Feb 7, 2026 11:06 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
مجدد برکاتیت، حیات و خدمات

مجدد برکاتیت، حیات و خدمات

13 Nov 2025
1 min read

 مجدد برکاتیت، حیات و خدمات

محمد صادق الاسلام متعلم: جماعت، رابعہ دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، اترپردیش،یوپی

 اللہ عزوجل نےہر دور میں اپنی مخلوق کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ایسے نفوسِ قدسیہ پیدا فرمائے جو علم و عرفان، تقویٰ و طہارت، اخلاص کا پیکر ہوتے ہیں۔ انہی شریعت و طریقت میں ایک نام مجددِ برکاتیت، سید شاہ ابو القاسم اسمعیل حسن برکاتی کا ہے، جنہوں نے عصرِ حاضر کی فکری، روحانی اور اخلاقی گمراہیوں میں شمعِ ہدایت بن کر امت کی رہنمائی فرمائیں۔

 *نام و نسب:* نام: حضرت شاہ اسمعیل حسن، کنیت: ابوالقاسم ، لقب: مارہرہ مطہرہ کی نسبت سے، مارہروی، کہلاتے ہیں ولادت: آپ کی ولادتِ باسعادت 3 محرم الحرام 1272ھ مطابق ستمبر 1855ء کو مارہرہ میں ہوئی۔

 سلسلۂ نسب: اس طرح ہے: سید ابوالقاسم محمد اسمعیل حسن شاہ جی میاں بن سید شاہ محمد صادق بن سید شاہ اولاد رسول احمدی بن سید شاہ آلِ برکات ستھرے میاں بن سید شاہ حمزہ بن سید شاہ آلِ محمد بن حضور صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ بن سید شاہ اویس بن سید شاہ عبدالجلیل بن سید شاہ عبدالواحد بلگرامی بن سید شاہ ابراہیم بن سید شاہ قطب الدین بن سید شاہ ماہرو … الخ (علیہم الرحمۃ والرضوان) (صاحبِ عرس قاسمی، ص 10)

 تعلیم و تربیت: 

مجددِ برکات حضرت شاہ ابوالقاسم کی رسمِ بسم اللہ شریف خوانی حضرت خاتم الآکابر سید شاہ آلِ رسول احمدی نے ادا فرمائی۔ اس کے بعد آپ متعدد جید اساتذہ کرام کے زیرِ تعلیم رہے۔ حضرت تاج العلماء کے بیان کے مطابق آپ نے مولوی عبدالشکور صاحب مہامی ابن شاہ عبدالغنی صاحب بن شاہ رمضان صاحب، مولوی محمد علی صاحب لکھنوی، مولوی محمد حسن صاحب سنبھلی، مولانا شاہ عبدالقادر صاحب بدایونی رحمۃُ اللہ تعالیٰ علیہ، اور مولوی فضل اللہ صاحب فرنگی محل سے علومِ درسیہ مروّجہ پڑھے۔ نیز حافظ ولی داد خاں صاحب مارہروی، حافظ قادر علی صاحب لکھنوی اور حافظ عبد الکریم صاحب ملکپوری سے قرآن شریف حفظ کیا۔ 

(تاریخِ خاندانِ برکات) قرآنِ مجید آپ نے 30 سال کی عمر میں اپنے ذوق و شوق سے حفظ فرمایا، جس کی خوشی میں آپ کے والدِ ماجد حضرت سید شاہ محمد صادق نے سیتاپور میں ایک مسجد تعمیر فرمائی۔

[ خانقاہی اخلاق اور شخصیت کا پرتو: 

حضرت سید شاہ ابو القاسم بچپن سے ہی بزرگوں کے نقشِ قدم پر گامزن تھے۔ بزرگوں خصوصاً والدِ ماجد کی تربیت اور نگاہِ کرم نے آپ کے جوہرِ ذاتی کو یوں چمکایا کہ آنے والے دنوں میں دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ شہزادہ خاندانِ نبوت کا وارث ہے۔ آپ اپنے اکابر کی شاندار روایات کے پاسبان ثابت ہوئے اور جو خاندانی قدریں زمانے کی دبیز تہوں میں گم ہو رہی تھیں، انہیں آئینہ کر کے زمانے کے سامنے پیش کر دیا۔ خاندانی پس منظر: آپ کے جدِّ اعلیٰ سید علی عراقی رضی اللہ عنہ ترکِ وطن فرما کر قریہ "واسطہ" میں تشریف لائے اور قیام فرمایا۔ یہ قریہ عراقِ عجم اور عراقِ عرب کے درمیان واقع ہے۔ حضرت سید علی عراقی کے احفاد میں سے حضرت ابوالفرح واسطی اپنے چار صاحبزادوں کے ساتھ سلطانِ غزنوی کے زمانے میں واسطہ سے غزنی تشریف لائے۔ 

اخلاص و اوصاف، خانقاہی تربیت: 

