May 9, 2026 12:06 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
حجِ بیت اللہ، زیارتِ حرمین شریفین اور حقوقُ العباد کی اہمیت

حجِ بیت اللہ، زیارتِ حرمین شریفین اور حقوقُ العباد کی اہمیت

07 May 2026
1 min read

حجِ بیت اللہ، زیارتِ حرمین شریفین اور حقوقُ العباد کی اہمیت

نوشاد احمد قادری میڈیا انچارج علماء فاونڈیشن نیپال ضلع کپلوستو

اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک عظیم رکن حج ہے۔ یہ صرف ایک عبادت نہیں بلکہ بندۂ مؤمن کی روحانی معراج، عشقِ الٰہی کا عملی اظہار اور حرمین شریفین کی حاضری کی عظیم سعادت ہے۔ خانۂ کعبہ کی زیارت اور روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری ہر عاشقِ رسول کی قلبی تمنا ہوتی ہے۔ مگر شریعتِ مطہرہ نے حج کے لیے کچھ شرائط مقرر فرمائی ہیں، جن میں سب سے اہم “استطاعت” یعنی قدرت و وسعت ہے۔ اسی طرح اسلام نے حقوقُ العباد اور قرض کی ادائیگی کو بھی نہایت اہم قرار دیا ہے۔ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جو قرآن و سنت اور اکابرِ اہلِ سنت کی تعلیمات کا حسین مجموعہ ہے، اس مسئلہ میں اعتدال اور شریعت کی اصل روح کو واضح کرتا ہے کہ جہاں صاحبِ استطاعت پر حج فرض ہے، وہیں حقوقُ العباد پامال کرکے یا قرض و ناانصافی کے ساتھ حج کرنا باعثِ مواخذہ بھی ہوسکتا ہے۔

حج کی فرضیت اور اس کی اہمیت

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو اس آیتِ کریمہ سے واضح ہوا کہ حج ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو مالی، جسمانی اور راستے کے اعتبار سے استطاعت رکھتا ہو۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو حج تک پہنچنے کی طاقت ہو اور پھر بھی وہ حج نہ کرے، تو اسے اس بات کی پروا نہیں کہ وہ یہودی مرے یا نصرانی۔

یہ وعید اس شخص کے لیے ہے جو قدرت رکھنے کے باوجود سستی، دنیا داری یا غفلت کی وجہ سے حج کو مؤخر کرتا رہے۔

مسلکِ اعلیٰ حضرت میں بھی یہی تعلیم دی گئی ہے کہ جب حج فرض ہوجائے تو بلا عذر اس میں تاخیر کرنا سخت خطرناک اور گناہ ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے واضح فرمایا کہ صاحبِ استطاعت پر فوراً حج ادا کرنا ضروری ہے، اور بلا وجہ تاخیر معصیت ہے۔

زیارتِ حرمین شریفین کی سعادت

حرمِ مکہ اور حرمِ مدینہ وہ مقدس مقامات ہیں جہاں کی حاضری مؤمن کے ایمان کو تازگی عطا کرتی ہے۔ خانۂ کعبہ کو دیکھنا عبادت ہے اور روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری اہلِ ایمان کی عظیم سعادت۔

محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کا حصہ ہے، اسی لیے عاشقانِ رسول مدینۂ منورہ کی حاضری کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ مسلکِ اعلیٰ حضرت کی پوری بنیاد ہی عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ادبِ بارگاہِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر قائم ہے۔ اسی لیے اہلِ سنت ہمیشہ یہ تعلیم دیتے ہیں کہ حج کے ساتھ مدینۂ طیبہ کی حاضری، بارگاہِ رسالت میں سلام پیش کرنا، اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب و محبت کے ساتھ حاضر ہونا ایمان کی روح ہے۔اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے مدینۂ منورہ کے ادب پر بے شمار اشعار اور فتاویٰ تحریر فرمائے۔ آپ فرماتے ہیں کہ

جس دل میں مدینہ کی محبت نہیں، وہ دل ویران ہے۔ استطاعت کے باوجود حج نہ کرنا

اگر کسی شخص کے پاس اتنا مال موجود ہو کہ وہ حج کرسکتا ہے، اس کے اہل و عیال بھی محفوظ رہیں، راستہ بھی پرامن ہو، اور جسمانی طاقت بھی موجود ہو، پھر بھی وہ صرف دنیاوی مشغولیات، کاروبار یا غفلت کی وجہ سے حج نہ کرے تو وہ سخت گناہگار ہے۔

