Feb 7, 2026 06:09 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
بہار میں اردو

بہار میں اردو

27 Nov 2025
1 min read

بہار میں اردو 

شان پریہار پروفیسر محمد گوہر صدیقی سابق ضلع پارشد براہی بلاک پریہار ضلع سیتامڑھی  بہار

      اردو زبان و ادب کی ترقی میں بہار کو نمایاں مقام حاصل رہا ہے- اج بھی اردو زبان اس علاقے میں فروغ پا رہی ہے اور پہلے بھی یہاں اردو کو اہمیت حاصل رہی ہے- پروفیسر سید حسن عسکری نے حضرت شرف الدین یحییٰ منیری رحمت اللہ علیہ کے ایک قلمی نسخے کا تعارف کرایا ہے یا911ہجری بمطابق 1515 عیسوی میں لکھا گیا اس کی نقل منیر شریف کی درگاہ میں موجود ہے- بہت ممکن ہے کہ اردو زبان کی سب سے پرانی تحریر یہی ہو-

           سید عماد الدین عماد نے ایک نثری رسالہ سیدھا راستہ 1081 ہجری مطابق 1670 عیسوی میں تصنیف کیا-جسے قاضی عبدالودود نے شائع کیا ہے اس طرح یہ رسالہ شمالی کی اردو نثر کا سب سے پہلا نمونہ قرار پاتا ہے -

      شاعری میں بھی یہی صورت ہے بعض ایسے شاعروں کے نام بھی ملتے ہیں جو محمد شاہ بادشاہ کے جلوس سے پہلے سے اردو میں شاعری کر رہے تھے ان میں سید عماد الدین  عماد اور بی بی ولیہ کے نام قابل ذکر ہیں -عہد محمد شاہ بادشاہ کے شعراء  میں ملا محمد علیم تحقیق عظیم ابادی کا نام اہم ہے یہ مرزا موسوی خان معز اور فطرت کے شاگرد تھے-  عظیم اباد میں 1659 عیسوی میں پیدا ہوئے اور وہیں 1749 عیسوی میں وفات پائی - کلام کے رنگ کا اندازہ ان کے اس شعر سے ہوگا 

    سرجن تیرے مکھرے میں سورج کی کرن دھا ہے -

دیکھا ہوں جو تجھ کو مکھ ننیاں میرے چندھا ہے -

     یہاں ایک اور شاعر کا ذکر ضروری ہے میر محمد باقرحزیں و ظہور تھے جو مرزا جان جانا مظہر کے شاگرد تھے یہ احمد شاہ بادشاہ کے زمانے میں دلی سے یورپ گئے اور وہاں اپنے استاد کے رنگ و سخن کو عام کیا ان کے شاگردوں نے بھی خاصہ نام پیدا کیا ان میں سے ایک شورش بھی تھے جنہوں نے شعرائے اردو کو تذکرہ لکھا -

    فقیہ صاحب درد مند نے بھی کچھ عرصے عظیم اباد میں قیام کیا تھا یہ بھی مرزا مظہر کے شاگرد تھے ان کا ساقی نامہ قدیم اردو شاعری میں اہمیت رکھتا ہے -اردو شاعری کے دبستانوں میں عظیم اباد کو بھی بہت اہمیت حاصل رہی ہے شاہ عالم ثانی کے زمانے میں اس کی اہمیت مسلم ہو چکی تھی اور بعض دیگر

مقامات کی طرح اسے بھی اردو شاعروں کی پناہ گاہ کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی اس زمانے میں اردو کے جو شاعر یہاں داد سخن دے رہے تھے ان میں موزوں کا نام سر فہرست ہے- موزوں کا نام رام نارائن تھا  کشن پور کے رہنے والے تھے عمر کے اخری حصے میں بہار کے نائب ناظم تھے اس لیے راجہ کہلاتے تھے اردو فارسی دونوں زبانوں میں شاعری کرتے تھے  ان کےاردو کلام سے نمونہ پیش کیا جاتا تھا 

  دوسرا جوہری وہ مذاقی شاہ آیت اللہ کے نام سے مشہور تھے لیکن نام غلام سرور تھا شاہ محمد مخدوم کے بیٹے تھے 1714 عیسوی پھلواری شریف میں پیدا ہوئے غزل قصیدہ مرتیہ، مثنوی ،و جملہ اصناف سخن میں طبع ازمائی کی ان کا ایک شعر نمونہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے 

    اہل حرم کے مقتل اوپر جس دم ہائے سواری ائی لاش کے پاس آیی بی بی رونے غم کی ماری ائی –

تیسرا،،،،،     ایک نام حسرت کا جن کا پورا نام میر محمد حیات اور لقب ہیبت علی خان تھا یہ مرزا مظہر یا باقر حزیں کے شاگرد تھے بہرحال اس سلسلے میں اختلاف ہے بہت پرگو شاعر تھے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک ضخیم دیوان مرتب کیا تھا جس میں تقریبا دو ہزار اشعار تھے نمونہ کلام ملاحظہ ہو -

   رات کا سچ ہوا خواب مرا 

مل گیا صبح افتاب مرا لاکھ کوئی اس کو مبتلا ہوگا

محرر کا مختصر تعارف

پروفیسر گوہر صدیقی صاحب ہندوستان کے صوبہ بہار ضلع سیتا مڑھی کی نہایت ہی متحرک و فعال شخصیت ہے آپ اردو ادب کے حوالے سے علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ، پورے ہندوستان کے اخبارات پروفیسر صاحب کے مضامین سے مزین ہوتے رہے ہیں  ، آپ نہایت ہی مخلص اور ملنساری کے ساتھ ساتھ ایک منجھے ہوئے لکھاری ہیں حالات حاضرہ اور  شخصیات پر خامہ فرسائی فرماتے ہیں ۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383