نیپال کے صدر نے آئینی کونسل سے متعلق آرڈیننس کو منظوری دی
کاٹھمانڈو:(نیپال اردو ٹائمز)
نیپال کے صدر رام چندر پوڈیل نے منگل کو آئینی کونسل کے آرڈیننس کو منظوری دے دی۔ حکومت نے صدر سے آرڈیننس کی دوبارہ سفارش کی تھی۔
اس سے قبل صدر مملکت نے حکومت کی طرف سے تجویز کردہ آٹھ میں سے سات آرڈیننس کی منظوری دی تھی تاہم آئینی کونسل سے متعلق آرڈیننس کو دوبارہ غور کے لیے واپس کر دیا گیا تھا۔ پیر کی وزراء کونسل کے اجلاس میں کسی تبدیلی کے بغیر اسی آرڈیننس کو دوبارہ جاری کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ آئینی کونسل کے اجلاس کو مکمل تصور کیا جائے گا اگر چار اراکین موجود ہوں، اور فیصلے موجود اراکین کی اکثریت کے ووٹ سے کیے جا سکیں گے۔وزیر اعظم کی سر براہی میں بننے والی آئینی کونسل چھ ممبران پر مشتمل ہوتی ہے ۔ اس میں وزیر اعظم، اہم اپوزیشن پارٹی کے رہنما، چیف جسٹس، ایوان نمائندگان کے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور قومی اسمبلی کے اسپیکر
شامل ہوتے ہیں نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے بھی صدر کو ایک خط لکھ کر آرڈیننس جاری کرنے کی اپیل کی تھی۔ تاہم، اسسے پہلے صدر کی دلیل تھی کہ آئین میں آئینی کونسل کے فیصلے کیلئے اکثریتی نظام کا تصور کیا گیا ہے جبکہ آرڈیننس اس اصول سے ہٹ کر آیا ہے ۔ آرڈیننس کو واپس کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ پارلیمنٹ سے منظور شدہ بل پہلے بھی واپس آچکے ہیں۔
وزیر اعظم کے بعد میں صدر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ فوری بحالی کے الفاظ کو ہٹا دیا گیا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کونسل کا اجلاس اسی وقت ہو سکتا ہے جب تمام اراکین کو بحال کیا جائے۔کورم کے لیے کم از کم چار ارکان کی موجودگی لازمی ہے۔
قبل ازیں صدر نے دلیل دی تھی کہ ایسی صورت حال جہاں چھ رکنی آئینی کونسل میں صرف تین ارکان ہی فیصلہ کر سکتے ہیں یا کونسل کے عہدے خالی ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر اعظم نے واضح کیا کہ موجودہ آرڈیننس میں ایسی صورتحال کا تصور نہیں کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم کے مطابق، کونسل کا اجلاس صرف اس صورت میں ہو سکے گا جب تمام چھ ممبران عہدے پر ہوں گے۔ آرڈیننس میں اس صورتحال کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے جہاں کسی رکن کا عہدہ خالی ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر تمام اراکین دفتر میں ہیں لیکن حاضر نہیں ہیں تو اجلاس کے لیے مطلوبہ کورم کا تعین کر دیا گیا ہے۔
اب، اگر چھ میں سے چار اراکین موجود ہوتے ہیں تو اسے مکمل کورم سمجھا جائے گا، اور موجود اراکین کی اکثریت یعنی کم از کم تین- سے فیصلہ لیا جا سکے گا۔
چونکہ کونسل کے کل چھ ارکان ہیں (ایک مساوی تعداد) اس لیے کسی فیصلے میں برابری ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت حال میں، اگر تین تین ووٹ ہو جائیں تو کونسل کے چیئر مین( وزیراعظم) کے موقف کو اکثریت سمجھا جائے گا- اس طرح کا انتظام ضروری قرار دیا گیا ہے۔
وزیراعظم کا مو قف ہے کہ اگر اتفاق رائے ممکن نہ ہو تو اکثریت سے فیصلہ لینا مناسب ہے، اس لیے یہ قانونی شق شامل کی گئی ہے۔
حکومت کے مطابق آرڈیننس میں درج معاملات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے دوبارہ غور کے بعد بھی اسی شکل میں جاری کرنا ضروری سمجھا گیا۔ اس لیے وزراء کونسل کے فیصلے کے مطابق وزیراعظم نے اسے اسی شکل میں جاری کرنے کی سفارش کی۔
