May 9, 2026 12:05 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
نوآبادیاتی ذہنیت کو للکار بالیندرشاہ کا جرأت مندانہ قدم

نوآبادیاتی ذہنیت کو للکار بالیندرشاہ کا جرأت مندانہ قدم

07 May 2026
1 min read

نوآبادیاتی ذہنیت کو للکار بالیندرشاہ کا جرأت مندانہ قدم

راشد سيف اللہ مدینہ منورہ

سفارت کاری کی دنیا میں ایک اصول صدیوں سے قائم ہے، وزیراعظم، وزیراعظم سے ملتا ہے، وزیر خارجہ، وزیر خارجہ سے، یہ کوئی تکبر یا ہٹ دھرمی نہیں، بلکہ یہ وہ ضابطہ ہے جسے دنیا کی تمام بڑی اور باوقار حکومتیں صدیوں سے مانتی آئی ہیں، لیکن جنوبی ایشیا میں، اور بالخصوص چھوٹے ممالک میں، یہ اصول کب کا بھلا دیا گیا تھا، نیپال کے نئے وزیراعظم بالیندرا شاہ نے اس روایت کو توڑتے ہوئے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جسے نہ صرف سراہا جانا چاہیے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک سبق کے طور پر یاد رکھا جانا چاہیے۔

وہ روایت جو وقار کو کھا گئی۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے جنوبی ایشیا کے ممالک میں ایک انتہائی افسوسناک طریقہ رائج ہو گیا ہے، بڑے ممالک کا کوئی بھی درمیانے درجے کا سفارت کار آتا ہے، کوئی اسسٹنٹ سیکرٹری یا کوئی خصوصی ایلچی آتا ہے تو ان ممالک کے وزرائے اعظم اس کے استقبال کے لیے فوراً حاضر ہو جاتے ہیں، کیا یہ مہمان نوازی ہے؟ نہیں یہ خود سپردگی ہے، یہ وہ ذہنیت ہے جو نوآبادیاتی دور سے چلی آ رہی ہے، جب چھوٹے ممالک کے حکمران بڑے ملکوں کے ادنیٰ نمائندوں کے سامنے بھی دست بستہ کھڑے ہو جاتے ہیں

، خود ان ممالک کے وزرائے اعظم اسے اپنی عظمت سمجھتے ہیں جیسے امریکہ یا برطانیہ کا کوئی بھی نمائندہ مل لے تو بہت بڑی بات ہو گئی، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس رویے نے ان ممالک کے وقار کو تار تار کر دیا اور بیرونی طاقتوں کو یہ تاثر دیا کہ ان کے ساتھ کسی بھی سطح پر، کسی بھی انداز میں معاملہ کیا جاسکتا ہے۔

پچھلے وزرائے اعظم کا عمومی رویہ

2006 کے بعد سے تمام وزرائے اعظم جناب کے پی شرما اولی، جناب شیر بہادر دیوبا، جناب پشپ کمل دہال پرچنڈا مختلف ملکوں کے سفراء سے انفرادی طور پر ملتے تھے، اکثر وزارتِ خارجہ کے کسی افسر کے بغیر، نہ کوئی نوٹ لیا جاتا، نہ کوئی ریکارڈ رکھا جاتا، خارجہ پالیسی جس کے ہاتھ میں اقتدار ہو اس کی ذاتی پسند کے تابع ہو جاتی تھی، نیپال کے سابق سفیر شمبھو رام سمکھڈا نے خود کہا "پچھلی حکومتوں میں ایک قسم کی لاپروائی تھی، کوئی ذمہ دار نہیں تھا"۔ خلاصہ یہ کہ ہر آنے والا سفیر، ہر درمیانے درجے کا امریکی یا بھارتی افسر سیدھا وزیراعظم سے ملتا رہا، یہ روایت اتنی پختہ ہو گئی تھی کہ جب بالیندرا شاہ نے اسے توڑا تو 

