وزیر اعظم کار کی کے بیان سے مسلم کمیونٹی کے جذبات ہوئے مجروح صدر پوڈیل سے فوری مداخلت کی درخواست
نمائندہ نیپال اردوٹائمز احمدرضاابن عبدالقادراویسی
مدھیش کبھی کبھی اعلیٰ تعلیمات یافتہ شخصیات و اعلی عہدوں پر متمکن عہدے داران بھی غیر ذمے دارانہ بیان دے دیا کرتے ہیں یہی کچھ گذشتہ دنوں نیپالی وزیر اعظم محترمہ سشیلہ کار کی کے بیان سے مسلم کمیونٹی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں صدر نیپال سے فوری مداخلت کی درخواست کی گئی ہے۔میمورنڈم میں واضح کیا گیا کہ دنیا کے کسی بھی ملک یا معاشرے میں مسلم بچیوں یا خواتین کو زندہ دفنانے کی کوئی روایت موجود نہیں اور اسلام نے زمانہ جاہلیت کی اس غیر نے انسانی رسم کو مکمل طور پر ختم کیا۔ اسلام خواتین کو عزت ، تحفظ علیم اور سماجی وقار دیا اور انہیں ان کے معیار کے مطابق برابر کے حقوق فراہم کیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم اپنے بیان پراعلانیہ معذرت کریں،الفاظ واپس لیں اور سماجی ہم آہنگی کے تقاضوں کا احترام کریں۔وزیر اعظم کے غیر ذمہ دارانہ اور تعصب پر مبنی ریمارکس نے مسلم کمیونٹی کے جذبات کو شدید طور پر مجروح کیا ہے اور یہ قومی وحدت ، سماجی ہم آہنگی اور مذہبی احترام کے ماحول کےلیے نقصاندہ ہیں میمورنڈم میں درج اہم مطالبات درج ذیل ہیں (1)وزیراعظم مسلم کمیونٹی اور مسلم خواتین کے جذبات کو پہنچنے والی تکلیف پر سر عام معافی مانگیں۔ 2. وزیر اعظم کا بیان با ضابطہ طور پر واپس لیا جائے۔3. اعلیٰ حکومتی و آئینی عہدوں پر موجود شخصیات بیان جاری کرتے وقت آئینی اصول ، سماجی ہم آہنگی اور مذہبی احترام کا خیال رکھیں۔حکومت 4. ملک میں بین المذاہب ہم آہنگی ہما جی برداشت اور قومی اتحاد کے تحفظ کے لیے مت واضح اور عملی عزم کا اظہار کرے۔انہوں نے واضح کیا کہ نیپالی مسلم کمیونٹی پر امن، قانون کی پاسدار اور قومی یکجہتی و سما جی بھائی چارے کی حامی ہے۔ ایسے بیانات جو انتشار، نفرت یا تقسیم پیدا کریں، ملک کی مشترکہ شناخت کے خلاف ہیں
