کیا مدارس کو اب قومی تعلیمی نظام کے تحت لایا جائے گا؟
ڈاکٹر سلیم انصاری، جھاپا نیپال
حالیہ دنوں میں مسلم کمیشن نیپال کی جانب سے مدارس کے حوالے سے جو معلومات طلب کی گئی تھیں، اب بڑی تعداد میں مدارس نے وہ معلومات اور ڈیٹا جمع کرا دیا ہے۔ یہ ایک اہم مرحلہ ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت اب مدرسہ سیکٹر کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت مدارس کے موجودہ نظام، ان کے انتظام، تعداد، طلبہ، اساتذہ اور قانونی حیثیت کو سمجھنے کے بعد آئندہ دنوں میں کچھ قواعد و ضوابط اور گائیڈ لائنز متعارف کروا سکتی ہے۔
فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ حکومت کس نوعیت کی گائیڈ لائنز جاری کرے گی اور ان کا مدارس کے موجودہ نظام پر کیا اثر پڑے گا۔ وقت ہی بتائے گا کہ یہ پالیسیاں کس حد تک سخت یا نرم ہوں گی، اور مدارس کے نظام میں کس نوعیت کی تبدیلیاں آئیں گی۔ لیکن اتنا ضرور واضح ہے کہ حکومت اس وقت مدارس کے شعبے کو ایک منظم شکل دینا چاہتی ہے۔ اندازوں کے مطابق نیپال میں تقریباً ڈھائی ہزار مدارس موجود ہیں، جن میں سے تقریباً نصف رجسٹرڈ ہیں جبکہ باقی مدارس غیر رجسٹرڈ ہیں۔ اس غیر منظم صورتحال کی وجہ سے حکومت بھی ایک واضح تعلیمی اور انتظامی خاکہ تیار کرنا چاہتی ہے۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ مدارس نیپال کے مسلمانوں کی دینی، تعلیمی اور سماجی زندگی کا ایک اہم حصہ رہے ہیں۔ کئی دہائیوں سے مدارس نے قرآن، حدیث، فقہ، عربی زبان اور اسلامی تعلیمات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں مدارس نے ایسی خدمات انجام دی ہیں جہاں دیگر تعلیمی سہولیات بہت کم تھیں۔ ہزاروں طلبہ نے انہی اداروں سے بنیادی دینی تعلیم حاصل کی اور معاشرے میں دین اور اخلاق کی خدمت انجام دی۔ اس لیے مدارس کے حوالے سے کوئی بھی پالیسی بناتے وقت زمینی حقائق، مسلمانوں کی دینی ضروریاتاور مدارس کی تاریخی خدمات کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مدارس کا نظام کئی مسائل کا شکار بھی رہا ہے۔ تعلیمی معیار میں فرق، وسائل کی کمی، انتظامی کمزوریاں، غیر منظم پھیلاؤ، رجسٹریشن کے مسائل، مالی شفافیت کا فقدان اور داخلی اختلافات جیسے مسائل طویل عرصے سے موجود ہیں۔ بعض علاقوں میں ایک ہی بستی یا محلے میں کئی مدارس قائم ہیں، مگر نہ وہاں طلبہ کی مناسب تعداد ہوتی ہے اور نہ ہی معیاری اساتذہ دستیاب ہوتے ہیں۔ اس صورتحال سے وسائل تقسیم ہو جاتے ہیں اور تعلیمی معیار متاثر ہوتا ہے۔
اسی طرح بہت سے مدارس قانونی طور پر رجسٹرڈ نہیں ہیں، جس کی وجہ سے آئندہ دنوں میں انہیں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ حکومت کی نظر میں جب کوئی شعبہ غیر منظم ہو تو اس کے لیے پالیسی سازی مشکل ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم کمیشن نے مدارس سے معلومات طلب کیں تاکہ ایک واضح تصویر سامنے آ سکے اور مستقبل کے لیے کوئی پالیسی بنائی جا سکے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ حکومت مدارس کے لیے رجسٹریشن، نصاب، طلبہ کے ریکارڈ، اساتذہ کی اہلیت، مالی حسابات، عمارتوں کے معیار اور عصری تعلیم کے حوالے سے کچھ رہنما اصول جاری کرے۔ بعض لوگ اس حوالے سے خدشات رکھتے ہیں، جبکہ بعض حلقے اسے اصلاح اور بہتری کا موقع سمجھتے ہیں۔ لیکن موجودہ وقت میں سب سے زیادہ ضرورت جذباتی ردعمل کے بجائے سنجیدہ غور و فکر اور حکمت عملی کی ہے۔
مسلمانوں کو اس مرحلے کو صرف ایک حکومتی کارروائی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اسے ایک ایسے موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے جہاں مسلمان خود بھی مدارس کے مستقبل کے حوالے سے اپنی رائے اور تجاویز پیش کر سکتے ہیں۔ اگر مسلمان خاموش رہیں گے اور صرف یہ انتظار کریں گے کہ حکومت کیا فیصلہ کرتیہے، تو پھر ممکن ہے کہ بہت سے اہم زمینی حقائق پالیسی سازی میں شامل نہ ہو سکیں۔