بعض سفراء کو صدمہ ہوا۔

شاہ کا فیصلہ — اصول کی واپسی۔

وزیراعظم بالیندرا شاہ نے مارچ 2026 میں اقتدار سنبھالتے ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ صرف اپنے ہم منصبوں سے یعنی وزرائے اعظم، صدور، اور وزرائے خارجہ سے ملاقات کریں گے، اس پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے پہلے امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ سمیر پال کاپور سے ملنے سے معذرت کی، اور پھر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سرجیو گور سے بھی ملاقات نہ کی، باوجود اس کے کہ امریکی جانب سے بھرپور کوشش کی گئی۔

یہ فیصلہ کوئی بے سوچا سمجھا اقدام نہیں تھا، یہ ایک باضابطہ اعلانیہ پالیسی ہے، جسے وزیراعظم شاہ نے شروع سے ہی قائم کیا اور تمام ممالک کے سفیروں کو اپریل کے اوائل میں اجتماعی طور پر بلا کر یہ طرزِ عمل واضح کر دیا۔

پروٹوکول کمزوری نہیں،قوت ہے

کچھ لوگ یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ نیپال ایک چھوٹا ملک ہے، اسے بڑی طاقتوں سے 

تعلقات خراب کرنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے، لیکن یہی سوچ اصل مسئلہ ہے، چھوٹا ملک ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وقار بھی چھوٹا ہو، بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ جو چھوٹے

ممالک اپنا وقار نہیں بچاتے، طاقتور ممالک انہیں کبھی برابر کا شریک نہیں سمجھتے، کیا امریکہ کا وزیراعظم کبھی نیپال کے کسی درمیانے درجے کے سفارت کار سے ملتا ہے؟ کیا برطانیہ، فرانس یا جرمنی میں ایسا ہوتا ہے؟ یہ تمام ممالک سختی سے یہی پروٹوکول مانتے ہیں، پھر صرف جنوبی ایشیا کے ممالک کے لیے یہ اصول کیوں نہ ہو؟ وزیراعظم شاہ نے ایک انتہائی واضح اور درست پیغام دیا ہے نیپال اپنا احترام چاہتا ہے، اور احترام لینے کے لیے پہلے خود کو قابلِ احترام ثابت کرنا پڑتا ہے۔

وقار کی بحالی — 

ایک ضروری اور جرأتمندانہ عملجو وقار برسوں میں کھویا جاتا ہے، اسے بحال کرنا آسان نہیں ہوتا، اس کے لیے اصول پر قائم رہنے کا حوصلہ چاہیے اور قلیل مدتی تکلیف برداشت کرنے کی صلاحیت چاہیے،

وزیراعظم شاہ نے یہ سب دکھایا ہے، اندرونی آوازیں بھی اٹھیں کہ بڑے ممالک سے تعلقات کا خیال رکھا جائے، لیکن 

تعلقات کا خیال رکھنا اور اپنا وقار گنوانا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں، دنیا کا سب سے کامیاب سفارتی طریقہ وہی ہے جس میں برابری کی بنیاد پر بات ہو، نہ جھکتے ہوئے، نہ غرور سے، بلکہ اعتماد اور وقار کے ساتھ۔

خلاصہ

نیپال کے وزیراعظم بالیندرا شاہ کا یہ فیصلہ تاریخی ہے، انہوں نے ایک ایسی روایت کو چیلنج کیا جو دراصل نوآبادیاتی دور کی میراث تھی، انہوں نے ثابت کیا کہ پروٹوکول محض ایک رسمی ضابطہ نہیں، یہ قومی وقار کا آئینہ ہے، جو ممالک اپنے آپ کو باوقار سمجھتے ہیں وہ یہی کرتے ہیں، اپنے ہم پلہ سے ملتے ہیں، اور باقی کام وزراء اور سفارت کار انجام دیتے ہیں، آج نیپال نے یہی کیا ہے، اور یہ فیصلہ پورے خطے کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ چھوٹا ملک بھی بڑے وقار کے ساتھ سر اٹھا کر کھڑا ہو سکتا ہے۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)