Feb 7, 2026 10:50 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
محی السنہ کانفرنس اختتام پذیر

محی السنہ کانفرنس اختتام پذیر

04 Dec 2025
1 min read

محی السنہ کانفرنس اختتام پذیر

دھنوشا۔ یکم دسمبر2025، مطابق 15 گتے منسیر 2082 بروز پیر سرزمین کولہوا، تلسیاہی، دھنوشا پر ایک عظیم الشان کانفرنس "محی السنہ کانفرنس" منعقد ہوا۔

جس کی پرستی حضور قاضی نیپال مفتی اعظم نیپال حضرت علامہ مفتی محمد عثمان برکاتی مصباحی دامت برکاتہم العالیہ نے فرمائی۔

خلیفۂ حضور، قاضیٔ نیپال حضرت صوفی امام الدین نظامی صاحب کی دعوت پر *محیی النساء کانفرنس* اور *ردائے فاطمہ کانفرنس* میں شرکت کا موقع ملا۔

فقیرِ قادری کو وہاں جانے کا پہلی بار موقع ملا۔ بہت دنوں سے سنتا آرہا تھا کہ سرزمینِ کولہوا میں ایک عظیم الشان بنات (طالبات کا ادارہ) چل رہا ہے، جس میں دینی و عصری دونوں تعلیمات بہت اچھے انداز میں دی جاتی ہیں۔

جب وہاں پہنچا تو الحمدللہ وہاں کی بنات کا نظام دیکھا، تعلیم و تربیت دیکھنے کو ملی اور سب سے بہتر یہ لگا کہ بہت عمدہ تعمیراتی کام کیا گیا ہے، اور پردے کا ایسا اہتمام بہت ہی کم بنات میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

بعد میں معلوم ہوا کہ خواتین کا بھی دینی جلسہ رکھا گیا ہے اور کچھ بچیوں کی دستار بندی بھی ہے۔

بنات کے بانی سے جب ملاقات کی اور بنات کے حالات و احوال پوچھے، پھر کچھ گاؤں کے لوگوں سے بات چیت کا موقع ملا، بچیوں کے سرپرستوں سے ملاقات ہوئی۔ سب سے مدرسے کے حالات پوچھے تو سب نے بہت عمدہ تأثر پیش کیا۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ الحمدللہ یہاں تعلیم و تربیت میں کوئی سمجھوتہ نہیں

ہوتا۔ بہترین سے بہترین تعلیم دی جاتی ہے۔

اس بنات کے بانی حضرت مولانا صوفی امام الدین صاحب** نے بہت ہی محنت و مشقت کے ساتھ، ہر طرح کی مخالفت برداشت کرکے یہ تعمیراتی و تعلیمی کام کیا ہے۔

الحمدللہ فقیرِ قادری نے خود بھی ملاحظہ کیا کہ وہاں جلسہ بھی بہت اچھے انداز میں منایا گیا اور بہت کامیاب رہا۔ جلسہ میں تقریباً *50 سے زائد علماء و فضلاء، مفتیانِ کرام* نے شرکت کی اور سیکڑوں کی تعداد میں عوام بھی شریک ہوئی۔

سبھی علماء کرام نے عمدہ بیان فرمائے، نعت و منقبت بھی ہوئی۔خصوصیت کے ساتھ سرپرست جلسہ مناظرِ اسلام، قاضیٔ نیپال حضرت علامہ مفتی عثمان برکاتی صاحب نے اپنے بیان میں لوگوں کو پیغام دیا کہ آپس میں لڑو نہیں، ہر مسلمان بھائی بھائی ہے۔ کسی شخصیت کو نہ دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ جو مسلکِ اعلیٰ حضرت والے ہیں وہ ہمارے ہیں۔

وہیں ہندوستان سے آئے ہوئے خطیب *شہزادۂ ابوالحقانی علامہ تحسین رضا مصباحی صاحب* نے اپنے تقریر میں فرمایا کہ دین کا کام خالص رضائے الٰہی کے لئے کیا جائے تو ان شاء اللہ کامیابی ضرور ملے گی۔ جو لوگ رضائے الٰہی کے لئے تعلیم و تربیت دیتے ہیں، جتنی بھی لوگ ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں، ان کا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، کیونکہ اللہ انہیں بلند مقام عطا کر دیتا ہے۔

وہیں دوسرے خطیب *علامہ مفتی فیروز القادری مصباحی، بانی جامعہ نوویہ رامپور* نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ مسلمان اپنی ایک منزل بنا لو اور اس پر حکمِ الٰہی اور سنتِ مصطفیٰ کے راستے پر چلو، تو سامنے کتنی بھی تعداد ہو اس سے فرق نہیں پڑتا، کامیابی دینے والی اللہ کی ذات ہے۔

اسی طرح بہت سے علماء کرام، شورائے اعزام نے بہت قیمتی باتیں بیان فرمائیں۔

شرکت کرنے والے علماء کی فہرست کچھ یوں ہے: قاضیٔ نیپال مفتی عثمان برکاتی، خلیفۂ محققِ مسائلِ جدیدہ مفتیفیروز القادری، شہزادۂ ابوالحقانی علامہ تحسین مصباحی، بنات کے بانی و جلسے کے صدر حضرت صوفی امام الدین صاحب، قیادت کرنے والے حضرت مولانا تسلیم اختر، مفتی تبارک صاحب، مولانا سلامَت ساہن، مولانا عبدالمصطفیٰ امجدی، مولانا عبد الرحمان، مولانا نیاز صاحب، قاری امروَز صاحب، قاری امیر حمزہ صاحب، مولانا صدام صاحب، مولانا جابر اختر سراجی صاحب، مولانا قیصر ویسالوی صاحب، قاری چمن رضا غزالی، قاری مبارک، قاری حسنین، مولانا نشاط اختر، مولانا زبیر، مولانا ممتاز، مولانا اشرف رضا، مولانا عبدالمصطفیٰ، مولانا شاہد امجدی، مولانا فیضان رضا، مولانا اسرائیل صاحب**۔ان کے علاوہ اور بھی بہت سے علماء کرام کی آمد ہوئی تھی جن سب کے نام سے واقف نہیں ہوں۔الحمدللہ ایسے ایسے جلسوں اور مدارسِ اسلامیہ و بنات کو دیکھ کر طبیعت خوش ہو جاتی ہے کہ ہمارے علاقے میں اتنی عمدہ تعلیم و تربیت دی جاتی ہے۔

*سیف علی خان قادری نیپالی

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383