اسی لیے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم تنظیمیں، مدارس بورڈز، علماء، دانشور، سماجی کارکن اور سماجی لیڈران مل بیٹھ کر سنجیدگی سے غور کریں۔ انہیں یہ طے کرنا چاہیے کہ مدارس کے مستقبل کے لیے کون سی تجاویز زیادہ مناسب اور قابلِ عمل ہو سکتی ہیں۔ ان تجاویز کو صرف زبانی باتوں یا سوشل میڈیا تک محدود رکھنے کے بجائے ایک تحریری شکل دی جائے اور مسلم کمیشن اور وزارتِ تعلیم تک پہنچایا جائے۔
اگر مسلمان اپنی سنجیدہ، متوازن اور قابلِ عمل تجاویز حکومت تک پہنچائے گی تو حکومت کو مدارس کے نظام کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اور اگر حکومت ان تجاویز کو مناسب سمجھے گی تو ممکن ہے کہ ان
میں سے بعض نکات آئندہ گائیڈ لائنز کا حصہ بھی بن جائیں۔ یہی ایک دانشمندانہ اور تعمیری راستہ ہے۔
مثال کے طور پر مسلمان یہ تجویز دے سکتے ہیں کہ مدارس کی دینی خودمختاری اور شناخت کو برقرار رکھا جائے۔ اسی کے ساتھ عصری تعلیم کے بنیادی مضامین کو مناسب حد تک شامل کیا جائے تاکہ مدارس کے طلبہ مستقبل میں قومی سطح پر بھی بہتر کردار ادا کر سکیں۔ اسی طرح رجسٹریشن کے عمل کو آسان، شفاف اور زمینی
حقائق کے مطابق بنانے کی تجویز دی جا سکتی ہے۔
مسلم قیادت اس بات پر بھی زور دے سکتی ہے کہ چھوٹے مکاتب اور بڑے مدارس کے درمیان فرق کو سمجھا جائے۔ ہر مکتب کو مدرسہ قرار دے کر اس پر یکساں اصول لاگو کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ مکاتب بنیادی دینی تعلیم کا اہم ذریعہ ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی آبادی کم ہے۔ اس لیے مکاتب کے نظام کو کمزور کرنے کے بجائے اسے مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح مدارس کے اندر بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ صرف حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ مدارس کو اپنے نظم و نسق، تعلیمی معیار، اساتذہ کی تربیت، طلبہ کی نگرانی اور مالی شفافیت پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ جہاں ممکن ہو، چھوٹے اور کمزور مدارس کو ضم کر کے مضبوط اور معیاری ادارے قائم کیے جائیں تاکہ وسائل کا بہتر استعمال ہو سکے۔
یہ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے کہ مدارس کو غیر ضروری سیاست اور گروہ بندی سے دور رکھا جائے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات مدارس ذاتی اختلافات یا مسلکی بنیادوں پر قائم کیے جاتے ہیں، جس سے
اجتماعی نقصان ہوتا ہے۔ اگر ہم واقعی مدارس کے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر اجتماعی مفاد کے بارے میں سوچنا ہوگا۔
آج مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا ہم مستقبل کے چیلنجز کا سامنا اتحاد، حکمت اور سنجیدگی کے ساتھ کریں گے یا پھر اختلافات اور جذباتی نعروں میں الجھے رہیں گے۔ اگر ہم نے بروقت سنجیدہ قدم نہ اٹھایا تو ممکن ہے کہ فیصلے ہمارے بغیر ہی ہو جائیں۔
لیکن اگر مسلمان متحد ہو کر اپنی تجاویز، خدشات اور سفارشات حکومت کے سامنے پیش کریں گے تو یقیناً بہتر نتائج سامنے آ سکتےہیں۔
یہ وقت تمام مسلم تنظیموں، مدارس بورڈز، علماء، ائمہ، دانشوروں اور کمیونٹی رہنماؤں کے لیے مل بیٹھنے کا ہے۔ انہیں مدارس کے مستقبل کے حوالے سے ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔ اس لائحہ عمل میں مدارس کی دینی شناخت، رجسٹریشن، عصری تعلیم، نصاب، مالی شفافیت، مکاتب کے نظام اور تعلیمی معیار کے حوالے سے واضح تجاویز شامل ہونی چاہئیں۔ پھر ان تجاویز کو باقاعدہ تحریری شکل میں مسلم کمیشن اور وزارتِ تعلیم کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔
