Mar 24, 2026 04:59 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
نیپال میں جمہوریت کا بحران اور مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت

نیپال میں جمہوریت کا بحران اور مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت

12 Feb 2026
1 min read

نیپال میں جمہوریت کا بحران اور مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت

راشد سيف اللہ مدینہ منورہ

   جمہوریت کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ ریاست کے تمام شہری بلا تفریقِ مذہب، نسل اور زبان یکساں حقوق، تحفظ اور عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں، جمہوری نظام میں آئین صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ مختلف طبقات کے درمیان اعتماد، رواداری اور باہمی ہم آہنگی کا ضامن ہوتا ہے، نیپال جیسے کثیرالمذاہب اور کثیرالقومی ملک میں جمہوریت کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب سماج کے تمام طبقات خود کو برابر کا شہری محسوس کریں اور ریاست سب کے لیے ایک جیسا رویہ اختیار کرے، مگر افسوس کہ حالیہ برسوں میں نیپال میں جمہوریت اور سماجی ہم آہنگی کے درمیان یہ مضبوط رشتہ کمزور پڑتا جا رہا ہے اور اس کے سب سے زیادہ منفی اثرات مسلمان اقلیت پر مرتب ہو رہے ہیں۔

  گزشتہ کچھ عرصے سے نیپال کے سیاسی اور سماجی منظرنامے میں ایک تشویشناک رجحان ابھر کر سامنے آیا ہے جہاں بعض بڑے سیاسی نیتا اور ہندو شدت پسند عناصر سرِعام مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال کر رہے ہیں، یہ زبان محض تنقید تک محدود نہیں بلکہ مسلمانوں کو نیچا دکھانے، انہیں غیرمفیداور مشکوک ثابت کرنے کی دانستہ کوشش پر مبنی ہے، خاص طور پر حالیہ دنوں میں کچھ شدت پسند عناصر کی جانب سے جھوٹے اور تحقیر آمیز القابات کے ذریعے نیپالی مسلمانوں کو بنگالیشی اور روہنگیا کہ کر مخاطب کیا جانا ایک نہایت خطرناک پہلو ہے، کیونکہ اس کا مقصد مسلمانوں کو “غیر ملکی” یا “غیر ضروری بوجھ” کے طور پر پیش کرنا ہے، اس طرح کا بیانیہ نہ صرف مسلمانوں کی عزتِ نفس کو مجروح کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے میں گہری تقسیم کو جنم دیتا ہے۔

   یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو جاتی ہے جب ریاست اور حکومت ایسے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام نظر آتی ہے، جمہوری نظام میں نفرت انگیز تقاریر اور مذہبی منافرت پھیلانے والوں کو قانون کے تحت روکنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے، مگر نیپال میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والوں کی زبان بند نہیں کی جا رہی اور نہ ہی حکومت ان پر مضبوط گرفت قائم کر پا رہی ہے، اس ریاستی کمزوری کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ نفرت پھیلانے والوں کا حوصلہ بڑھتاجا رہا ہے اور مسلمان خود کو مزید غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔

   اسی نفرت انگیز فضا کا عملی اظہار مساجد میں توڑ پھوڑ، مذہبی علامات کی بے حرمتی اور ہندو تہواروں کے مواقع پر مسلمانوں کو جان بوجھ کر ٹارگٹ کیے جانے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے، بعض مقامات پر تہواروں کو فساد کا ذریعہ بنا کر مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ حالات خراب ہوں اور الزام بھی انہی پر ڈال دیا جائے، یہ سب کچھ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم سوچ کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کا مقصد سماج کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنا اور مسلمانوں کو خوف کے ماحول میں جینے پر مجبور کرنا ہے، اگر یہی روش جاری رہی تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہوں گے، مسلمان رفتہ رفتہ سیاسی اور سماجی طور پر کمزور ہوتے چلے جائیں گے، ان کے آئینی 

حقوق پامال کیے جائیں گے اور مذہبی آزادی صرف کاغذی دعویٰ بن کر رہ جائے گی، جمہوریت، جو ہر شہری کے تحفظ اور بقا کی ضمانت ہوتی ہے، اکثریتی غلبے کا ہتھیار بن جائے گی، اور سماجی ہم آہنگی کی جگہ بداعتمادی، نفرت اور تصادم لے لیں گے، یہ صورتحال صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پورے نیپال کے مستقبل کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ جب کسی ایک طبقے کے حقوق پامال ہوتے ہیں تو دراصل پورے جمہوری ڈھانچے کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔

   حقیقی جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ ریاست ہر قسم کی مذہبی نفرت کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرے، آئین کو عملی طور پر بالادست بنائے اور سماج میں باہمی احترام اور رواداری کو فروغ دے، اگر نیپال اپنی جمہوری شناخت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے یہ سمجھنا ہوگا کہ مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کا تحفظ کوئی احسان نہیں بلکہ ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، بصورتِ دیگر یہ بحران مزید گہرا ہوگا اور نیپال جمہوریت کے نام پر ایک منقسم اور غیر محفوظ معاشرے کی شکل اختیار کر لے گا۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383