Feb 7, 2026 06:11 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
عصرِ حاضر میں اعتقادی استحکام: تین بنیادی کتب کی معنویت۔

عصرِ حاضر میں اعتقادی استحکام: تین بنیادی کتب کی معنویت۔

25 Dec 2025
1 min read

عصرِ حاضر میں اعتقادی استحکام: تین بنیادی کتب کی معنویت۔

از قلم:محمد قمرالزماں علیمی یار علوی ثنائی اشرفی دارالعلوم فیضانِ ملک العلماء نرنکاری نگر گونڈی ممبئ

عصرِ حاضر فکری انتشار، اعتقادی ابہام اور ذہنی پراگندگی کا دور ہے۔ سوشل میڈیا کی یلغار، سطحی مذہبی بیانیے اور خودساختہ فکری قیادت نے جہاں نئی نسل کو سوال کرنے کا حوصلہ دیا ہے، وہیں درست جواب تک رسائی مشکل بنا دی ہے۔ ایسے ماحول میں امت کو جن فکری ستونوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ صحیح عقیدہ، مضبوط استدلال اور علمی توازن ہیں۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں ’المعتقد المنتقد‘، ’المعتمد المستند‘ اور ’شرح العقائد النسفیہ‘ جیسی کتب کی افادیت دوچند ہو جاتی ہے۔

’المعتقد المنتقد‘ اس دور کی ایک فوری ضرورت ہے، کیونکہ یہ کتاب دین کے نام پر پھیلنے والی فکری گمراہیوں پر علمی گرفت قائم کرتی ہے۔ آج جب ہر نیا خیال “اصلاح” اور ہر اختلاف “تجدد” کہلاتا ہے، یہ کتاب قاری کو یہ شعور عطا کرتی ہے کہ عقیدے میں اصل معیار نصوصِ شرعیہ اور فہمِ سلف ہیں، نہ کہ شخصی آرا۔ یہ تصنیف ہمیں سکھاتی ہے کہ اختلاف اور انحراف میں فرق کیسے پہچانا جائے۔اور یہی فرق عصرِ حاضر میں سب سے زیادہ مٹ چکا ہے۔

دوسری جانب ’المعتمد المستند‘ جدید ذہن 

سے مکالمہ کرتی ہے۔ آج کا تعلیم یافتہ نوجوان محض روایت سن کر مطمئن نہیں ہوتا؛ وہ دلیل چاہتا ہے۔ یہ کتاب ثابت کرتی ہے کہ اہلِ سنت کے عقائد نہ صرف شرعی بنیاد رکھتے ہیں بلکہ عقلی طور پر بھی مضبوط اور مربوط ہیں۔ الحاد، تشکیک اور سائنسی اعتراضات کے شور میں یہ کتاب ایمان کو جذباتی وابستگی سے نکال کر مدلل یقین کی سطح تک لے جاتی ہے۔اور یہی یقین فکری خود اعتمادی پیدا کرتا ہے۔

جب بات فکری گہرائی اور منہجی ترتیب کی آتی ہے تو ’شرح العقائد النسفیہ‘ آج بھی اپنی مثال آپ ہے۔ یہ محض ایک قدیم شرح نہیں بلکہ علمِ کلام کا ایسا مربوط نظام ہے جو قدیم فلسفیانہ شبہات کے ساتھ ساتھ جدید فکری اعتراضات کا بھی جامع جواب فراہم کرتا ہے۔ مادیت، نیچریت اور مذہبی شکوک۔یہ سب نئے نام ہیں، سوالات وہی پرانے ہیں؛ اور ان کے جوابات اس شرح میں آج بھی تازگی کے ساتھ موجود ہیں۔اجتماعی طور پر دیکھا جائے تو یہ تینوں کتب عصرِ حاضر میں اعتقادی مثلث کی حیثیت رکھتی ہیں:

تنقیدِ باطل (المعتقد المنتقد)،

تحقیقِ حق (المعتمد المستند)،

اور تشریح و تحکیم (شرح العقائد النسفیہ)۔

یہ کتب ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ عقیدہ نہ نعرہ ہے، نہ موروثی فخر۔بلکہ ایک علمی ذمہ داری ہے۔ اگر مدارس، جامعات اور دینی حلقے ان کتب کو محض نصابی حوالہ نہیں بلکہ فکری رہنما کے طور پر اپنائیں، تو یقیناً امت کا اعتقادی مستقبل زیادہ محفوظ اور باوقار ہو سکتا ہے۔آخر میں یہی کہنا بجا ہے کہ:  فتنوں کے دور میں عقیدہ بچانے کے لیے شور نہیں، شعور درکار ہوتا ہے۔اور یہ شعور ایسی ہی کتابوں سے پیدا ہوتا ہے۔

از قلم۔،۔محمد قمرالزماں علیمی یار علوی ثنائ اشرفی دارالعلوم فیضانِ ملک العلماء نرنکاری نگر گونڈی ممبئ

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383