ایمان کا درخت: دل کی آبیاری کا روحانی سفر
محمد علی شیر قادری نظامی سکونت:روضہ شریف، مہوتری نیپال
انسانی دل کی کیفیت کو اگر کسی خوبصورت اور بامعنی مثال سے سمجھنا ہو تو وہ ایک درخت کی مثال ہے۔ ایک ایسا درخت جو بظاہر خاموش کھڑا ہوتا ہے، مگر اس کے اندر زندگی کی ایک مسلسل لہر دوڑ رہی ہوتی ہے۔ اسی طرح ایمان بھی ایک زندہ حقیقت ہے، جو دل کی زمین میں پروان چڑھتا ہے۔ مگرجس طرح کوئی درخت پانی،روشنی اور نگہداشت کے بغیر سرسبز نہیں رہ سکتا، ویسے ہی ایمان بھی ذکرِ الٰہی، نماز، تلاوتِ قرآن اور اعمالِ صالحہ کے بغیر زندہ اور توانا نہیں رہ سکتا۔اہلِ تصوف نے دل کو ایک باغ سے تعبیر کیا ہے اور ایمان کو اس باغ کا سب سے قیمتی درخت قرار دیا ہے۔ اگر اس باغ کی دیکھ بھال نہ کی جائے تو اس میں خود رو جھاڑیاں، کانٹے اور نقصان دہ بیلیں اگ آتی ہیں۔ یہی حال اس دل کا ہے جو اللہ کی یاد سے غافل ہو جائے۔ غفلت دراصل روح کی بیماری ہے، اور اس کا علاج ذکرِ الٰہی ہے۔ذکر وہ آبِ حیات ہے جو ایمان کے درخت کی جڑوں کو سیراب کرتا ہے۔ جب بندہ “اللہ، اللہ” کی صدا اپنے دل میں جگاتا ہے، تو اس کے اندر ایک نور پیدا ہوتا ہے، جو آہستہ آہستہ اس کے پورے وجود کو منور کر دیتا ہے۔ صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہ ذکر صرف زبان کا عمل نہیں بلکہ دل کی بیداری کا نام ہے۔ جب دل بیدار ہو جائے تو پھر ہر سانس ذکر بن جاتا ہے، ہر لمحہ عبادت میں ڈھل جاتا ہے۔نماز اس درخت کے لیے نورِ آفتاب کی مانند ہے۔ یہ وہ نور ہے جو نہ صرف ایمان کو جلا بخشتا ہے بلکہ بندے کو اس کے رب کے حضور کھڑا ہونے کا شعور بھی دیتا ہے۔ نماز ایک معراج ہے، ایک ایسا لمحہ ہے جہاں بندہ اپنی عاجزی اور فقر کا اقرار کرتا ہے اور ربِ کائنات کی کبریائی کے سامنے سر جھکا دیتا ہے۔ جو شخص نماز کو صرف فرض سمجھ کر ادا کرتا ہے، وہ اس کی ظاہری صورت کو پاتا ہے، مگر جو اسے محبت اور حضوری کے ساتھ ادا کرتا ہے، وہ اس کے باطنی انوار سے فیض یاب ہوتا ہے۔قرآنِ مجید اس ایمان کے درخت کی غذا ہے، بلکہ یوں کہیے کہ یہ اس کی روحانی کھاد ہے جو اسے قوت اور استقامت عطا کرتی ہے۔ قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں، بلکہ جینے کا دستور ہے۔ جب انسان قرآن کو سمجھ کر پڑھتا ہے، اس کی آیات میں غور و فکر کرتا ہے، تو اس کے دل پر پڑ06CC غفلت کی گرد چھٹنے لگتی ہے۔ تصوف کی زبان میں قرآن “کلامِ محبوب” ہے،
اور عاشق کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ وہ محبوب کے کلام میں ڈوب جائے، اس کے ہر لفظ کو اپنے دل پر نقش کر لے۔اعمالِ صالحہ اس درخت کی نگہداشت اور حفاظت ہیں۔ جس طرح ایک مالی اپنے باغ کی حفاظت کرتا ہے، ویسے ہی ایک مومن کو اپنے ایمان کی حفاظت کرنی ہوتی ہے۔ حسد، تکبر، ریا اور دنیا کی بے جا محبت وہ کیڑے ہیں جو ایمان کے درخت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ ان سے بچاؤ کے لیے اخلاص، عاجزی، صبر اور شکر جیسے اوصاف اپنانا ضروری ہے۔ جب بندہ اپنے اعمال کو اللہ کی رضا کے لیے خالص کر لیتا ہے، تو اس کا ایمان ایک مضبوط درخت بن جاتا ہے، جس کی جڑیں زمین میں گہری اور شاخیں آسمان کی طرف بلند ہوتی ہیں۔اہلِ دل فرماتے ہیں کہ ایمان کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ انسان کا دل اللہ کی طرف مائل رہے۔ اگر دل دنیا میں کھو جائے اور آخرت سے غافل ہو جائے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ ایمان کمزور ہو رہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے دل کا محاسبہ کرتا رہے، اپنے اعمال کا جائزہ لیتا رہے اور اپنے رب سے تعلق کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتا رہے۔آخرکار، یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ ایمان کوئی جامد شے نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر ہے۔ یہ ایک ایسا درخت ہے جسے ہر روز پانی دینا پڑتا ہے، ہر لمحہ روشنی کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر وقت نگہداشت درکار ہوتی ہے۔ جو شخص اس حقیقت کو پا لیتا ہے، وہ نہ صرف اپنی زندگی کو سنوار لیتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی ہدایت اور روشنی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ایمان کی حفاظت کرنے، اسے مضبوط بنانے اور اسے ایک تناور درخت کی طرح پروان چڑھانے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ ہم دنیا میں بھی کامیاب ہوں اور آخرت میں بھی سرخرو ٹھہریں۔ آمین۔