آج بہت سے لوگ لاکھوں روپے دنیاوی آسائشوں، شادیوں، گاڑیوں اور فضول خرچیوں پر خرچ کردیتے ہیں، مگر حج کی باری آتی ہے تو بہانے تلاش کرتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل مؤمن کی شان کے خلاف ہے۔ حج زندگی کا ایسا فریضہ ہے جس کی ادائیگی میں تاخیر انسان کو نہ معلوم کس انجام تک پہنچا دے۔ کتنے لوگ نیت کرتے رہ جاتے ہیں مگر موت مہلت نہیں دیتی۔ اس لیے جب اللہ تعالیٰ استطاعت عطا فرمائے تو فوراً اس سعادت کی طرف قدم بڑھانا چاہیے۔

قرض اور حقوقُ العباد کے ساتھ حج کا مسئلہ

اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ بندوں کے حقوق کی حفاظت بھی دین کا اہم حصہ ہے۔ اگر کسی شخص پر قرض ہو، لوگوں کا مال دبایا ہوا ہو، مزدوروں کی اجرت باقی ہو، یتیموں یا ورثاء کا حق کھایا ہو، یا کاروباری لین دین میں خیانت کی ہو، تو ایسی حالت میں حج کے لیے جانا قابلِ غور ہے۔ شریعت کا اصول یہ ہے کہ

پہلے واجب حقوق ادا کیے جائیں۔ قرض خواہ کا حق واپس کیا جائے۔ ظلم اور حق تلفی سے توبہ کی جائے۔ پھر حج کی ادائیگی کی جائے۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے حق کو تو معاف فرما سکتا ہے، مگر بندوں کے حقوق بغیر معافی کے معاف نہیں ہوتے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور حج لے کر آئے گا، مگر اس نے کسی کا حق مارا ہوگا، کسی پر ظلم کیا ہوگا، کسی کو گالی دی ہوگی، تو اس کی نیکیاں لوگوں میں تقسیم کردی جائیں گی۔

یہ کتنی خوفناک بات ہے کہ انسان حج جیسی عظیم عبادت کرے مگر حقوقُ العباد کی پامالی کی وجہ سے اس کی نیکیاں دوسروں کو دے دی جائیں۔

قرض لے کر حج کرنااگر کوئی شخص اس طرح قرض لے کہ بعد میں آسانی سے ادا کرسکتا ہو اور قرض خواہ بھی راضی ہو، تو بعض صورتوں میں حج جائز ہوسکتا ہے۔ مگر محض لوگوں کو دکھانے، حاجی” کہلانے یا معاشرتی رتبہ حاصل کرنے کے لیے قرضوں کا بوجھ اٹھانا مناسب نہیں۔ اسی طرح اگر کسی کے ذمہ پہلے ہی بھاری قرض ہو اور قرض ادا کرنے کی قدرت نہ ہو، تو ایسی حالت میں اس پر حج فرض ہی نہیں ہوتا، بلکہ پہلے قرض کی ادائیگی ضروری ہے۔

مسلکِ اعلیٰ حضرت کی تعلیم یہی ہے کہ عبادت کے ساتھ معاملات کی درستگی بھی لازم ہے۔ صرف ظاہری عبادت کافی نہیں بلکہ حلال کمائی، پاکیزہ مال، اور حقوق کی ادائیگی کے ساتھ عبادت قبولیت کے قریب ہوتی ہے۔

حج کی قبولیت کا اصل راز

حج کی قبولیت صرف سفر کرنے یا لقبِ حاجی” حاصل کرنے میں نہیں بلکہ

اخلاص،تقویٰ،حلال روزی،حقوقُ العباد کی ادائیگی،عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ،اور عاجزی و انکساری،میں پوشیدہ ہے۔

جو شخص حرمین شریفین سے واپس آکر بھی ظلم، دھوکہ، سود، جھوٹ اور حق تلفی نہ چھوڑے، اسے اپنے حج کا محاسبہ ضرور کرنا چاہیے۔

حج اسلام کا عظیم فریضہ اور مؤمن کی روحانی معراج ہے۔ صاحبِ استطاعت پر فرض ہے کہ وہ اس سعادت کو بلا تاخیر ادا کرے۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ انسان قرض، حق تلفی اور ظلم سے اپنے دامن کو پاک کرے۔

حرمین شریفین کی حاضری صرف جسمانی سفر نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی، سچی توبہ اور حقوق کی ادائیگی کا نام ہے۔

از قلم 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)