ حسنہ، تقویٰ، استقامت اور خدمتِ دین کا وہ ذوق پایا جو بعد ازاں آپ کے پورے علمی و روحانی سفر کا محور بنا۔
پیر طریقت حضرت علامہ غلام عبدالقادر چشتی علیہ الرحمۃ اپنی علمی وجاہت اور گہرے فہم و بصیرت کے باعث علماء اور طلبہ دونوں میں یکساں محترم تھے۔ آپ نے درس و تدریس کے ذریعے بے شمار طالب علموں کو علمِ دین کا نور عطا کیا۔ آپ کے درس میں اخلاص، حکمت اور دینی غیرت کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ سوچ میں گہرائی اور اسلوب میں کشادگی نمایاں تھی۔
آپ نے اپنے علاقے میں نہ صرف علمی محافل کو فروغ دیا بلکہ عوام الناس کی اصلاح و رہنمائی کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہے۔ آپ کے خطابات میں دین کی اصل روح، اعتدال، محبت، اخلاق اور عمل کی تلقین ہوتی۔ دین کے بنیادی اصولوں کو سادہ اور دل نشین انداز میں بیان کرنا آپ کی امتیازی شان تھی۔صوفیاء کرام کی زندگیوں کا بنیادی وصف حسنِ اخلاق ہوتا ہے، اور پیر طریقت حضرت علامہ غلام عبدالقادر چشتی علیہ الرحمۃ اس خوبی کے اعلیٰ ترین پیکر تھے۔ آپ نرم گفتار، بردبار، باوقار اور انتہائی منکسر المزاج شخصیت رکھتے تھے۔ کسی کی دل آزاری حتیٰ کہ کسی کے بارے میں بدگمانی سے بھی دور رہتے۔ آپ نے ہمیشہ محبت، رواداری، خیر خواہی اور خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر طبقے کے لوگ آپ کی شخصیت سے والہانہ محبت کرتے تھے۔
بحیثیت مرشدِ کامل آپ نے سالکینِ طریقت کی تربیت میں نہایت محنت، شفقت اور حکمت سے کام لیا۔ آپ طالبِ حق کی صلاحیت اور مزاج کے مطابق باطنی رہنمائی فرماتے۔ ذکر و اذکار کی تلقین، نفس کی اصلاح، اور اخلاص کی تربیت آپ کے تربیتی نظام کے بنیادی ستون تھے۔ آپ کی صحبت میں بیٹھنے والا خود کو ایک روحانی سکون اور قلبی اطمینان کی دنیا میں محسوس کرتا۔ آپ کی نگاہِ کرم سالکین کے دلوں میں نورِ یقین پیدا کرتی، اور انہیں دنیاوی ظاہریت سے نکال کر حقیقت کے قریب کرتی۔
حضرت علامہ غلام عبدالقادر چشتی علیہ الرحمۃ صرف خانقاہی شخصیت نہیں تھے، بلکہ قوم و ملت کے مسائل کا ادراک بھی رکھتے تھے۔ آپ نے ہمیشہ مسلمانوں میں اتحاد، اتفاق اور دین پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے کی تلقین کی۔ معاشرتی بگاڑ، چھوٹے جھگڑوں، مذہبی انتشار اور اخلاقی زوال کے بارے میں آپ کا دل بے چین رہتا۔ آپ اصلاحِ معاشرہ کے لیے حکیمانہ مشورے دیتے اور اپنے عمل سے نمونہ بنتے۔
آپ کو مظہر شعیب الاولیاء اور شہزادہ جانشین شعیب الاولیاء کا اعزاز حاصل تھا، جس کی وجہ سے آپ کی پوری شخصیت سے ولایت و روحانیت کی خوشبو آتی تھی۔ آپ نے اپنے اس منصب کی ذمہ داری کو نہایت اخلاص اور دیانت کے ساتھ نبھایا۔ سلسلہ چشتیہ کی خانقاہی روایات، صوفیانہ طرزِ فکر، اور باطنی آداب کو آپ نے نئی نسل تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
آپ کا علمی و روحانی ورثہ آج بھی اہلِ دل کے قلوب میں زندہ ہے۔ آپ کے فیضان سے فیض یافتہ افراد نے دین کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا اور آپ کی سکھائی ہوئی روشنی کو آگے پہنچایا۔ آپ کے کردار نے لوگوں کو دین کی طرف راغب کیا، محبتِ الٰہی کا ذوق عطا کیا اور رسول کریم ﷺ کی سنت پر عمل کا جذبہ پیدا کیا۔
پیر طریقت رہبر راہ شریعت علامہ مولانا غلام عبدالقادر چشتی علیہ الرحمۃ کی پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت، اتباعِ شریعت، محبتِ خلق اور خدمتِ دین سے عبارت تھی۔ آپ کا وجود اپنے وقت کے لیے رحمت اور آپ کی تعلیمات آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا مینار ہیں۔ ایسے لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں، لیکن ان کی خوشبو، ان کی تعلیمات اور ان کے نیک اعمال آنے والے زمانوں تک زندہ رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے اور آپ کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔
سگ بارگاہ اشرف ۔
جمال احمد صدیقی اشرفی القادری دارالعلوم مخدوم سمنانی شل پھاٹا ممبرا
