May 10, 2026 04:43 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
سید شاہ مصطفیٰ علی شہید سبز پوش علیہ الرحمہ

سید شاہ مصطفیٰ علی شہید سبز پوش علیہ الرحمہ

07 May 2026
1 min read

سید شاہ مصطفیٰ علی شہید سبز پوش علیہ الرحمہ

خانقاہِ رشیدیہ کے افکار و معارف کے جامع و کامل ترجمان

از: 

مفتی قاضی فضل رسول مصباحی

برصغیر کی علمی و روحانی تاریخ میں خانقاہِ رشیدیہ ایک ایسے درخشاں مینار کی حیثیت رکھتی ہے جس کی بنیادیں اخلاص، علم، عمل اور دعوت کے سنگِ گراں سے استوار کی گئی ہیں۔ یہ محض ایک خانقاہ نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت فکری و اصلاحی تحریک کا مرکز رہی ہے، جہاں شریعت و طریقت کا حسین امتزاج ایک زندہ حقیقت کی صورت میں جلوہ گر ہے۔ اس سلسلۂ عالیہ کے مشائخِ کرام نے تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب اور احیاءِ سنت کے ساتھ ساتھ علمی میدان میں بھی وہ گراں قدر نقوش چھوڑے ہیں جو رہتی دنیا تک اہلِ علم کے لیے چراغِ راہ رہیں گے۔ ان کی تصانیف اعتقادی استحکام، فقہی بصیرت اور روحانی گہرائی کا حسین مرقع ہیں۔

اسی زرّیں سلسلے کی ایک نہایت درخشاں کڑی حضرت سید شاہ مصطفیٰ علی شہید سبز پوش علیہ الرحمہ کی ذاتِ بابرکات ہے، جو اپنے والدِ گرامی حضرت سید شاہ شاہد علی سبز پوش رحمہ اللہ کے سچے وارث، جانشینِ اکبر اور خانقاہِ رشیدیہ کے نویں سجادہ نشین تھے۔ آپ ایک جامع الصفات ہستی، صاحبِ کشف و کرامت، اور عارفِ کامل تھے، جن کی زندگی علم و عمل، زہد و ورع، اور دعوت و جہاد کا حسین امتزاج تھی۔ آپ نے حرمِ مکہ کے معروف علمی مرکز مدرسہ صولتیہ سے علومِ دینیہ کی تکمیل فرمائی، جہاں سے آپ نے نہ صرف ظاہری علوم میں دسترس 

حاصل کی بلکہ باطنی فیوض و برکات سے بھی اپنی روح کو منور کیا۔ آپ کی شخصیت ایک ایسے داعیِ حق کی تھی جس کے اقوال میں تاثیر اور اعمال میں اخلاص کی جھلک نمایاں تھی، اور یہی اوصاف آپ کو اپنے عہد کے ممتاز مصلحین میں ممتاز کرتے ہیں۔

مفتی قاضی فضل رسول مصباحی نے اپنے ایک نہایت بصیرت افروز پریس بیان میں ان تاریخی و علمی حقائق کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت سید شاہ مصطفیٰ علی سبز پوش علیہ الرحمہ نے فراغت کے بعد بہار کے خطۂ چمپارن کو اپنی دعوتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ وہاں آپ نے نہایت حکمت، تدبر اور استقامت کے ساتھ باطل افکار و نظریات کا تعاقب کیا اور اپنی پراثر دعوت و تبلیغ سے ضلالت کے اندھیروں کو نورِ ہدایت میں بدل دیا۔ آپ کی مساعیٔ جمیلہ کا یہ اثر ہوا کہ ہزاروں افراد حلقۂ حق میں داخل ہوئے اور ایک وسیع طبقہ آپ کی شرعی و روحانی رہنمائی سے فیضیاب ہو کر راہِ راست پر گامزن ہوا۔

بالآخر یہ مردِ مومن، جو افکارِ رشیدیہ کا جیتا جاگتا پیکر تھے، ۱۸ ذیقعدہ ۱۳۷۸ھ مطابق ۱۱ جولائی ۱۹۵۸ء کو گورکھپور میں جامِ شہادت نوش کر کے اپنے ربِّ کریم سے جا ملے۔ آپ کا مزارِ اقدس جونپور کے رشیدآباد میں آج بھی مرکزِ انوار و تجلیات ہے، جہاں سے اہلِ دل آج بھی فیض یاب ہو رہے ہیں۔ مفتی صاحب نے مزید فرمایا کہ اس خانوادۂ علمی و روحانی کی عظمت کا اعتراف اپنے عہد کے جلیل 

القدر علماء، ملک العلماء علامہ ظفرالدین بہاری اور افضل العلماء مفتی قاضی سمیر الدین احمد رشیدی علیہما الرحمہ جیسی عبقری شخصیات نے بھی کیا ہے۔ اس سلسلے کے ادبی و شعری کمالات کا یہ عالم ہے کہ اساتذۂ فن—غالب و ناسخ—جیسے نامور شعراء بھی ان کے ذوقِ سخن پر رشک کرنے پر مجبور نظر آتے ہیں۔

بانیٔ خانقاہِ رشیدیہ حضرت شیخ محمد رشید علیہ الرحمہ کی شہرۂ آفاق تصنیف “مناظرہ رشیدیہ” (شرحِ شریفیہ) آج بھی مدارسِ اسلامیہ کے نصاب میں شامل ہو کر اس علمی روایت کے دوام کی دلیل ہے۔ مزید برآں “گنجِ رشیدی”، “گنجِ ارشدی”، “گنجِ فیاضی”، “کراماتِ فیاضی”، “مناقب العارفین”، “سمات الاخیار”، “عین المعارف” اور “دیوانِ فانی” جیسی معرکہ آرا کتب اس سلسلۂ عالیہ کے علمی جلال و جمال کی روشن علامتیں ہیں۔

آج بھی خانقاہِ رشیدیہ کے مراکز رشد و ہدایت کے ایسے سرچشمے ہیں جہاں سے تشنگانِ معرفت سیراب ہوتے اور طالبانِ حق کو سکونِ قلب نصیب ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ اپنی علمی سنجیدگی، روحانی گہرائی اور دعوتی بصیرت کے ساتھ عصرِ حاضر میں بھی ایک مؤثر اور زندہ روایت کی حیثیت رکھتا ہے۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حضرت سید شاہ مصطفیٰ علی شہید سبز پوش علیہ الرحمہ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے

آمین یا رب العالمین۔

www.nepalurdutimes.com 

 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)