حضرت سید شاہ ابو القاسم اسمعیل حسن شاہ جی میاں علیہ الرحمہ سادہ طبیعت، پرخلوص اور ہمدرد بزرگ تھے۔ دین و سنیت پر استقامت، اکابر کی روایات کا احترام و تحفظ، اعتدالِ فکر اور ثباتِ عمل آپ کی بنیادی خوبیاں تھیں۔ آپ علم پروری، صاف معاملگی، جرأت مندی، خاندانی روایات کو اخلاق تک پہنچانے میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے۔ دنیاوی رعب بالکل قبول نہ کرتے تھے۔ آپ کو آثار و تبرکات سے خصوصی دلچسپی تھی۔ 1300ھ میں حجِ بیت اللہ سے مشرف ہو کر جب واپس تشریف لائے تو مدینۂ طیبہ سے عجوہ کھجور کا بیج ساتھ لائے اور حویلی کے صحن میں لگایا۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ کھجور کا یہ مبارک درخت آج بھی موجود ہے، جس کی عمر 126 برس ہو چکی ہے۔ ہمدردانہ طبیعت کا ایک واقعہ: حضرت شرفِ ملت نے بیان فرمایا: ایک مرتبہ مجددِ برکات حضرت ابو القاسم حاجی نانا کے چچا میر سید محمد جعفر قدس سرہٗ کا پاندان کسی زمیندار نے شرارت سے غائب کر دیا۔ حضرت جعفر سیدھے سادھے بزرگ تھے۔ جب حضرت شاہ قاسم کو اس شرارت کا علم ہوا تو فرمایا: “اس کم بخت کی شرارت کو لگام دینا ضروری ہے۔” دوسرے دن زمیندار شاہ قاسم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: "حضور! راتوں رات کسی نے میرا رتھ بیلوں سمیت غائب کر دیا۔" آپ نے فرمایا: "پاندان مل جائے گا تو رتھ بھی واپس آ جائے گا۔" وہ تیزی سے گھر گیا اور فوراً پاندان لے کر حاضر ہو گیا۔ حضرت نے فرمایا: "گھر جاؤ، تمہارا رتھ بھی واپس آ گیا ہوگا۔" واپس آکر دیکھا تو واقعی رتھ اس کے دروازے پر کھڑا تھا۔ (صاحبِ عرس قاسمی، ص 17)

 بیعت و خلافت:

 حضرت سید شاہ ابو القاسم کو بیعت و خلافت اپنے نانا سید شاہ غلام محی الدین امیر عالم قدس سرہٗ سے حاصل تھی۔ آپ کے والدِ ماجد سید شاہ محمد صادق، سرکارِ نور سید شاہ ابو الحسین احمد نوری، سید شاہ ظہور حسین چھوٹے میاں اور مولانا شاہ عبدالقادر بدایونی قدست اسرارہم نے بھی اپنی خلافتوں سے نوازا۔ (صاحبِ عرس قاسمی، ص 18) علمی و دینی خدمات: حضرت شاہ ابو القاسم نے دین و علم کی متنوع خدمات انجام دیں۔ تدریس، تبلیغ، تصنیف، ارشاد و ہدایت اور خدمتِ خلق، سبھی شعبے آپ کی توجہ سے سرفراز رہے۔ آپ کی تدریسی خدمات خانقاہی مدرسے تک محدود نہ رہیں بلکہ آپ تبلیغ کے لیے دور دراز علاقوں میں بھی تشریف لے گئے۔ اعلیٰ حضرت کی محبت و حمایت: خانوادۂ برکاتیہ امام احمد رضا قدس سرہٗ کا پیر خانہ تھا۔ اعلیٰ حضرت اس خاندان کے افراد سے عقیدت مندانہ رشتہ رکھتے تھے۔ اسی طرح اس خاندان کے مشائخ اور معاصرین بھی اعلیٰ حضرت کو حد درجہ چاہتے تھے۔ آپ کے ہر فتوے پر دل و جان سے سرِ تسلیم خم کرتے اور ان کی ہر تحریر کو حرزِ جان بناتے تھے۔ اگر امام احمد رضا کے خلاف کوئی زبانِ طعن کھولتا تو بروقت سخت گرفت فرماتے۔ حضرت سید شاہ ابو القاسم مارہروی علیہ الرحمہ بھی اس سلسلے میں بڑے حساس تھے۔ مفاضاتِ طیبہ کے اوراق میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔ (سیدین نمبر، ص 290) وصال: آپ کا وصال یکم صفر المظفر 1347ھ مطابق جولائی 1928ء کو ہوا۔ مرقدِ انور مارہرہ مطہرہ (انڈیا) میں ہے۔ اللہ عزوجل ہمیں حضرت مجددِ برکاتیت سید شاہ ابو القاسم محمد اسمعیل حسن شاہ جی میاں قدس سرہٗ کی سیرتِ طیبہ سے حقیقی سبق سیکھنے اور آپ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ 

 محمد صادق الاسلام متعلم: جماعت، رابعہ دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، اترپردیش،یوپی

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383